تازہ ترینکالممحمد جاوید اقبال

کیا ہمارے یہاں صحت مند سیاست ہو رہی ہے؟

m javid iqbalکیا ہمارے یہاں صحت مند سیاست ہو رہی ہے؟کہ موضوع کا آغاز میں اس شعر سے کرنا چاہوں گا تاکہ مضمون کا خلاصہ مضمون کے ابتداء ہی میں واضح ہو سکے :
کوئی سیاسی جماعت ہو کوئی لیڈر ہو
ہمیں تو سب ہی بڑے غیر معتبر سے لگے
ہیں آزمودہ یہ سارے یہ سب ہیں بوسیدہ
خدا کرے کوئی تازہ ہوا شجر سے لگے
سیاست کے بارے میں عام بحثوں اور میڈیا کے ٹاک شو میں روزآنہ ہی یہ دلیل دی جاتی رہی ہے کہ سب جماعتوں کے لوگ متفق اور اکٹھے ہو جائیں تو دنیا کی کوئی طاقت اس کے آگے کھانس بھی نہیں سکتی۔ مگر یہ تصور ہمارے یہاں سیاست میں تخیلاتی لگتا ہے۔ موازنے سے بحث کو پھیلاتے ہیں کہ اسرائیل کے حوالے سے عموماً بات کی جاتی ہے کہ ایک بالشت برابر ریاست نے اتنے بڑے بڑے ملکوں کو بے بس کر کے رکھا ہوا ہے۔ پھر دُکھڑے کے طور کوئی کہتا ہے کہ دراصل مڈل ایسٹ میں بادشاہت ہے اور سارے بادشاہ اور امیر امریکہ کے ہاتھ بِکے ہوئے ہیں شاید اس لئے اتحاد نہیں ہو پاتا۔ اور ہم اپنے اندر اگر جھاکیں تو ایسا محسوس ہوگا کہ ہمارے اندر اسلام سے لگاؤ ختم ہو چکا ہے اس لئے ایمان کی کمزوریہم لیڈران کو متحد نہیں ہونے دیتی۔اور یہ بھی واضح ہے کہ اُمتِ اسلامیہ بشمول پاکستانیوں کے تقاضوں کی اہمیت کو نہیں سمجھتے۔ اس لئے آج ہم دنیا میں نہ صرف کمزور ہیں بلکہ چھوٹی سی مگر طاقتور ترقی یافتہ اقلیتی دنیا کی انگلیوں پر ناچتے رہتے ہیں۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہم سب آزاد ملک میں رہ رہے ہیں؟ خواہش ہے کہ ہم پاکستانی چاہے وہ عوام کے روپ میں ہوں یا لیڈران کے روپ میں آزادی کے ساتھ ایک قوم اور متحد ہو کر رہیں مگر وہ دن کب آئے گا اس پر تجزیہ بیکار ہے کیونکہ ہم سب بمعہ لیڈروں کے ابھی تک ٹکڑوں میں بٹے ہوئے ہیں۔
پاکستان میں بیدار مغز، اصحابِ فکر و دانش سے وابستہ افرادسیاست اور سیاست کے مکینوں پر غور و فکر اور تجزیاتی پروگرام تو بہت کرتے ہیں اور اس کی اہمیت کو بھی اُجاگر کرتے رہتے ہیں مگر مخلص سیاست کس طرح کی جاتی ہے کبھی اس پر کوئی پروگرام نہیں کرتے۔ ہمارے یہاں جو سیاست ہے اس کا لبِ لباب صرف اُجاگر ہوتا ہے کہ دن سے لیکر رات تک کوئی نہ کوئی ٹی وی پروگراموں میں شامل ہوکر ایک دوسرے پر الزام تراشی اور ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہہ کر اپنے دل کا بھڑاس تو نکال لیتے ہیں مگر عوام کو کسی موضوع کے پروگراموں پر کوئی Result Diliverنہیں کرتے ۔ اس تناظر میں آج ہم اپنے معاشرے پر نگاہ ڈالتے ہیں تو یہی صورتحال نظر آتی ہے کہ روز بروز جرائم کا گراف بڑھتا ہی جا رہا ہے اور عوام پستی کی قبر میں گِرتی جا رہی ہے۔ بڑ ے بڑے اسکینڈل ہمارے ملک میں بنتے رہے ہیں اور پھر سب کے سب پتہ نہیں کس کس طرح بَری بھی ہو جاتے ہیں۔ اور ملک کا جو پیسہ ہڑپ ہوتا رہا ہے وہ بھی ملکی خزانے میں واپس نہیں آتا۔ اس بے راہ روی کے ماحول کو نہ صرف ختم کرنا ہوگا بلکہ آئندہ عوام کو نیک، مخلص اور صاف دامن قیادت کو سامنے لانا ہوگا ، جنہیں آزما چکے ہیں ان کو آزمانے کی دوبارہ کوشش بھی عوام کے لئے زہرِ قاتل ہوگا۔
ہمارے یہاں سیاسی لوگوں میں سیاسی اختلافات بہت زیادہ ہے ۔ جس کی وجہ سے کسی پارٹی میں بھی صحیح طرح سے دوستی نہیں ہے۔ ہر کوئی ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں اپنا وقت برباد کر رہا ہے۔ ملک میں بلوچستان کو لے لیں تو وہاں خانہ جنگی کی کیفیت ہے، کراچی کو لیں تو روزآنہ دس سے بارہ افراد لقمۂ اجل بن رہے ہیں، اور ملک بھر میں اغواء برائے تاوان کا کاروبار عروج پر ہے، اداروں کی بات کریں تو ریلوے کو لے لیں کرایہ دُگنا اور عوامی سہولت ناپید،لوگ چوبیس چوبیس گھنٹے لیٹ اپنے منزلِ مقصود پر پہنچ رہے ہیں، پاکستان ایئر لائین کو لے لیں، وہاں خسارہ ہی خسارہ نظر آئے گا، اور پروازیں اتنی لیٹ کہ لوگ اپنی ایئر لائین کو چھوڑ کر دوسرے ایئر لائینوں میں سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ اس کی ایک اور خاص وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ اب اپنی ایئر لائین پر سفر کرتے ہوئے ڈرنے بھی لگے ہیں کیونکہ اکثر اوقات خرابی کا عنصر بہت زیادہ نمایاں ہوتا جا رہا ہے،اپنی کرنسی کی بات کریں تو نتیجہ صفر پر ختم ہوتا ہے کیونکہ ڈالر اب ماشاء اللہ سے سو روپئے کو پہنچنے والا ہے۔ بجلی اور گیس کی بات کی جائے تو سوائے لوڈ شیڈنگ کے عوام کو اور کچھ نہیں مل رہا اور سونے پہ سہاگہ کہ بلوں کے مَد میں عوام کو نچوڑا جا رہا ہے۔ بنیادی ضروریات کی چیزوں کا پانچ سال پہلے کے ریٹ لسٹ اور آج کے ریٹ لسٹ سے موازنہ کیا جائے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ نہ صرف یہ ریٹس دُگنا بلکہ تین گُنے کو پھلانگ رہا ہے۔ ایسے میں ہمارے لیڈران کو ایک پلیٹ فارم پر متفق ہونے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ان سب خامیوں کا ازالہ کر سکیں نہ کہ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے اور آج کی حکومت پچھلی حکومت پر الزام ڈال کر اپنا دامن صاف بتانے پر مضر رہیں۔
اگر واقعی ہم اپنے ملک اور اپنے عوام سے مخلص ہیں تو خدارا ایک ہو جایئے تاکہ ہماری آنے والی نسلیں آپ کو کم از کم اچھے الفاظوں میں یاد تو رکھ سکیں، ایک لیڈر کی طرح، ایک مدبر کی طرح، ایک اچھے سیاستدان کی طرح۔ اب اپنے نظریہ میں تبدیلی لانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم قائد اعظم کے بنائے ہوئے آزاد اور اسلامی مملکت کے باسی ہیں اور ان کے بنائے ہوئے پاکستان کی حفاظت ، اور یہاں بسنے والے لوگوں کی خیر خواہی اور ان کی ترقی آپ کی ہی ذمہ داری ہے۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اکثر و بیشتر میڈیا پر بیٹھ کر ہماری پارٹیاں ایک دوسرے کی دشمنی پر اس طرح انگلی اٹھاتی رہی ہیں کہ لگتا ہے کہ اب وہیں ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑیں گے، ایسے ڈیبیٹ کرنے والے ممبران پر لیڈروں کو چاہیئے کہ کنٹرول کریں تاکہ میڈیا کے ذریعے دنیا بھر میں نشر ہونے والے پروگراموں کو دیکھ کر دوسرے ملک والے ہم پر انگلی نہ اٹھائیں، اور نہ ہی ہم پر ہنسیں، پاکستان اس وقت فرقہ پرستی، نسلی اور سیاسی تشدد کی گرفت میں ہے، یہاں کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب مسجدوں، امام بارگاہوں، درگاہوں، اسکولوں، میڈیا والوں،پولیس اور سیکوریٹی اہلکاروں کو نشانہ نہ بنایا جاتا ہواور خود کش حملے نہ کئے جاتے ہوں، ہمارے حساس ادارے بھی اب محفوظ نہیں رہے پشاور کے ایئر پورٹ پر راکٹ کے ذریعے حملے ، کراچی بیس پر حملہ اور اسی طرح کے کئی اور دوسرے حملے بھی قابلِ ذکر ہیں جو ہو چکے ہیں، پورے ملک میں قانونی اور غیر قانوں ہتھیار وں کی موجودگی لمحۂ فکریہ ہے ،ایسے میں ہم سب اگر بٹے رہے تو ہمارا مستقبل کہاں ہوگا، خدارا ہوش کے ناخن لیجئے ، اب بھی وقت ہے ، ابھی سب کچھ آپ کے ہاتھوں میں ہے ، ایک ہوجایئے اور ایک ہوکر قوم کی خدمت کا بیڑہ اٹھایئے تاکہ دنیا ہمیں فخر کی نگاہ سے دیکھنے پر مجبور ہو جائے۔

یہ بھی پڑھیں  لاہورہائیکورٹ میں 26 سیاست دانوں کے اثاثے وطن واپس لانے کی درخواست سماعت کیلئے منظور

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker