تازہ ترینکالممحمد عمران فاروق

کس کو معافی مانگنی چاہیئے ؟

imran farooqجوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد مختلف ٹی وی چینلز پر مسلم لیگ (ن) اور اُسکی کی اتحادی جماعتوں کے قائدین مطالبہ کر رہے ہیں کہ عمران خان کو قوم سے معافی مانگنی چاہیئے ۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جسٹس محمود الرحمن کمیشن سے لے کر جسٹس باقر نجفی تک کئی کمیشن بنائے گئے ۔ لیکن کبھی بھی کسی کمیشن کی رپورٹ کو شائع نہیں کیا گیا ۔ ان کمیشنوں کی رپورٹوں کی تیاری میں قانون و انصاف کی بجائے نظریۂ ضرورت کو ملحوظِ خاطر رکھا گیا ۔
دھاندلی کیلئے قائم کردہ اِس عدالتی کمیشن نے کئی نقاط سے صرفِ نظر کیا یا دھرا معیار اپنایا ۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) کی انتظامی اہلیت کو ناکافی قرار دیا تو دوسری طرف الیکشن کے عمل کو (Process) کو درست قرار دے دیا ۔ عدالتی کمیشن نے زائد ووٹوں کی چھپائی کو بھی نظر انداز کر دیا ۔ اور آئندہ کیلئے نہ ہی کو ئی لائحۂ عمل یا طریقہ کار وضع کیا ۔ اسی طرح فارم پندرہ کی اہمیت بھی یکسر نظر انداز کر دی ۔ جبکہ عوامی نمائندگی ایکٹ 76کی دفعہ38کے تحت یہ اہم ترین دستاویز ہے ۔ یہ فارم 35فیصد تھیلوں سے غائب ہے ۔ اِس امر کو سرسری انداز میں لینا مناسب نہیں تھا ۔ نگران وزیر اعلیٰ پنجاب نجم سیٹھی نے کورٹ میں بیان دیا کہ 15اپریل کے بعد اُن کا انتظامیہ پر کوئی کنٹرول نہیں تھا ۔ ہر خاص و عام جانتا ہے کہ لاہور سمیت مختلف اضلاع میں موجود سرکاری مشینری میاں شہباز شریف نے تعینات کی تھی ۔ اکثر پولیس افسران اور ایس۔ ایچ۔ او حضرات مسلم لیگی ایم۔پی۔ایز اور ایم۔این۔ایز کے پروردہ تھے۔لامحالہ اُنکی ہمدردیاں اپنے سیاسی آقاؤں کیلئے وقف تھیں ۔ یہی حال دیگر سرکاری افسران کا تھا ۔ عمران خان نے اِس کمیشن کی رپورٹ کو مان کر پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اچھی ابتداء کی ہے ۔
جاوید ہاشمی سمیت مسلم لیگی رہنما عمرا ن خان پر الزام لگاتے ہیں کہ اُنہوں نے جنرل شجاع پاشا کے ایماء پر دھرنہ شروع کیا تھا ۔ مسلم لیگی رہنما اپنا ماضی بھول جاتے ہیں ۔ مسلم لیگ (ن) کی ابتداء ہی جنرل ضیاء کی گود میں ہوئی ۔ جنرل اسلم بیگ نے سپریم کو رٹ میں اعتراف کیا کہ پی پی پی کی گو شمالی کیلئے آئی ۔جی ۔آئی کے رہنماؤں میں رقوم تقسیم کی گئیں۔ ان رہنماؤں میں میاں نواز شریف اور جاوید ہاشمی سمیت دیگر رہنما شامل تھے ۔ یہ کیس ابھی تک سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے ۔ اسی طرح سابقہ پی پی پی دور میں رات کے اندھیروں میں میاں شہباز شریف اور چوہدری نثار جنرل کیانی سے ملاقاتیں کرتے تھے ۔ تاکہ پی پی پی کی حکومت کا شکار کیا جا سکے ۔ ہاشمی صاحب کا تحریکِ انصاف سے انخلاء شاہ محمود قریشی سے مخاصمت تھی ۔ ایک افواہ یہ بھی گرم تھی کہ آپ نے چائنہ میں علاج کیلئے گورنمنٹ سے ڈیل (Deal) کی تھی ۔
ہمارا قومی مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے لیڈروں کے کاروبار اور دولت کے انبار وں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ۔ جبکہ پاکستانی قوم کی حالت ہر گزرتے دن کے ساتھ پتلی ہو رہی ہے۔ میاں صاحبان ، زرداری صاحب، الطاف حسین ، اسفند یار ولی اور مولانا فضل الرحمن جیسے سیاسی رہنما ایک طویل عرصہ سے حکومتی ایوانوں کی زینت بنے ہوئے ہیں ۔ حکمران طبقہ اور عوام میں دولت کی عدم مساوات روز بروز بڑھ رہی ہے ۔ آج ایک عام پاکستانی کیلئے اپنے خاندان کیلئے آسودگی تو درکنار ضرویاتِ زندگی پوری کرنا محال ہے ۔ مہنگائی کے عفرئیت کو مہمیز لگانے کا کوئی خاطر خواہ حکومتی بندوبست نہیں ہے ۔ بیروزگاری ، کرپشن ، امن وامان ،بھتہ خوری جیسے مسائل میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے ۔ اِن دگر گوں حالات میں ہمارے سیاسی رہنما ؤں کو اپنے گناہوں کا اعتراف کرنا چاہیئے قوم کے ساتھ ساتھ خدائے بزرگ و برتر سے بھی معافی مانگنی چاہیئے ۔ شائد اسی طرح اللہ رب العزت کی خوشنودی شامل ہو جائے ۔

یہ بھی پڑھیں  بھارت کے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کی حالت نازک ہے۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker