تازہ ترینشیر محمد اعوانکالم

کیا ہم زندہ قوم ہیں

ہم زندہ قوم ہیں ، پا ئندہ قوم ہیں،، یہ ملی نغمہ اکثر ہم سنتے رہتے ہیں ۔ اگر چہ اس کو سن کے ہمارے اندر عجیب سا جوش و ولولہ پیدا ہوتا ہے اور اس سے بڑی بات یہ کہ ہم کچھ دیر کے لیے ہی سہی خود کو ایک قوم تو سمجھتے ہیں۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کے یہ نغمہ سن کے ہمارے دل میں ہی سوال اٹھتا ہے کہ کیا ہم زندہ قوم ہیں ؟ْ اگر اپنے ملکی، معاشرتی اور سماجی حالات کو دیکھیں تو پھر ایک دم سے بے باک لہجے میں یہ کہنا مشکل لگتا ہے کہ ہم زندہ قوم ہیں۔ در حقیقت بھی یہ ہی ہے جو ہمارے حالات ہیں ان سے تو لگتا ہے کہ ہم قوم نہین بلکہ مختلف مکتبہ فکر ، رنگ و نسل اور فرقوں میں بٹے لوگوں کا ہجوم ہیں اور ہجوم اور قوم میں بحر حال فرق ہوتا ہے،
کبھی ہم مختلف سیاسی پارٹیوں کے جیالے نظر آتے ہیں اور بڑے جوش اور ہڈ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ ملکی سلامتی کے لیے کیا بہتر اور کیا غلط ہے اس سے قطع نظر ہم اپنی پارٹیوں کو سپورٹ کرتے ہیں ، اسکے جھنڈے لہراتے ہیں ، دھرنے دیتے ہیں، گاڑیاں جلاتے ہیں، پتھر برساتے ہیں، اپنے وطن کے املاک کو آتش کرکے اس بات کا ثبوت دیتے ہیں کے ہم اک قوم نہیں بلکہ کسی سیاسی پارٹی سے وابستہ لوگوں کا ہجوم ہیں اور اس سے بڑھ کر یہ کہ اس جلاؤ گھیراؤ ، توڑ پھوڑ اور دھرنوں کو جمہوریت کا نام بھی دیتے ہیں ۔
ہم ہر وقت غربت ، مہنگا ئی اور بیروزگا ری کا رونا روتے ہیں۔ لیکن جب ہماری پارٹی کا کوئی بندہ جو اربوں روپے کی کرپشن ،قانون شکنی اور غلط اقدامات کے کیس میں جکڑجاتا ہے تو ہم اسکو سچا ثابت کرنے کے لیے اپنا دن رات ایک کر دیتے ہیں۔ صرف ایک سیاسی وابستگی کی وجہ سے ملک کا کتنا نقصان ہوا اس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں ہوتا۔۔
مسجدوں میں دھماکے ہوں تو ہم صرف اس وجہ سے مذمت نہیں کرتے کہ وہ کسی دوسرے فرقہ کی تھی۔دن دیہاڑے سڑکوں پر لاشیں گرتی ہیں ۔ صفِ ماتم بچھی ہے، عورتیں بیوہ ہوتی ہیں۔ لیکن کسی کے کان پہ جوں تک نہیں رینگتی کیونکہ مرنے والے ہمارے فرقہ کے لوگ نہیں ہوتے۔ یتیم بچوں کی سسکیاں ، عورتوں کے نوحے ہماری روح کو جھنجھوڑنے سے قاصر رہتے ہیں۔ یہاں بھی کسی فرقہ سے جڑا ایک گروہ تو ہیں لیکن قوم نہیں۔
ملک و ملت کی ترقی اور خوشحالی کے خواہاں سب ہیں لیکن اسکی ترقی کے لیے جس قومی یکجہتی ، مساوات،تعمیری اقدامات ، حب الوطنی سے لبریز جذبات کی ضرورت ہوتی ہے وہ ملک کے کسی کونے میں نظر نہیں آتے۔ ایک کے بعد ایک سیاستدان اپنی جیب بھرتاہے اور رفو چکر ہو جاتا ہے۔ ہم اپنا سینہ پیٹتے ہیں پھر انہی جھنڈوں تلے نظر آتے ہیں ۔ چہرے بدلتے ہیں ، نام بدلتے ہیں، منشور بدلتے ہیں، نعرے بدلتے ہیں لیکن ملک اور عوام کے حالات پہلے سے بدتر ہوتے ہیں۔ کیونکہ چند لوگوں کا گروہ ہمارے جذبات ابھار کر ہمیں بیوقوف بنا رہا ہے اور ہم کو لہو کے بیل کی طرح سیاسی دائرے میں چکر کاٹ رہے ہیں اور وہ معاشی و معاشرتی ترقی، مہنگائی و بیروزگاری کا خاتمہ، عدل و انصاف کا بول بالا، ڈرون اور دہشتگردی سے نجات ، مفت تعلیم و صحت تو کبھی مسئلہ کشمیر کے حل اور شہداء کے نام پر ہمیں بیو قوف بنا رہے ہیں۔
ہم کبھی شیعہ ، سنی،دیوبندی ،اہلحدیث، حیا تی و مماتی تو کبھی سندھی،بلوچی ،پنجابی، کشمیری اور ہزاوی تو کبھی پی پی ، ن، ق، ایم کیو ایم، انصاف میں بٹے لوگ ہیں۔ ایک جیسا نظریہ ، فکر،جذبہ، احساس، قومی ، یکجہتی، مساوات، رویے اور احساس و جذبات جو کسی قوم کا وطیرہ ہوتا ہے اسکا فقدان ہے اگر ہم نے جلد اپنا قبلہ درست نہ کیا تو شاید بہت دیر ہو جائے۔۔۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker