پروفیسر مظہرتازہ ترینکالم

کیاوزیرِ اعظم پر آرٹیکل چھ کا اطلاق ہو گا؟

بعد ز خرابئ بسیار با لآخرحکومت سوئس حکام کو خط لکھنے کے لیے آمادہ ہو گئی ۔وزیرِ اعظم نے وزیرِ قانون کو خط لکھنے کا حکم صادر فرما دیا لیکن بعض حلقے اب بھی شکوک و شبہات کا شکار ہیں ۔وجہ یہ ہے کہ وزیرِ قانون فاروق ایچ نائیک سے کسی کو خیر کی توقع نہیں۔وہ بار بار بنچ سے خط لکھنے کے لیے وقت مانگ رہے تھے جبکہ جج صاحبان کا یہ کہنا تھا کہ وزیرِ قانون سب کچھ جانتے ہیں اور دو سطری خط لکھنے کے لیے دنوں یا ہفتوں کی ضرورت نہیں ۔بہرحال تکرار اور اصرار کے بعد وزیرِ قانون 25 ستمبر تک کی مہلت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔سپریم کورٹ کے باہر وزیرِ اطلاعات قمر الزماں کائرہ نے میڈیا سے گفتگو کی ۔اُن کا چہرہ اُداسیوں کی آماجگاہ بنا ہا تھا جس کا اُنہوں نے بر ملا اقرار بھی کیا ۔بہت سے سوالوں کا جواب صرف اِس لیے نہ دے سکے کہ اِس سے پہلے وہ خط نہ لکھنے کے جذباتی حامی تھے ۔شاید اُنہیں شرم آتی ہو گی کہ اپنا تھوکا کیسے چاٹیں۔لیکن ہمیں جو سب سے زیادہ پریشانی ہے وہ یہ ہے کہ اگر کل کلاں کوئی سپریم کور ٹ میں یہ درخواست لے کرچلا گیاکہ اپنے ’’راجہ رینٹل‘‘ نے آئین کے آرٹیکل چھ کی خلاف ورزی کی ہے تو ہمارے گجر خانوی وزیرِ اعظم کا کیا بنے گا؟۔ پیپلز پارٹی بھی اِس معاملے میں اُن کی کوئی مدد نہیں کر سکتی کیونکہ اُس کے اپنے سابقہ وزیرِ اعظم کہہ چُکے ہیں کہ سوئس حکام کو خط لکھنا آئین کی صریحاََ خلاف ورزی ہے۔ محترم گیلانی صاحب نے بار بار یہ کہا کہ اگر عدالت کا حُکم مانتا ہوں تو آرٹیکل چھ لاگو ہوتا ہے جس کی سزا موت ہے اور اگر توہینِ عدالت کرتا ہوں تو اُس کی سزا چھ ماہ قید ہے اِس لیے میں چھ ماہ قید بھگتنے کو تیار ہوں خط لکھ کر پھانسی نہیں چڑھ سکتا۔وہ تو چھ ماہ کی بجائے چھ سیکنڈ کی قید بھگت کر ملتان سدھارے لیکن اپنے پیچھے یہ سوال ضرور چھوڑ گئے کہ اگلا وزیرِ اعظم توہینِ عدالت اور پھانسی کے پھندے میں سے کس کا انتخاب کرے گا؟اور یہ فیصلہ آج راجہ پرویز اشرف نے کر لیا۔اب پیپلز پارٹی کے پاس صرف دو ہی راستے ہیں ۔پہلا یہ کہ اپنے وزیرِ اعظم کو اپنے ہی ’’فرمودات‘‘ کے مطابق پھانسی پہ چڑھا دیں اور دوسرا یہ کہ قوم کے سامنے یہ اقرار کریں کہ وہ تین سال تک محض ’’ڈرامے بازیاں‘‘ کرکے قوم کو بیوقوف بھی بناتے رہے ہیں اور عدلیہ کی تضحیک کے مرتکب بھی ہوتے رہے ہیں۔اُنہیں یہ اقرار کرنا ہو گا کہ خط لکھنے سے آئین کی خلاف ورزی نہیں ہوتی ۔ یہ محض اُن کا سیاسی ڈرامہ تھا۔
ہمیں دوسری پریشانی بلکہ غصّہ یہ ہے کہ ہمارے پیارے ، بیچارے ’’گدی نشیں ‘‘ کو ہمہ مقتدر جنابِ زرداری نے مفت میں ہی بھگا بھگا کے مار دیا ۔بڑھکیں وہ لگاتے رہے اور وزارتِ عظمیٰ چھین کے لے گئے راجہ رینٹل جنہوں نے بڑے رسان سے آج یہ کہہ دیا کہ خط لکھا جا رہا ہے اور وزیرِ قانون فاروق ایچ نائیک کو ملک قیوم کا سوئس حکومت کو لکھا گیا خط واپس لینے کا حکم دے دیا گیا ہے۔
جنابِ آصف بھٹو زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے گیلانی صاحب کو توبینظیر شہید کی قبر کا ٹرائل نہ کرنے کا حکم صادر فرما دیا لیکن ایسا حکم راجہ پرویز اشرف کوکیوں نہیں دیا ؟۔گزشتہ تین سالوں سے حکومتی حلقے بار بار یہ کہہ رہے تھے کہ بینظیر شہید کی قبر کا ٹرائل نہیں ہونے دیں گے۔لیکن گیلانی صاحب کو ملتان بھیج کر وہ ٹرائل پر راضی بھی ہو گئے اور صدارتی استثناء کا مطالبہ بھی نہیں کیا۔اگر یہی کچھ کرنا تھا تو پھر ملتان کے سیّد زادے کا کیا قصور تھا؟ ۔ویسے بھی اگر موازنہ کیا جائے تو وزارتِ عظمیٰ کی دوڑ میں گیلانی صاحب راجہ پرویز اشرف سے کہیں آگے نظر آتے ہیں ۔راجہ صاحب جِس وقت ’’پراپرٹی ڈیلری‘‘ کر رہے تھے گیلانی صاحب اُس واقت بھی ضیاء الحق کی کابینہ کے وزیر تھے ۔اُنہیں وزارتِ عظمیٰ کا تجربہ بھی ہو گیا اور کرپشن کے وہ سارے گُر بھی از بر کر لیے جو کسی بھی پاکستانی حاکم کی سب سے بڑی کوالیفیکیشن تصّور کیے جاتے ہیں ۔ وہ راجہ رینٹل سے زیادہ سمارٹ اور زیادہ خوش پوش تھے اور سُنا ہے کہ اُنہیں انگریزی بھی راجہ صاحب سے زیادہ آتی تھی اور آج قمر الزماں کائرہ صاحب نے یہ اقرار بھی کیا ہے کہ یوسف رضا گیلانی بڑے ’’جیالے‘‘ ہیں ۔پھر سیّد زادے کو ایوانِ وزیرِ اعظم سے اُٹھا کر گرد ، گرمی اور گورستان کے شہر کیوں بھیج دیا گیا ؟۔
یہ عقدہ کبھی وا نہ ہوتا اگر سابقہ ’’گھر کے بھیدی‘‘ شاہ محمود قریشی کا یہ بیان سامنے نہ آتا کہ گیلانی صاحب کی تین سالہ ’’مدتِ ملازمت ‘‘پہلے سے طے تھی ۔اب گھڑنے والے کہانی کچھ یوں گھڑتے ہیں کہ گیلانی صاحب کا جانا تو طے تھا ہی لیکن ایوانِ صدر کے شاطروں نے ایک پنتھ دو کاج کے مصداق یہ فیصلہ کیا کہ اُنہیں اعلیٰ عدلیہ کے ہاتھوں شہید کروایا جائے تاکہ بوقتِ ضرورت کام آئے۔وہ شہید تو نہ ہو سکے البتہ اُن کا ’’جھٹکا‘‘ ضرور ہو گیا ۔اب چونکہ مزید کسی ’’جھٹکے‘‘ کی ضرورت نہیں تھی اس لیے راجہ صاحب کو خط لکھنے کی اجازت دے دی گئی ۔ویسے بھی سوئس قانون کے تحت مقدمہ ’’ری اوپن‘‘ ہونے کی مدّت ختم ہو چکی ہے اور سوئس بنک میں پڑے ساٹھ ملین ڈالر کب کے ’’پھُر‘‘ ہو چُکے اِس لیے بے ضرر خط لکھنے میں ہرج ہی کیاہے۔
استثنائی آرٹیکل 248 کے بارے میں سپریم کورٹ بار بار کہتی رہی کہ اُس سے درخواست کرکے صدارتی استثناء کا فیصلہ لیا جائے لیکن زرداری حکومت یہ رسک نہیں لینا چاہتی تھی ۔اُسے ہمیشہ یہ بد گُمانی رہی اور آج بھی ہے کہ صدارتی استثناء پر فیصلہ اُن کے خلاف آئے گا۔اگر حکومت یہ استثناء مانگ لیتی تو یقیناََ اعلیٰ عدلیہ آئین کے مطابق یہ استثناء دے دیتی اور سارا معاملہ بہت پہلے ختم ہو جاتا۔لیکن حکومت چونکہ روزِ اوّل سے ہی اعلیٰ عدلیہ کے بارے میں بدگمانی کا شکار تھی اِس لیے یہ معاملہ طول پکڑتا گیا اورہم یہ سمجھ بیٹھے کہ جنوبی اور شمالی پنجاب کے بعد اب وسطی پنجاب کی وزارتِ عظمیٰ کی باری ہے اورسیای جوتشیوں نے تو پیشین گوئیاں بھی شروع کر دی تھیں لیکن اپنے گجر خانوی وزیرِ اعظم نے خط لکھنے کا اقرار کرکے ’’کھوتا کھوہ‘‘ میں ڈال دیا۔جس کا سب سے زیادہ نقصان ہم جیسے کالم نویسوں کو ہواجن کے پاس طبع آزمائی کے لئے اور کوئی موضوع ہو نہ ہو این آر او تو ہوتا ہی تھا ۔خیر اب بھی مرحوم و مغفور این آر او پر دو چار تعزیتی کالم تو لکھے ہی جا سکتے ہیں۔اُمیدِ واثق ہے کہ آنے والے دنوں میں سارے چھوٹے بڑے لکھاری تعزیتی کالم لکھیں گے یا پھرفاروق ایچ نائیک صاحب کی فطرت کو دِ نظر رکھتے ہوئے یہ ٹامک ٹوئیاں بھی ماری جا سکتی ہیں کہ خط کیسا ہو گا؟۔طویل ہو گا کہ مختصر؟۔ اعلیٰ عدلیہ کو خط پسند آئے گا یا نہیں؟۔سوئس کیسز ری اوپن ہونگے یا نہیں؟۔وغیرہ وغیرہ وغیرہ ۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker