امتیاز علی شاکرتازہ ترینکالم

کیا ہم سب معذورہیں؟

معذور ی محتاجی کا دوسرا نام ہے۔ اللہ کسی دشمن کو بھی اپنی ذات کے سوا کسی کا محتاج نہ کرے ،ہر حالت میں صبروشکر کی توفیق وطاقت عطا کر کے اپنے ہی در کا سوالی بنائے رکھے(آمین) دسمبر معذورافراد کا عالمی دن ،اس دن کو منانے کا آغاز دوسری جنگ عظیم کے بعد دوران جنگ معذور ہونے والوں کے ساتھ ہمدردی ،دلجوئی اور ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر کیا گیا ۔بعدازاں اس دن کو معذوروں کی بجائے خصوصی افراد کے عالمی دن کا نام دے دیاگیا ۔ہمیشہ کی طرح مجھے اس سال بھی اس دن کو خصوصی طور پر منانے میں کوئی دلچسپی نہ تھی کیونکہ میں کسی بھی انسانی رشتے کو صرف ایک دن میں قید کرنے کاحامی نہیں ہوں ۔راقم کا خیال ہے کہ کسی انسانی رشتے کوایک دن میں قید کرنے کامطلب ہمدردی،دلجوئی اور اظہار یکجہتی تو ہوسکتا ہے لیکن برابری اورمحبت ہرگزنہیں اور جب تک دوسروں کو اپنے برابر کا انسان نہ سمجھا جائے توکسی بھی دن کو منانے کا کوئی فائدہ نہیں ،سوائے سستی شہرت کے۔لیکن یہ میری ذاتی رائے ہے اس لیے میرے حامی نہ ہونے کا ہرگزیہ مطلب نہیں کہ یہ دن منایا نہ جائے جس کادل کرتا ہے وہ ضرور منائے ،میں نے اس دن کے حوالے سے کسی رائے کا اظہار نہ کرنے کا سوچ رکھا تھا لیکن 3دسمبرصبح سویرے میں ٹیلی ویژن آن کرنے کی غلطی کربیٹھا دیکھتا کیا ہوں ایک شخص بڑے خوبصور ت انداز میں معذور افراد کی طرف داری کررہا تھا ۔معذوروں کے ساتھ ہمدردی کے ساتھ ساتھ وہ فیروزپور روڈ پر بننے والے میٹروبس سروس منصوبے کو تنقید کانشانہ بنا رہا تھا،جناب فرمارہے تھے کہ اس منصوبے میں معذوروں کے لیے کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی،کیونکہ پل بہت اُونچے ہیں اس لیے معذور افراد اس منصوبے سے فائدہ نہیں اٹھاسکتے ۔جناب اعلیٰ اسی بات کومثبت انداز سے بھی کیا جاسکتا ہے،جو شخص ٹیلی ویژن سکرین پر بیٹھ کربات کرتا ہے اسے سمجھ لینا چاہیے کہ اسے ہزاروں لوگ دیکھ اور سن رہے ہیں ،اس لیے اگر وہ مایوسی پھیلانے کے بجائے امید پیدا کرنے کی کوشش کرے تو زیادہ بہتر نتائج برآمد ہوسکتے ہیں ۔جیسا کہ اگریوں کہا جائے اگر ہمیں راہ چلتے کوئی معذور یا مجبور نظر آئے تو ہمیں اس کی مدد کرنی چاہیے اگر اس کو پل اونچا ہونے کی وجہ سے گاڑی تک پہنچنے میں مشکل پیش آرہی ہوتوہمیں اس کو سہارادے کر اپنے ساتھ بس تک لے جانا چاہیے ،تو زیادہ بہتر ہوتا لیکن اگر ہم معذوروں کی مدد صرف سال میں ایک دن یعنی 3دسمبر کو کریں گے تو یہ مدد بہت کم ہوگی کیونکہ معذور تو سارا سال ہی معذور رہتا ہے ۔ قارئین غور کریں اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 10فیصد افراد معذور ہیں اور ان میں سے ان افراد کو اونچے پل پر چڑھنے میں مشکل پیش آئے گی جو پاؤںیا ٹانگ سے محروم ہیں کیا90 ٹھیک ٹھاک صحت مند افرادکسی ایک معذور فرد کو سہارادے کر پل پار نہیں کرواسکتے ؟ہم اپنی سوچ کب بدلیں گے؟کب ہم ہر پہلوکو منفی کی بجائے مثبت انداز میں دیکھیں گے؟کہیں ہمارے منفی اندازے فکر نے ہماری 100فیصد آبادی کوذہنی طور پر معذور تو نہیں کردیا؟سوال تو بہت سارے ہیں لیکن میں یہاں اقوام متحدہ کے سروے کا ذکر کرتا چلوں جس کو بنیاد بنا کر پچھلے چند دنوں میں بہت سے تجزیہ نگاروں نے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک سروے کے مطابق معذور افراد کی تعداد ہماری کل آبادی کا10فیصد بنتی ہے ۔اقوام متحدہ نے ان افراد کی بات کی ہے جو جسمانی معذور ہیں،یعنی وہ لو گ جن کوقدرت نے پیدائشی طور پرجسم کے کسی حصے کوکمزور یا محروم رکھا یا کسی حادثے کی وجہ سے ان کے جسم کا کوئی حصہ یعنی ،ہاتھ ،پاؤں ،ٹانگ ،بازو،آنکھ ،کان یاجسم کا کوئی اورحصہ ضائع ہوگیا ہو۔اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں کل آبادی کے 10فیصد افراد کو معذور قرار دیا ہے ۔اقوام متحدہ کے سروے کے مطابق 100افراد میں سے 10افراد معذور ہیں۔ اقوام متحدہ کے اس سروے کی حقیقت تو میں نہیں جانتا لیکن جس علاقے میں، میں رہتا ہوں وہاں ایسا نہیں ہے ۔میرے ذاتی سروے کے مطابق جسمانی معذور افرادکی تعداد ہماری کل آبادی کا3سے4فیصدحصہ ہے ۔خیر معذورا فراد کی تعداد 10فیصد ہو یا 4فیصد اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔سمجھنا تو اس بات کو ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں صحت مند افراد کی تعداد کتنی ہے صرف جسمانی نہیں بلکہ ذہنی اور روحانی صحت مندی کی بھی بات کررہا ہوں میں ۔آپ کا کیا خیال ہے کہ بدھ کی صبح کراچی گورنر ہاؤس کے قریب اسٹیٹ لائف بلڈنگ میں ہونے والے ہولناک حادثے میں جونوجوان جان بحق ہوا اس کو بچانا صرف اور صرف ریسکیو ٹیموں کا کام تھا؟کیا وہاں موجود لوگو ں کا فرض نہیں بنتا تھا کہ آگ سے جان بچانے کے لیے نویں منزل کی کھڑکی سے لٹکے انسان کی جان بچانے کی کوشش کرتے ؟کیا وہ نوجوان کھڑکی سے اس لیے باہر لٹک گیا تھا کہ اس کی ویڈیو فلم بنائی جائے ؟یا اس نے یہ سوچا ہوگا کہ اندر رہا توکوئی مدد کو نہ آپائے گا اور اگر نویں منزل سے لٹک گیا تو بہت سارے لوگ اسے دیکھ لیں اور کوئی نہ کوئی ضرور مدد کے لیے آئے گا؟کیا وہاں موجود درجنوں جسمانی معذور تھے جو مدد کے لیے پکارتے انسان کی مدد نہ کرسکے ؟جب درجنوں صحت مند لوگوں کے سامنے ایک انسان مدد کو پکارتا ہوا سسک سسک کرجان دے دے توایسے لوگوں کو تندرست کیسے کہا جاسکتا ہے۔اگروہاں موجودلوگ میرے طرح ذہنی معذورنہ ہوتے توگنجان آباد علاقے میں دوچارفوم کے گدھے تلاش کرنے میں دو سے چار منٹ کافی تھے۔لیکن ایسا نہ ہوسکا اور ایک صحت مند انسان ب

یہ بھی پڑھیں  سبی:حکمرانوں کی پالیسیوں کے باعث ملک تباہی سے دوچار ہے، دوست محمد کھوسہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker