تازہ ترینرپورٹسمحمد مظہر رشید

کیا؟

mazharاوکاڑہ(محمد مظہررشیدسے) عید الفطر کی آمد کے ساتھ جہاں مبینہ ٹریفک پولیس نے اپنی عیدی مہم کو بام عروج تک پہنچا رکھا ہے وہیں دوکانداروں نے مہنگائی کا وہ طوفان برپا کیا ہے کہ الا مان الامان ،انتظامیہ کے سربراہان خوبصورت ایئر کنڈیشنرہالوں میں سب اچھا کی پریس کانفرنسزمیں مصروف ہیں اور عید کے گزر جانے کے بعد ایسی ہی چند اور کانفرنسز منعقد کی جائیں گی جس میں رمضان المبارک میں معیاری اور سستی اشیاء کی فراہمی اور عوام کوریلیف پہنچانے کے بھرپوردعوے کیے جائیں گے مُرداراور سلاٹر ہاؤس سے باہر باہر ذبحہ کیے گئے جانوروں کے گوشت کی فروخت کو روکنے کے لیے پچھلے چند دنوں سے ڈسٹرکٹ بار اوکاڑہ کے چند نوجوان وکلاء نے احتجاج جاری رکھے ہوا ہے جس کی آوازا علی احکام تک پہنچانے کے لیے ان نوجوانوں نے ڈی سی او آفس کے سامنے بھی احتجاج کیا جس کا انتظامی عہدیداروں پر صرف اتنا اثر ہوا کہ ایک دو جگہ ڈسٹرکٹ لائیو سٹاک کے ڈاکٹرزاور ہماری شیربہادر پولیس نے چھاپہ مار کر آٹے میں نمک کے برابر مُردار گوشت پکڑا اور بڑی بڑی تصاویر بنوا لیں لیکن افسوس کہ کرپشن کے اس بازار میں مُردار گوشت فروخت کرنے والے دولت کے پجاری یہ گھناؤنا کاروبار ابھی بھی ڈھکے چھپے جاری رکھے ہوئے ہیں سب سے زیادہ تکلیف دہ بات جو رمضان المبارک کے آخری دنوں میں دیکھنے کو ملتی ہے وہ ہے غیر معیاری اور مہنگی فروخت ہونے والی اشیاء ہیں جوکہ عید کی خریداری کوآنے والے مرد وخواتین خرید نے پر مجبور ہوتے ہیں آج رمضان المبار ک کا 29واں روزہ ہے انتظامیہ کی مبینہ لاپرواہی سے مہنگائی کا جن بوتل سے باہر ہی نہیں آیا بلکہ متوسط طبقہ کے ارمانوں کا بھی گلا گھونٹ گیا آج اوکاڑہ میں چھوٹا گوشت گورنمنٹ ریٹ لسٹ سے 30%، بڑا گوشت اور چکن20%مہنگا فروخت ہورہا ہے یہ ہی مہنگائی سبزیوں کی خرید پر ہے عید کے قریب آنے پر سلاٹر ہاؤس کو اگر انتظامیہ بند ہی کر دیتی تو زیادہ بہتر ہوتاکیوں کہ مبینہ جانوروں کو مذبحہ خانے سے باہر باہر ذبحہ اور مہرلگا کرتو فروخت کیا ہی جارہا ہے کیا غیر قانونی فروخت اور مہنگائی کے اس طوفان کو انتظامیہ کنٹرول نہیں کرسکتی؟ شہر میں ناجائز تجاوزات کو ختم کرنے میں کیا چیز حائل ہے؟کیا میرے شہراوروطن عزیز کے عوام یوں ہی اپنی زندگیاں داؤ پر لگائے رکھیں گے؟

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button