تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

کیا مشرف کی رہائی واقعی ڈیل کا نتیجہ ہے ؟

zafar ali shah logoپرویزمشرف کو ڈیل کے تحت رہائی ملی ہے۔ مشرف نوازشریف سے بھی زیادہ سیانے نکلے انہوں نے معافی کی بجائے مقدموں کا سامنا کیا،وزیر داخلہ بتائیں انہوں نے پرویز مشرف کے خلاف ارٹیکل چھ کے حوالے سے کیا کمیٹی بنائی ہے اور کیا انکوائری کی جارہی ہے۔پرویز مشرف کی رہائی سے ان کے تمام اقدامات کو درست قرار دیاگیایہ کہناتھا 6نومبر کو ایک خبر رساں ادارے کے ساتھ دوران گفتگوعوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان سینیٹرزاہد خان کا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پرویزمشرف کو ڈیل کے ذریعے رہاکیا جائے گا یہ انہوں نے بہت پہلے کہہ دیاتھا۔ حکومتی جماعت مسلم لیگ نون کے رہنماء سینیٹرمشاہداللہ خان کہتے ہیں مشرف عوام کے مجرم ہیں ان کی رہائی نظام کی کمزوری ہے۔دوسری جانب اخباری اطلاعات کے مطابق شہداء فاؤنڈیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ لال مسجد کے نائب خطیب عبدالرشید غازی اور ان کی والدہ کے قتل کے مقدمے میں پرویزمشرف کی درخواست پر ایڈیشنل اینڈسیشن جج کاتحریری فیصلہ آئین و قانون کے خلاف ہے اور ان کے اختیارات سے تجاوز ہے کیونکہ فیصلہ صرف اس بات پر دینا تھا کہ کیا درخواست ضمانت منظورہے یاہے۔پرویزمشرف کی رہائی کی مذمت، مخالفت اپنی جگہ ۔۔اورقظع نظراس کے کہ یہ ڈیل کا نتیجہ تھا یا نہیں ۔ادھر آل پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی رہنماء اور معروف قانون دان احمدرضاقصوری نے کہا ہے کہ پرویز مشرف کی رہائی کسی ڈیل کانتیجہ نہیں بلکہ ان کے خلاف بنائے گئے تمام مقدمات جھوٹے تھے جن میں ان کو رہائی مل چکی ہے جبکہ سابق صدر کے ایک اور وکیل محمد الیاس صدیقی نے کہاہے کہ عبدالرشید غازی قتل اور ججز نظربندی کیس میں ضمانت کی منظوری اور رہائی کے احکامات کے بعد اب سابق صدر کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کے لئے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دے دی جائے گی ۔بہرحال سابق صدر کا نام ای سی ایل سے نکالاجاتا ہے کہ نہیں لیکن یہ بات مبنی بر حقیقت ہے کہ مختلف مقدمات میں نامزد ملزم اور عرصہ کم و بیش چھ ماہ تک پابند سلاسل سابق صدر جنرل(ر)پرویزمشرف کو رہائی مل گئی ہے۔رہائی کے بعدچک شہزاد میں ان کی رہائش گاہ جسے ان کی گرفتاری کے بعد سب جیل قرار دیاگیاتھا اب ایک بار پھر مشرف فارم ہاؤس کی حیثیت پاچکی ہے۔بلوچ قبیلے کے سردار نواب اکبر بگٹی قتل،بے نظیرشہیدقتل،لال مسجد کے نائب خطیب عبدالرشیدغازی اور ان کی والدہ کے قتل ،نظربندی اور آئین کی معطلی جیسے مقدمات میں ملزم پرویزمشرف کو گرفتاری کے بعد ایک ایک کرکے اب تمام مقدمات میں عدالتوں کی جانب سے ضمات دی جاچکی ہے۔4نومبر کو ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد واجد علی خان نے غازی عبدالرشید قتل کیس میں سابق صدر کی درخواست ضمانت ایک ایک لاکھ روپے کے ذاتی مچلکوں کے عوض منظورکرلی تھی جبکہ پرویزمشرف کی رہائی کے تحریری فیصلے میں لکھاگیاہے کہ فریقین کی جانب سے پرویزمشرف کے خلاف ایسے کوئی ثبوت سامنے نہیں لائے جاسکے جس سے یہ ثابت ہو کہ وہ مجرم ہے۔ عدالتی حکم میں یہ بھی کہاگیاکہ گواہوں کے بیانات قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں ان کی قانونی حیثیت نہیں حکم کے مطابق مقدمے کے ریکارڈ سے پتہ چلتاہے کہ پرویزمشرف پر فوجی آپریشن کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کوئی بھی گواہ ازخود تفتیشی افسر کے سامنے پیش نہیں ہواجبکہ گواہوں کے ایسے بیانات بطورقانونی شہادت تسلیم نہیں ہوسکتے ۔حکم نامے کے مطابق پولیس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ میں پرویزمشرف کو بے گناہ قراردیاگیاہے ۔ عبدالرشید غازی قتل کیس میں ایک ایک لاکھ کے دو جبکہ ججز نظربندی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرائے گئے یوں بدھ چھ نومبر کوعدالت کی طرف سے اڈیالہ جیل حکام کو سابق صدر کی رہائی کے تحریری احکامات ملے جس کے بعد سابق صدر کی رہائی عمل میں لائی گئی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ رہائی کے بعد سابق صدر نے ملاقاتوں کا سلسلہ بھی شروع کردیاہے۔سابق صدرکی رہائی کے احمد رضاقصوری سمیت دیگر قانونی ماہرین اور سابق صدرکے حامیوں کا ان کی گرفتاری سے قبل اور بعد ازگرفتاری یہ مؤقف کہ وہ بے قصور ہیں اور ان کے خلاف بنائے گئے مقدمات بے بنیاد ہیں صحیح ثابت ہوگیا ۔وطن واپسی پرسابق صدر کی گرفتاری سے ایک ہفتہ قبل ان کی جماعت کے اہم رہنماء اور گجرقومی موومنٹ کے سربراہ زرین خان گجر کی سربراہی میں ایک وفد کے ہمراہ راقم الحروف کو بھی سابق صدر سے ملنے کا موقع ملاتھا اور نہ صرف سابق صدر کی باڈی لینگوئج سے ان کے حوصلے کا پتہ چل رہاتھا بلکہ راقم الحروف کے یہ پوچھنے پر کہ وہ یہاں آئے ہیں تو ان کو اندازہ ہے کہ ان پر کئی ایک سنگین نوعیت کے مقدمات ہیں جن میں ان کو گرفتار بھی کیا جاسکتاہے اور گرفتاری کی صورت میں عدالتوں کا بھی سامنا کرناپڑے گاان کانام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں بھی ڈالاجاسکتاہے جبکہ الزامات ثابت ہونے پران کو عدالتوں سے سزا بھی مل سکتی ہے سابق صدر کا کہنا یہ تھا کہ انہیں ان تمام چیزوں کا اندازہ اور احساس بھی ہے اور ادراک بھی۔۔مگر ان کو مقدمات ،عدالتوں اور جیل سے ڈرانے والے شائد یہ نہیں جانتے کہ وہ ملک کی تاریخ کے پہلے (ر)فوجی جرنیل اور سابق صدر ہوں گے جو مقدمات کا سامنا بھی کریں اور بنائے گئے تمام مقدمات میں باعزت بری بھی ہوں گے۔وہ کسی ڈیل کے تحت آئے ہیں نہ ہی کسی ڈیل کے ذریعے جائیں گے اگر معافی اورڈیل کے تحت جاناہوتا تو وہ وطن واپس کیوں آتے۔۔اب جبکہ سابق صدر پرویزمشرف ضمانت پر رہا ہیں
ان کے چلنے پھرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے اور ای سی ایل میں نام کی موجودگی یا ہٹانے کا معاملہ بھی اتنا پیچیدہ بظاہر نظرنہیں آتا سو اس بات کے امکانات زیادہ ہیں کہ ان کے بیرون ملک آنے جانے میں بھی کوئی رکاؤٹ حائل نہیں ہوگی اگرچہ سابق صدر رہائی کے بعد شکرانے کا عمرہ ادا کرنے کی خواہش رکھتے ہیں مگر ان کا کہنا یہ بھی ہے کہ ملک کے حالات کے پیش نظروہ فی الحال بیرون ملک نہیں جا پائیں گے۔ تاہم ان کی رہائی کے بعدیہ سوال عوام کے ذہنوں اور ملک کے سیاسی حلقوں میں سر اٹھاتا گردش کررہاہے کہ کیا وہ بیرون ملک چلے جائیں گے اور پھر کبھی نہیں آئیں گے یا ملک میں مستقل قیام کو ترجیح دیں گے۔ اپنی پارٹی آل پاکستان مسلم لیگ کو منظم انداز میں آگے بڑھاتے ہوئے ملک کی سیاست میں متحرک کردار اداکریں گے اور سیاسی وجود ،حیثیت اور اہمیت کا احساس دلانے کے لئے ممکنہ بلدیاتی انتخابات میں حیراں کن نتائج دینے کی کوشش کریں گے جو کہ دراصل ان کامتعارف کردہ پروگرام ہے۔ ان کی جماعت اگرچہ اس وقت اتنی منظم جماعت نہیں ہے جس کی بنیادی وجہ شائد یہ ہے کہ پہلے وہ بیرون ملک مقیم تھے جبکہ وطن واپسی پر ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی سوان کی پارٹی قیادت کے فقدان سے دوچار رہی۔اس کے باوجود نہ صرف ملک کے طول و عرض میں ان کے حامیوں کی اچھی خاصی تعداد ہے بلکہ گیارہ مئی کے انتخابات سے بائیکاٹ کے باوجود چترال سے ان کی جماعت کا ایک رکن قومی جبکہ ایک رکن خیبرپختونخوااسمبلی منتخب ہوچکے ہیں جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اگر وہ جیل میں نہ ہوتے اور ان کی جماعت الیکشن سے بائیکاٹ نہ کرتی تو ممکن تھا کہ آج منتخب ایوانوں میں ان کی جماعت کی اچھی خاصی پوزیشن ہوتی ۔۔بہرحال اونٹ کس کروت بیٹھتاہے اور سابق صدر کے کیا ارادے ہیں اس کا فیصلہ مستقبل قریب کرے گا۔۔note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker