بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

کیا سمندر پار پاکستانی ہمارے شہری نہیں؟

ایک گھر سے ایک خاندان اور ایک ریڑھی بان سے بڑے صنعتکار تک کامیابی کا بنیادی راز یہ ہوتا ہے کہ اس کی نیک نامی،شہرت اور کامیابی کا آغاز اس کے کردار اور تعلقات کی سطح پر کیا جاتا ہے۔کردار اور تعلقات کی بنیاد اس کے دلکش اصول اور ریفارمز پر ہے کہ وہ کس قدر بہتر روابط استوار کرتا ہے۔اسی اصول و قاعدے پر گاؤں سے شہر ،شہر سے صوبے ،صوبہ سے ملک اور ملک سے بیرون ممالک کے مابین ہر سطح پر انہی اصولوں کی تشریح لاگو ہوتی ہے۔یہ وہ بنیادی قاعدہ ہے جس کی رو سے سماج کے اقدار کا تعین ہوتا ہے۔مگر جب ہم اپنے اردگرد کے ماحول کو دیکھتے ہیں تو ہمیں ایسا لگتا ہے کہ ہم بہت تجربات و حادثات کے باوجود ٹریک پر نہیں ہیں ۔اس بے قاعدگی کا الزام کسی پر لگانے کے بجائے ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا پڑے گا۔
الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا نے بھی اپنے قدم جما لئے ہیں ۔ایسے دور میں جب میڈیا وار پوری دنیا میں جاری ہو چکی ہے تو پھر کوئی راز پوشیدہ رہنا مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔میڈیا وار نے ناصرف فتح و شکست تک رسائی حاصل کر لی ہے بلکہ دفاعی ،معاشی اور سماجی سطحوں تک انقلابی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں جو اس کی عکاس ہیں کہ مستقبل میں کسی بھی سطح پر زندہ رہنے کے لئے ہوشمندی اور فکری صف بندی کے بغیر قائم رہنا مشکل تر ہو جائے گا۔تہذیبی ،ثقافتی اور معاشرتی جنگ غیر محسوس طور پر جاری ہے جس کا ادراک کرنا ہمارے بس میں ہے لیکن ہماری انفرادی اور قومی فکر میں کہیں بھی یکسوئی اور مثبت رویہ نظر نہیں آرہا جس کی نشاندہی کے لئے بے شمار مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں ۔
گذشتہ ماہ سمندر پار پاکستانیوں کے لئے کال ریٹس میں ہوشربا اضافہ کیا گیا جس سے ہر تارک وطن شدید متاثر ہو چکا ہے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق آٹھ سو فی صد کال ریٹس بڑھائے جا چکے ہیں ۔سوشل میڈیا ’’فیس بک ‘‘ پر ایک سمندر پار پاکستانی نے ایک اشتہار مشتہر کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ ’’کالنگ ریٹس پر ظالمانہ اضافہ نا منظور‘‘وفاقی وزیر برائے سمندر پار جناب فاروق ستار کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے’’ کیا خوب سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کا حق دے رہے ہیں ،ارے بھائی ! پہلے ہمیں ہمارا بنیادی حق تو دو،اپنے مفاد کی بات بعد میں کرنا ۔ایک تو ہمیں ہمارے سفیر ذلیل کرتے ہیں دوسرا یہ کہ جب ہم وطن واپس لوٹتے ہیں تو ہمارے ائیر پورٹ والے ہیں لوٹ لیتے ہیں جبکہ اب اوپر سے کالنگ ریٹس کی رقم سے الیکشن کرانا چاہتے ہو،کچھ تو شرم کرو !آپ سمندر پار پاکستانیوں کے وزیر ہو ،آپ سے گذارش ہے کہ پردیسیوں کے حال پر تھوڑا ترس کھائیں ،کالنگ ریٹس پر نظرثانی کریں ،لوگ تو ویسے بھی آپکو اور آپ کی پارٹی کو دل سے بد دعا دیتے ہیں ،ہم مسافر ہیں ،ہماری دعا اور بد دعا جلدی پوری ہوتی ہیں ‘‘
یہ تو ایک ہم وطن کی آواز براہ راست قریباً 96کروڑ فیس بک یوزرز نے پڑھی ہونگی صرف میرے تین ہزار سے زائد فیس بک لنکرز نے تو با آسانی دیکھی ہیں ۔اس طرح خود اندازہ لگائیں کہ پوری دنیا میں ہماری کیا ’’عزت افزائی ‘‘ ہو چکی ہے ؟ ہمیں کیا شرم آئے گی ؟ گذشتہ روز صوبہ پنجاب کے وزیر مجتبیٰ شحاع الرحمن جن کے پاس ہائیر ایجوکیشن،سکول ایجوکیشن ،لٹریسی اور نان فارمل ایجوکیشن کی وزارت تعلیم ہے اور موصوف وزیر خزانہ و ایکسائیز و ٹیکسیشن کی وزارت بھی رکھتے ہیں ان سے کسی نے سوال پوچھا کہ علامہ اقبال کب پیدا ہوئے تو انہوں نے فرمایا ’’9نومبر 18سو something ،ُاندازہ کریں کہ اس اہم عہدے پر کیسے کیسے حکمران براجمان کر رکھے ہیں جن کو اپنے ہیروز کے بارے بھی ابتدائی علم نہیں ۔۔۔۔وہ کیا قوم کی ترجمانی کریں گے ؟ان کا یہ سوال و جواب بھی فیس بک پر لوڈ ہو چکا ہے جس کی روشنی میں ان کی علمیت سے پوری دنیا نے کیا جائیزہ لگایا ہو گا ؟
یہ ہمارے ان دو وزراء کی فکری سطح ہے جس سے ملک کی نیک نامی کے بجائے بد نامی ہوئی ہے ،یہی نہیں گذشتہ عرصہ میں چین کی ایک ٹیم ہمارے ریلولے نظام کا جائیزہ لینے آئی تو ان کے وفد میں شامل ایک رکن نے کہا کہ ’’ایک آدمی (وزیر ریلولے بشیر بلور ) نے کیسے ریلولے کو اتنا بڑا سیٹ بیک کر دیا ‘‘اب آپ سوچیں کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں ؟یہ موجودہ حکمرانوں کی حد تک ہوتا تو الزام جائیز تھا مگر یہ المیہ گذشتہ65برسوں سے جاری ہے۔ماضی کے حکمرانوں کی داستانیں کیا کیا ضبط تحریر کی جائیں ہر ایک کے دور میں ایک سے بڑھ کر ایک کاریگر نکلا۔
سمندرپار پاکستانی کی صدا صرف یہ نہیں کہ ان کو ووٹ کا حق دیا جائے بلکہ ان کا گلہ یہ ہے کہ جو ہمارے سفیر بیرون ممالک میں تعینات ہیں ان کا بھی طرز عمل عوام دشمنی پر مبنی ہے اور پھر بات یہاں تک پہنچتی ہے کہ جب ہمارے ہم وطن اپنے پیارے وطن آتے ہیں تو ہمارے آئیر پورٹس پر ان سے جو سلوک روا رکھا جاتا ہے وہ بھی کسی لحاظ سے بہتر نہیں ۔اس وقت 60لاکھ سے زائد پاکستانی تلاش معاش کے لئے بیرون ممالک پر دیس کاٹ رہے ہیں ۔ان کے زر مبادلہ سے ہماری افرادی قوت میں اضافہ ہو رہا ہے ۔جبکہ انہیں اپنے خاندان سے روابط رکھنے کے لئے کالنگ کی سہولت بھی مہنگی کر دینا کہاں کی عقلمندی ہے۔
جمہوریت کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ عوام کی مرضی سے انکے نمائندے عوام کی بہتری کے اقدامات کریں تاکہ عوام کی اقتدار میں شراکت اور اعتماد بحال رہ سکے اور جمہوری ثمرات سے عوام ریلیف حاصل کر سکے ۔بد قسمتی سے ہمارے ملک میں طویل آمرانہ حکمرانی کے نتیجے میں ہمارا نظام مملکت ’’کرپٹ مافیا‘‘ کے قبضے میں رہا جسے ہمارے سیاستدان توڑ نہیں سکے ،ہماری انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے ایسا جال پھیلا رکھا ہے کہ اس کے توڑ کے لئے ابھی تک موثر طاقت سامنے نہ آسکی۔اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ جمہوریت ناکام ہو چکی ہے بلکہ اب یہ ہمارے سیاست دانوں کو سمجھ آجانی چاہئے کہ عوام کے مفادات کو کون کچل رہا ہے اور اس کا تدارک کیسے ممکن ہو سکتا ہے ۔ہمیں جمہوریت کے استحکام کے لئے ہر سو کاوشیں جاری رکھنا ہونگی اسی نیں قومی سلامتی وابستہ ہے جو لوگ ملٹری یا بیوروکریٹک ڈیموکریسی کی باتیں کرتے ہیں وہ ملک کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔ہمیں ترقی یافتہ اقوام کی تاریخ پر نظر رکھنی پڑے گی کہ وہ کس اور کن اصولوں کی بنیاد پر آگے کی جانب بڑھ رہی ہیں ۔ ان سطور میں کسی کی دل آزاری ،دل شکنی اور بد نامی مقصود نہیں بلکہ اصلاح کی جانب بڑھنے کی تلقین مطلوب ہے ۔امید کی جاتی ہے کہ حکومت سمندر پار پاکستانیوں کے لئے کالنگ ریٹس میں فوری کمی کا اعلان کریگی کیونکہ اس سے پیدا شدہ نفرت اور بے زاری کا ازالہ ممکن ہو گا ۔نیز بیرون ممالک ہمارے سعیروں کی بھی تربیت ضروری ہے کہ وہ پاکستان کے نمائندے ہونے کے ناطے اپنے طرز عمل کو مثالی بنانے میں کردار ادا کرینگے۔جہاں تک ہمارے ائیر پورٹس کی شکایات ہیں ضروری ہے کہ اس ضمن میں بھی اصلاحی کاوشیں کی جائینگی ۔یقیناًجب ہر ادارہ عوام دوست کردار کا حامل ہوگا تو ہماری قومی سلامتی مستحکم اور ترقی و خوشحالی ہمارا استقبال کرئے گی۔

Back to Conversion Tool

یہ بھی پڑھیں  بے حس حکمران

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1. میر صاحب! کالنگ میں اضافے کا اندازہ اس سے لگاییں کہ جس کارڈ پر ھمیں اب ایک کھنٹہ 20 منٹ ملتے ھیں اسی میں انڈیا کے لیے 9 گھنٹے 30 منٹ ھوتے ھیں- سفارت خانوں کی تو بات ھی رھنے دیں- بعض خلیجی ریاستوں کے ویزے پاکستانیوں کے لیے بند ھیں- بعض کمپنیاں انے طور پر پاکستانیوں کو کام پر نھیں رکھتیں- اس کے مقابلے میں انڈیا کے سفارت کار اپنےس ملک کے لیے ھماوقت مشغول رھتے ھیں- مقامی عربی اخبارات میں ان کے قومی دنوں پر اشتھار دیتے ھیں- ان سے امریکہ،چین ،برطانیہ کے سفیر عربی میں بات کر کے ان کا دل موہ لیتے ھیں مگر پاکستان کے سفارتی بادشاہ یھاں بھی انگریزی کی کمر تھوڑتے ھیں- باقی سفارت خانوں میں جانا ھو تو ھر آنے والے کو عزت دی جاتی ھے ایک ھمارا سفارت خانہ ھے جھاں آج بھی طویل قطار میں کھٹرا رکھ کر زلیل کیا جاتاھے-

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker