تازہ ترینکالممحمداعظم عظیم اعظم

کیا مُلک میں کچھ ہونے والاہے.؟

Azam Azim Azamآج شیخ الاسلام کے لانگ مارچ اور دھرنے سے متعلق اقتدار کی ہوس میں مبتلارہنے والے عناصر اپنے مستقبل کے خطرات سے خوفزدہ ہوکر کچھ بھی کہتے پھریں مگر اِس حقیقت سے بھی تو کوئی محب وطن پاکستانی کم ازکم انکارتونہیں کرسکتاہے کہ گزشتہ65سالوں سے مُلک کی ساڑھے اٹھارہ کروڑ عوام پر مختلف ادوار میں قابض رہنے والے حکمرانوں، سیاستدانوں اور مخصوص خاندانوں نے عوام کو اِن کے بنیادی حقوق خوارک، پانی وبجلی ، توانائی ، علاج ومعالجہ ، سفری سہولیات اور دیگرآسائش زندگی سے محروم رکھ کر لوٹ مارکی اوراِس سرزمینِ پاکستان کا ستیاناس کرکے رکھ دیاہے اور آج اِن کے اِن گھناؤنے کرتوتوں ہی کی وجہ سے دنیا کی نظر میں میراپاکستان بنانا(کیلا) اسٹیٹ کی حیثیت سے اپنی پہچان رکھنے لگاہے اَب ایسے میں دنیاوالوں کا پاکستان کو بنانااسٹیٹ گردانہ یوں بھی درست لگتاہے کہ 65سالوں سے ریاستِ پاکستان کو اِس پر قابض رہنے والے ظالم لٹیروں نے اِسے اپنے ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھاکر خوب لوٹاہے اور اِسے کھوکھلاکر کے رکھ دیا ہے اور ایسے میں آج جب اِن ظالموں کے غضب ناک منصوبوں سے بچانے کے لئے تحریک منہاج القرآن کے سربراہ طاہرالقادری اسلام آباد کو امن و سکون اور کسی تشدد کے بغیر تحریراسکوئیر میں بدلنے کے خاطرا پنے سات(کچھ آئینی ا و رغیرآئینی ) اور دیگر نکات کے ساتھ لانگ مارچ کیاجو اَب دھرنے کی شکل اختیارکرچکاہے اور اِسلام آبا دمیں اپنے ہزاروں اور لاکھوں عقیدت مندوں اور عام پاکستانی شہریوں (جن میں آج کچھ جوشیلے ڈانڈابردار نوجوانوں،خواتین، بچوں اور عمررسیدہ افراد کے علاوہ بوڑھے بھی شامل ہیں )کے ہمراہ شاہراہ دستور پر کھلے آسمان تلے سخت سردی میں چار روز سے ملک کی مظلوم عوام کو اِن کے جائزحقوق دلانے اور مثبت تبدیلی کی کرن پھوٹنے اور اپنے نکات کی تکمیل ہونے تک پڑاؤ ڈالے ہوئے ہیں تو ایسے میں حاکم الوقت اور اِس کے ظالم ٹولے نے شیخ السلام طاہر القادری کی ذات اور اِن کی مذہبی خدمات پرتنقیدیں شروع کردی ہیں تووہیں ملک کو جمہوریت کی آڑ میں لوٹنے والے اِن ہی گمراہ کُن حکمرانوں اور اِن کے حواریوں کی زبانیں ہیں کہ جو طاہر القادری کے قول و فعل کو نشانہ بنارہی ہیں جو کہ اِس بات کی غماز ہیں کہ طاہر القادری کے دھرنے نے ملک پر ایک کے بعددوسری قابض رہنے والی جماعتوں پی پی پی اور پی ایم یل (ن) کے حکمران ٹولوں اور سیاستدانوں میں ہلچل پیداکردی ہے۔
تو وہیں دوسری جانب ہمارے یہاں اِن لڑتی جھگڑتی جمہوری قوتوں سے ہٹ کرایک طاقت ایسی بھی موجودہے جس کی آنے کی ہر بار دعوت ہمارے جمہوریت پسندحکمرانوں نے اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں سے خود دی ہے اور اِس طاقت کے لئے حلوہ بھی خود ہی تیار کرکے دیاہے موجودہ حالات میں مجھے ایسے لگتاہے کہ کہیں اِس بار بھی ایسا نہ ہوجائے اور جمہوریت کی بساط پلٹنے کے لئے وہی آمرطاقت ایک مرتبہ پھر جمہوریت پسندوں کی اَناپرستی کی آپسمیں جاری لڑائی کو دبانے ،پانچ سالوں سے جمہوریت کے نام پر اپنے اپنے مفادات کے حصول کے چکر میں مگن ٹولے کو مسلنے اور اِن کا تیار کردہ حلوہ کھانے کے لئے پھر آجائے میں یہ بات اِس لئے کہہ رہاہوں کہ اِس قوت کو جگانے کا اشارہ اِس طاقت سے تعلق رکھنے والی ہماری ماضی کی ایک شخصیت ایسی بھی ہے جس نے شیخ السلام کے لانگ مارچ اور دھرنے کی تعریف میںآسمان کے قصیدے ملادیئے ہیں اور اِس طاقتورترین ارارے کی سوئی ہوئی قوت کو جھنجھوڑدیاہے کہ اَب اِسے کچھ کرنے کا وقت آگیاہے۔
کیوں کہ آج اِس شخصیت جِسے ہم سابق آمر صدرجنرل (ر)پرویز مشرف کے نام سے جانتے ہیں اِس شخصیت نے طاہرالقادری کے اول لانگ مارچ اور دوئم دھرنے کے حوالے سے ایک نجی ٹی وی سے گفتگوکے دوران اپنی زبا ن اور لب ہلاتے ہوئے تحریک مہناج القرآن کے سربراہ طاہرالقادری کے لانگ مارچ اور دھرنے کو کامیاب قراردیاہے اور اِس موقع پر اِس شخصیت کا یہ کہناتھاکہ میری تمام تر ہمدردیاں اور حمایت پہلے دن سے ہی اِن کو حاصل تھی اور اِسی کے ساتھ سابق آمر جنرل (ر) پرویزمشرف نے یہ بھی کہاتھا کہ اگر آج جنرل کیانی کی جگہہ میں ہوتاتو کچھ نہ کچھ تبدیلی ضرورآچکی ہوتی کیوں کہ آج موجودہ حکمران اپنی مقبولیت کھوچکے ہیں ایسے میں اِن کو حکمرانی کاکوئی حق نہیں اور نہ ہی وہ ملک چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اِس موقع پر مشرف نے ن لیگ کو بھی آڑے ہاتھ لیتے ہوئے کہاکہ پاکستان مسلم (ن) لیگ میں شامل اُوپر سے نیچے تک کسی ایک شخص میں بھی ملک کی باگ دوڑ سنبھالنے اور اِسے بحرانوں اور مسائل سے نکالنے کی صلاحیت نہیں ہے مشرف کا کہناتھاکہ ن لیگ کے پاس محض خیالی دعوے ہیں ملک میں مثبت تبدیلی صر ف اور صرف عوام ہی لاسکتے ہیں ‘‘مشرف کے اِن خیالات کو سُننے کے بعد میں اِس نتیجے پر پہنچاہوں کے جیسے آمر مشرف یہ کہناچاہ رہے ہوں کے لازمی ہے کہ عوام موجودہ حکمرانوں اور آئندہ پانچ سال تک اقتدار کا خواب دیکھنے والے ن لیگ والوں کا عام انتخابات میں کڑااحتساب کرے اور اِنہیں ایسی نکیل دے کہ یہ تلملاکر رہ جائیں اور اگر اِس مرتبہ بھی جمہوریت کی آڑ میں موجودہ برسرِ اقتدار جماعت پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ(ن) نے کوئی گیم کھیلناچاہ توبہترہے کہ جمہوریت کی ایسی گھناؤنی بسا ط پلٹ دی جائے جس کے ثمرات دوجماعتوں اور ملک پر قابض رہنے والے مخصوص خاندانوں کو تو حاصل ہوں مگر ساڑھے اٹھارہ کروڑ پاکستانی اِس سے محروم رہے اور فوجی قیادت ملک کی حکمرانی سنبھال لے تاکہ پاکستانی عوام کو اِن کے بنیادی حقوق نصیب ہوں اور غریب کو دووقت کی روٹی، کپڑااور مکان ملے۔
اُدھرتحریک مہناج القرآن کے سربراہ اور دھرنیوں کے سرپرست ڈاکٹر علامہ مولانا طاہرالقادری نے چودہ ، پندرہ جنوری کی درمیانی رات گئے لانگ مارچ اسلام آباد پہنچے پر( پہلے مگر مختصراََ خطاب) میں اپنے جوشیلے اندازخطابت میں اعلان کیا کہ منگل 15جنوری کی صبح 11بجے تک وقاق سمیت چاروں صوبائی حکومتیں اور اسمبلیاں تحلیل کردی جائیں (جوتاحال نہیں کی جاسکیں ہیں) اور اِسی کے ساتھ ہی اِن کایہ بھی کہناتھاکہ آج کے اِس عوامی لانگ مارچ اور دھرنے میں شامل دس لاکھ محب وطن اور نہتے پاکستانی جو خالصتاََ اپنے حقوق کے حصول اور ملک میں مبثت تبدیلی لانے کے لئے جمع ہوئے ہیں اِن کی اتنی بڑی تعداد کے بعدحکومت کا جاری رہنے کا کوئی اخلاقی اور آئینی جواز نہیں رہ جاتاہے اور اگر مہلت ختم ہونے پر ایسانہیں کیاگیاتو پھر عوام خود فیصلہ کریں گے کے آئندہ کیا کرناہے اِس سارے منظر اور پس منظر پر میرایہ کہناہے کہ قبل اِس کے کہ جمہوریت پسندوں اور علامہ طاہرالقادری کے ایجنڈوں پر شک کرنے والوں کی اَناکی وجہ سے تیسری قوت حرکت میںآجائے تو کیوں نہ جمہوریت پسندعناصر طاہر القادری کے آئینہ میں اپنااپناچہرہ دیکھ لیں اور افہام وتفہیم سے ایساہی کرلیں جیساعلامہ طاہرالقادری چاہ رہے ہیں کیوں کہ آج ہمارے جمہوریت پسندحکمرانوں، سیاستدانوں(خواہ اپوزیشن میں ہوں یا حکومتی اتحادی ہوں)سب کو یہ ضرورسوچناچاہئے کہ علامہ طاہرالقادری کا یہ ایک ہی ایجنڈا سب سے بڑاہے کہ دھرنے میں شامل ملک کی دس لاکھ اوراِس سے زائد عوام اور ساری پاکستانی قوم ذہنی و جسمانی اور روحانی طور پر اِن کے ساتھ ہے اَب ایسے میں حاکم الوقت کو فوراََ یہ کرناچاہئے کہ یہ طاہرالقادری کے لائے ہوئے ایجنڈے پر من و عن عمل کریں اور جیساطاہرالقادری چاہ رہے ہیں ویساکریں ورنہ یہ یاد رکھیں کہ تیسری قوت کے لئے تو جمہوریت پسندوں نے آپس کی لڑائی کی وجہ سے حلوہ تو پہلے ہی تیارکررکھا ہے تو وہیں اِس قوت نے بھی اپنے بوٹوں پر پالش اور وردیوں پر کلف بھی لگالیاہے….!!جس کے اثرا نظرآنے لگے ہیں…اور آج ہر پاکستانی انتاضرور سوچ رہاہے کہکیا مُلک میں کچھ ہونے والاہے….؟یاجمہوریت کو دپوچنے کے لئے آمریت پھر آنے والی ہے….؟؟
مگر وہ تواچھاہواکہ آمریت کے خطرات کو بھانپ کر ملک کی صاحبِ اقتدار جماعت سمیت اندر اور باہر کی تمام اپوزیشز کی جماعتیں اپنے تمام اختلافات بالائے طاق رکھ کرایک ہوگئیں ہیں اور گھاٹ پر پانی پینے لگیں ہیں اَب یہ دیکھتے ہیں کہ ہماری یہ تمام جماعتیں کب تک یکجارہتی ہیں اور کب تک مل کر آمریت کا مقابلہ کرتیں ہیں میراخیال یہ ہے کہ اِنہیں ایک گھاٹ پر پانی پینے کے لئے مجبوربھی تو شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہرالقادری نے کیا ہے جس کے لئے اِنہیں اِن کا شکرگزار ہوناچاہئے اگریہ جمہوریت کی اصلاحات کے خاطر لانگ مارچ اور دھرنانہ دیتے توممکن ہے کہ یہ جماعتیں باہم متحدو منظم بھی نہ ہوتیں اَب یہا ں سوال یہ پیداہوتاہے کہ آج جس طرح یہ جمہوریت کے بچاؤاور اپنے اپنے سیاسی قد اُونچاکرنے کے لئے ایک ہوگئیں ہیں تووہیں اِنہیں یہ بھی تو چاہئے کہ ملک کے مفلوک الحال اور اپنے بنیادی حقوق سے محروم عوام کے لئے گیس بجلی و پانی، خوراک ، صحت، تعلیم،عالج و معالجہ کی سہولیات کی فراہمی سمیت مہنگائی، بے روزگاری، قتل وغارت گری، دہشت گردی، لوٹ ماراور کرپشن واقرباپروری کے خاتمے کے لئے بھی تو دیرپااقدامات کرنے کے لئے کمربستہ ہوجائیں تو اچھاہو،یہ نہ کہیں کہ ہماری پاس کوئی جادوی کی چھری نہیں کہ یکدم سے ہم عوام کو درپیش مسائل حل کردیں..آج اگرملک کی ساری جماعتیں جمہوریت کو بچانے کے لئے یکدل اور یک جان ہوگئیں ہیں تواِنہیں عوام کو مسائل سے چھٹکارے کے لئے بھی ایساہی کرناچاہئے ورنہ قادری کے دھرنے کے خلاف سازشیں کرنی چھوڑدینی چاہئے اِنہیں ہی وہ کرنے دیں جو طاہرالقادری عوام کے لئے کرناچاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  رینالہ خورد:تین مختلف تاریخ پیدائش والے 50سالہ شخص کی درجہ چہارم کی آسامی پر غیر قانونی بھرتی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker