تازہ ترینکالم

کسانوں اور معذوروں کی بھی سُن لو

qasim ali logoگزشتہ ایک ہفتے سے ملک گرمی کی شدید لہر کی لپیٹ میں ہے مگر اس قیامت خیز گرمی کے باوجود18مئی کو پاکستان بھر کے کسان اپنے حقوق کیلئے سڑکوں پر مارے مارے پھررہے تھے اور حکومت کی جانب سے اس اہم ترین شعبے کو نظر انداز کئے جانے پر سخت احتجاج کررہے ہیں پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد کھوکھر اور چیئرمین چوہدری انور کسانوں کے حقوق کیلئے تپتی دھوپ میں جس جانفشانی سے کاشتکاروں اورزراعت کی بقا کیلئے لڑرہے ہیں یہ جتنا قابل تحسین ہے اتنا ہی افسوسناک بھی ہے کہ کسان اتحاد کے دودھڑوں میں تقسیم ہونے کی وجہ سے کسانوں کی مشکلات میں بہت اضافہ ہوا ہے گزشتہ ماہ اس سلسلے میں ضلع اوکاڑہ کی قیادت کی جانب سے کسان اتحاد کے دونوں دھڑوں کو یکجا کرنے کی سنجیدہ کوششیں کی گئیں خالد کھوکھر صاحب اور چوہدری محمد انور صاحب کو نہ صرف دیپالپور میں ایک جگہ اکٹھا کیا گیا بلکہ دونوں رہنما ایک دوسرے سے بغلگیر بھی ہوئے اور اپنے اختلافات بھلانے اور کسانوں کیلئے ملکر جدوجہد کرنے کا فیصلہ کیا مگر اس کے باوجود پیار محبت کی یہ پینگ پروان نہ چڑھ سکی اور دونوں رہنماؤں نے الگ الگ دھرنا دیا جو زیادہ موثر ثابت نہ ہوسکا اور میاں شہباز شریف کی جانب سے انہیں ایک اور لالی پاپ دے دیا گیاہاں البتہ عین اسی دوران قومی اسمبلی میں اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کا بل انتہائی جوش و خروش اور متفقہ طور پر منظور ضرور کرلیا گیا جس کے تحت قومی اسمبلی کے ہررکن کی تنخواہ 71ہزار روپے سے بڑھا کر دو لاکھ روپے ہوجائے گی ،سپیکر و چیئرمین صاحب کو چار لاکھ جب کہ ڈپٹی چیئرمین و ڈپٹی سپیکر کو تین لاکھ روپے ماہانہ ملیں گے صرف یہی نہیں بلکہ ہر رکن اسمبلی کو ہر پانچ سال میں ایک دفعہ تین لاکھ روپے آئی ٹی آلات کی مد میں بھی دئیے جائیں گے اس کے علاوہ یوٹیلٹی بلز،بیرون ملک وی آئی پی سفر،ہسپتالوں میں علاج معالجہ کی بہترین و مفت سہولیاتاور پتا نہیں کیا کیا اور بھی ان اراکین اسمبلی کو اس قوم کے ٹیکس کے پیسوں سے عنائت کیا جائے گا جس کو خود نہ صحت کی سہولیات میسر ہیں نہ وہ یوٹیلٹی بلز ادا کرنے کی سکت رکھتے ہیں اور تو اور عوام کو تو پینے کو صاف پانی تک میسر نہیں ہے مگر ان حکمرانوں کے اللے تللے ہیں کہ ختم ہونے کو ہی نہیں آرہے ویسے تو حکمرانوں کی عیاشیوں اور ہوشربا کرپشن نے پوری قوم کو ہی متاثر کیا ہے مگر یہاں صرف دو طبقوں کا ذکر کروں گاایک کسان اور دوسرا معذورافراد۔کسان وہ طبقہ ہے جس کو اس زرعی ملک میں بادشاہ کی حیثیت حاصل ہونا چاہیے تھی یہ کسان ہی ہے جو اس مٹی میں مٹی ہوکر اس کو سونے میں تبدیل کرتا ہے انتہائی مہنگے داموں کھاد ،ادویات اور ٹھیکہ جات 21قسم کے حکومتی ٹیکس ،10روپے فی یونٹ بجلی،200ارب کا سالانہ ڈیزل اور دیگر لامتناہی اخراجات کرکے جب اپنی یہ فصل تیار کرتا ہے تو باردانے کی تقسیم سے لے کر اس فصل کی خرید تک اس کیساتھ ٹھگی کی جاتی ہے اور وہ سرمایہ کار جس کو یہ پتا بھی نہیں ہوتا کہ گندم کے پودے کی شکل کیسی ہوتی ہے یا آلو کیسے کاشت ہوتا ہے وہ ہمارے ناقص زرعی نظام کی وجہ سے اربوں کھربوں کمالیتا ہے اور وہ کسان جو سارا سال گرمیوں میں جلتا اور سردیوں کے جگ راتے کرکر کے اس فصل کی حفاظت کرتا ہے اس کا یہ حال ہوتا ہے کہ اس کے پاس نہ تو اپنے بچوں کی فیسوں کیلئے پیسے بچتے ہیں اور نہ ہی وہ اپنے گھر کا خرچہ چلاسکتا ہے یہ ہمارے ملک کا کتنا بڑا المیہ ہے کہ ایک زرعی ملک میں کسان بھوکا مررہاہے اس کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ ہمارے ملک پر حکمرانی ایسے لوگوں کی ہے جو آسمان پر سورج کی طرح نظر آنیوالی اس حقیقت کو نہیں سمجھ پارہے کہ زراعت اور کسان کی حوصلہ افزائی اور مناسب پالیسیاں بنا کر ہم دنیا کی ایک بہت بڑی معاشی طاقت بن سکتے ہیں ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں کسان کو جو سہولیات حاصل ہیں پاکستان میں ان کا عشر عشیر بھی نہیں بجلی کے بلوں کو ہی لے لیں تو بھارت میں ایک ٹیوب ویل کا ماہانہ بل صرف پچاس روپے ہے جبکہ ہمارے یہاں ہزاروں یونٹ اضافی ڈال کر کسانوں کو واپڈا دفاتر میں دھکے کھانے کیلئے چھوڑ دیاجاتا ہے پوری دنیا میں فصلوں کی انشورنس کی جاتی ہے مگر ہمارے ہاں ٹیکسوں اور لگان لگا لگا کر کسانوں کو بے حال کیا جارہاہے ،ہر ملک اپنے کسانوں کو زرعی قرضے بلاسود فراہم کرتا ہے مگر ہمارے یہاں زرعی سکیموں اور بھاری سود کے ذریعے کسانوں کے جسم سے خون کا آخری قطرہ تک نچوڑ لیاجاتا ہے ،انہی کسانوں کے ووٹوں سے اسمبلیوں تک پہنچنے والے اراکین اسمبلی اپنے علاج معالجے کیلئے بیرون ملک سے کم ٹھہرتے ہی نہیں اوریہ کسان بیمار ہونے کی صورت میں اس وقت ہسپتال پہنچتا ہے جب وہ آخری سانسوں میں ہوتا ہے کیوں کہ اس کے پاس علاج کیلئے بھی پیسے نہیں ہوتے برسرِ اقتدار پاکستان مسلم لیگ ن کے بارے میں کسانوں کی یہ شکائت بجا ہے کہ ان کے اقتدار میں سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کی گئی جبکہ کسان رُل جاتا ہے تازہ مثال گندم کے ریٹ کی ہی لے لیں جو کہ سرکاری طور پر 1300مقرر ہے مگر غریب کسان باردانہ کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے محض 1050روپے میں بیچنے پر مجبور ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ن لیگ میں اکثریت کاروباری اور سرمایہ کار افراد ہی وزیراعظم کے مشیر ٹھہرتے ہیں جو کبھی بھی زراعت کی ترقی کی بات نہیں کرتے حالاں کہ یہ وہی لوگ ہیں جو انتخابات میں کسانوں سے لمبے چوڑے وعدے کرکے اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہوگئے تھے ۔دوسرا محروم طبقہ معذورافراد ہیں جن کی تعداد پاکستان میں ڈیڑھ کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق ہر ملک اپنی کل آبادی کا دس فیصد معذور کاؤنٹ کرکے ان کیلئے فنڈ مختص کرنے اور ان کو بہترین سہولیات دینے کا پابند ہے مگر آج تک کسی بھی بجٹ میں پاکستان کی اس سب سے بڑی کمیونٹی کیلئے خاطر خواہ منصوبہ بندی نہیں کی گئی خدمت کارڈ کے نام پر ایک سکیم شروع کی گئی ہے جس میں دی جانیوالی امداد اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف بھی نہیں اور کہا یوں جارہاہے جیسے دوارب روپے رکھ کر معذوروں کے تمام دکھ درد دور کردئیے گئے ہوں حالاں کہ اگر ان دوارب کو ہر معذور پر سالانہ تقسیم کیا جائے ہر معذور کو سالانہ 222روپے آتے ہیں اگر صوبے اور وفاق مل کر کم از کم ایک سو ارب روپے مختص کریں تو معذوروں کو کسی حد تک ریلیف مل سکتا ہے

یہ بھی پڑھیں  دورہ زمبابوے کے لئے قومی ٹیم کا اعلان، یونس خان ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker