پروفیسر مظہرتازہ ترینکالم

کسے ووٹ دوں ؟

خلیل جبران نے کہا’’ترس کھاؤ اُس قوم پر جو نئے حکمرانوں کا شہنائیوں سے خیرمقدم کرتی اور انہیں آوازے کس کر رخصت کرتی ہے ‘‘۔ہمارا مگر چار عشروں سے وطیرہ ہی یہی ہے اور جمہوری تاریخ ’’آوے ای آوے‘‘ اور ’’جاوے ای جاوے‘‘ کے گرد ہی گھومتی رہتی ہے ۔ہم نے اپنے ہی منتخب کردہ ہر حکمران کی آمدہی نہیں بلکہ رخصت پربھی بھنگڑے ڈالے ، مٹھائیاں بانٹیں لیکن ایک لحظے کے لیے بھی یہ سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی کہ قصور کس کا ہے؟ ۔حکمرانوں کا یا ہماری چشمِ انتخاب کا ؟۔کیایہ عین حقیقت نہیں کہ ہماری نظروں میں ہمیشہ وہی جچتا رہا جو ہماری ہر ناجائز خواہش کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو ؟۔کیا ہم شرفاء پر آوازے کستے اور اُنکی ضمانتیں تک ضبط نہیں کروا دیتے ؟ ۔جنرل منٹگمری نے کہا تھا ’’اگر کسی قوم کے پاس ایٹم بم نہیں تو کوئی بات نہیں لیکن اگر نظریہ نہیں تو وہ قوم زندہ نہیں رہ سکتی ‘‘۔ہمارے پاس ایٹم بم تو ہے لیکن ہماری نگاہِ انتخاب ہمیشہ ایسے حکمرانوں پر پڑی جنہیں اپنے ایٹمی قوت ہونے کا ادراک ہوانہ احساس ۔نظریہ بھی ہے لیکن ’’نظریۂ ضرورت‘‘ ۔جس کا ہم اپنی تشنہ خواہشات کی تکمیل کے لیے ووٹ کے ذریعے بخوبی استعمال کرتے ہیں اور حکمران ذاتی خزانے کی آبیاری کے لیے ۔اسی نظریۂ ضرورت کا موسم ایک بارپھر قریب آ لگا ہے اور اُمیدِ واثق ہے کہ تاریخ ایک دفعہ پھر اپنے آپ کو دہرائے گی کیونکہ تاریخ کا سب سے بڑا سبق تو یہی ہے کہ تاریخ سے کوئی سبق حاصل نہیں کرتا ۔لیکن برنارڈ شاکہتا ہے ’’ماضی کی غلطیوں پہ رونا مضحکہ خیز ہے کیونکہ مستقبل ابھی باقی ہے‘‘۔
ہم اگر برنارڈ شا کی بات مان کر ماضی کی غلطیوں پہ رونا دھونا چھوڑ کر اپنے سدھارکے لیے تیار ہو بھی جاتے ہیں تو پھر بھی یہ سوال دامن گیر ہے کہ کسے ووٹ دیں؟۔ سیانے کہتے ہیں کہ ’’آزمودہ را آزمودن جہل است‘‘۔تو پھر کیا پیپلز پارٹی کو جس کی تاریخ ’’سقوط ڈھاکہ ‘‘سے ہوتی ، عقوبت خانوں کی سیر کرواتی ، نتھ فورسوں سے روشناس کرواتی اوربے دریغ سیاسی قتل کرواتی ہوئی کرپشن کی انتہاؤں تک آن پہنچی ہے ۔یورینیم کی افزودگی کو 95 فیصد سے 5 فیصد تک لانے کی کوشش ، سکھوں کی فہرستیں انڈیا کو پہنچانے اور ایٹمی پراگرام ’’کیپ‘‘ کرنے کی سعی جیسے الزامات اس کے علاوہ ہیں۔پیپلز پارٹی اسغر خاں کیس کا شور تو بلند آہنگ سے مچاتی ہے لیکن آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حید گل کے بارے میں خاموش ہے جو سینہ تان کر کہتے ہیں کہ وہ آئی جے آئی کے خالق ہیں ۔وہ معدد بار بتا چکے ہیں کہ ان کا اوپن کورٹ ٹرائل کروایا جائے وہ ثابت کر دیں گے کہ آئی جے آئی کی تشکیل وقت کی ضرورت تھی ۔ لیکن پیپلز پارٹی یہ’’ رسک‘‘ کبھی نہیں لے گی کیونکہ بہت سے رازوں سے پردہ اٹھنے کا خطرہ ہے۔یہ وہی ’’پاکستان کھپے‘‘ حکومت ہے جس نے قوم سے سب کچھ چھین لیا سوائے اکھڑتی سانسوں کے ۔جس کے 1700 دن قوم نے انگلیوں پر گن گن کر گزارے اور اگلے سو ، سوا سو دن گزارنا محال بلکہ نا ممکن ہوتا جا رہا ہے ۔ ایسے حکمرانوں کو کوئی کیسے ووٹ دے اور کیوں؟
نوازلیگ کویہ گلہ ہے کہ اسے موقع نہیں دیا گیا ۔موقع تو ملا اور ایک نہیں دو ، دو بار ملالیکن ’’میڈ اِن پاکستان‘‘ کا نعرہ لے کر اٹھنے والوں نے اپنے بچوں کو انگلینڈ اور سعودی عرب میں کاروبار کروانے ہی میں عافیت جانی ۔ من میں ’’امیر المومنین‘‘ بننے کا ایسا سودا سمایا کہ سب کچھ بھلا بیٹھے ۔امیرالمومنین تو نہ بن سکے البتہ جلا وطنی کا صدمہ سہنا پڑا ۔اُن کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ اقتدار کی ’’ریوڑیاں‘‘ہمیشہ اپنوں میں ہی بانٹتے ہیں ۔اِس صنعتکار خاندان نے ابتلاء کا تو کئی بار سامنا کیا لیکن حیرت ہوتی ہے کہ اُن کی دولت میں انتہائی سرعت سے اضافہ ہی ہوتا چلا گیا ۔نواز لیگ سے بیزاری کے لیے یہی کافی ہے کہ اُس نے چار سال تک ایک ایسی حکومت کو سہارا دینے کا جرمِ عظیم کیا جس کا اصلی چہرہ چار ماہ میں ہی نظر آ گیا تھا ۔
بلا شُبہ چوہدری ظہور الٰہی سیاست دانوں کے اُس گروہ سے تعلق رکھتے تھے جس کا نام سنتے ہی اذہان و قلوب میں احترام انگڑائیاں لینے لگتا ہے۔لیکن اُن کے وارث؟ اور وارثوں کے وارث ؟ ۔وراثت اُنہیں ملی جنہیں بہر صورت اقتدار چاہیے ۔بھلے وہ اقتدار چوہدری ظہور الٰہی کے خون کا سودا کرکے ملے یا کسی آمر کے چرنوں کی دھول بن کر ۔ آجکل چوہدری پرویزالٰہی اپنے کارنامے گنواتے نہیں تھکتے لیکن وہ کسی کو یہ ہر گز نہیں بتلاتے کہ ان کے ’’وارث‘‘نے اُن کے دورِ اقتدار میں ایسے گُل کھلائے کہ لوگ ’’مسٹر ٹین پرسنٹ ‘‘تک کو فرامش کر بیٹھے۔اپنے کارنامے گنواتے ہوئے چوہدری صاحب کی تان ہمیشہ ریسکیو 1122 پر ٹوٹتی ہے لیکن یہ تو اک خواب تھا جو ایک شخص 1992 ء سے دیکھ رہا تھا ۔اسے کارپردازانِ حکومت طنزاََ کہا کرتے تھے ’’ ڈاکٹر صاحب ! یہ امریکہ نہیں ، پاکستان ہے‘‘۔ اور ’’ ایں خیال است و محال است و جنوں ‘‘ ۔ لیکن وہ شاید نہیں جانتے تھے کہ حصولِ مقصد کے لیے جذبۂ جنوں ہی درکار ہوتا ہے ۔بلا شبہ یہ ڈاکٹر رضوان نصیر کی جنوں خیزی کا ہی کرشمہ تھا جو انہوں نے محض 14 ایمبولینسز کے ساتھ ’’گھوڑوں کے اصطبل‘‘ میں اِس سروس کے آغاز کی آفر بھی ہنس کر قبول کر لی ۔جب کئی ماہ تک ساتھیوں کو تنخواہ نہ ملی تو اُنہیں حوصلہ بھی دیا اور اپنی جیب سے پیسے بھی ۔یہ ڈاکٹر رضوان نصیر کی کرشمہ سازی ہی تو ہے جو اُنہوں نے محض آٹھ سال میں پورے پنجاب کو بین الاقوامی معیار کی ایسی سروس فراہم کر دی کہ جس کا نام سُنتے ہی آغوشِ مادر کی سی ٹھنڈک کا احساس ہونے لگتا ہے ۔اس لیے اِس مداحی کے حق دار چوہدری پرویز الٰہی نہیں ، ڈاکٹر رضوان نصیر ہیں ۔
کیا قوم کی نگاہِ انتخاب ایم کیو ایم، ایم ایم اے یا اے این پی پر پڑ سکتی ہے؟۔ایم کیو ایم جب سے وجود میں آئی ہے ’’شہرِ قائد‘‘ خونم خون ہے۔ٹی وی بیچ کر اسلحہ خریدنے کا حکم اسی کے قائد نے دیا تھا ۔اعلیٰ عدلیہ کہتی ہے کہ کراچی کی ٹارگٹ کلنگ ادلے کا بدلہ ہے پھر بھی جب کراچی کو اسلحے سے پاک کرنے کی قرار داد سامنے آتی ہے تو ’’قائدِ تحریک‘‘ کو اِس میں سازشوں کی بُو آ نے لگی ہے ۔۔۔ ایم ایم اے کو خیبر پختون خواہ کی حکومت ملی تو مولوی حضرات ’’حجروں‘‘ سے نکل کر لینڈ کروزروں میں سوار ہو گئے ۔حکومت کا مزہ چکھنے کی خاطر سترھویں ترمیم کی منظوری کا طوق اپنے گلے میں ڈال لیا جسے پاکستانی تاریخ ہمیشہ یاد رکھے گی۔ ۔۔ اے این پی وہ جماعت ہے جس کے بانی کو پاکستان میں دفن ہونا بھی قبول نہ تھا اُنہوں نے جو گُل کھلائے وہ سبھی پر عیاں ہیں لیکن ریلوے کی تباہی سنہرے حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے ۔کراچی کے مظلوموں کے خون کے بہت سے دھبے اے این پی کے دامن پہ لگے صاف دکھائی دیتے ہیں ۔
باقی بچے ’’کپتان صاحب ‘‘جنہیں ابھی تک ’’خدمت‘‘ کا موقع نہیں ملا لیکن وہ اپنی غیر متوقع کامیابیوں پر ایسے بوکھلائے کہ پھر سنبھل نہ سکے ۔اُن کی نئی بوتل میں ’’پُرانی شراب‘‘ بیچنے کی تگ و دو ابتداء ہی میں ناکامیوں کا شکار ہو گئی ۔اُن کے مدح سرا سینئر لکھاری کہتے ہیں کہ عمران خاں میں واپس پلٹنے اور خود کو بحال کر لینے کی غیر معمولی صلاحیت ہے۔ دیکھتے ہیں کہ گُرگ ہائے بارہ دیدہ اُن کو پلٹنے ، جھپٹنے کا موقع دیتے ہیں یا نہیں۔۔۔ کوئی بتلائے کہ کسے ووٹ دوں ؟

یہ بھی پڑھیں  پاکستان آرمی کا طیارہ گرکر تباہ، دونوں پائلٹس زخمی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker