تازہ ترینصابرمغلکالم

کس کس بات پر معافی؟

sabir mughalلاہور میں سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے حلقہ میں ری پولنگ کے فیصلہ کے اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی سید خورشید شاہ نے نہ جانے کس ترنگ ،ڈر ،خوف یا پیپلز پارٹی کی ڈوبتی ۔نیا۔کا ادارک کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کے چاروں مرکزی ارکان کی تقرری پرقوم سے معافی مانگی ہے،ایسے لوگوں کی معافیاں بھی کسی نئی منزل کی تلاش یا حصول کی وجہ سے ہوتی ہے ،قوم کو یاد ہوگا کہ مسلم لیگ کے دور اقتدار سے ایک سال بعد وفاقی وزیر بجلی و پانی خواجہ آصف نے بھی انرجی بحران پر قابو نہ پانے پر قوم سے نہ صرف معافی مانگی بلکہ یہ بیان بھیدیا کہ اگر ایک سال تک پاکستان میں پانی ذخیرہ کرنے کا انتظام نہ ہوا تو پاکستان کی حالت صومالیہ یا سوڈان سے بھی زیادہ خطرناک ہو جائے گی اور قحط ہمارے گھروں پر دستک دے گا،نہ اس معافی پر کسی کو کچھ شرم آئی اور نہ اس معافی کے بعدکسی کو شرم آئے گی،سید خورشید شاہ کے اس بیان کے دوسرے روز ہی این اے 154لودھراں میں الیکشن ٹربیونل کے جج زاہد محمود نے مسلم لیگ (ن) کے ایم این اے صدیق بلوچ کو جعلی ڈگری اور دھاندلی جسے یہ لوگ بے ضابطگیاں بولتے ہیں تا حیات نا اہل قرار دے دیا۔عوام اور حکومتی حواریوں کے علاوہ سب اس فیصلہ کو تیسری وکٹ گرنا کہہ رہے ہیں،اس د ھماکہ خیز خبر کے ساتھ پاکستان میں جو سب سے اہم خبر سامنے آئی وہ سابق صدر آصف علی زرداری کے دست راست ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری تھی ،ایک روز قبل ہی غلط فیصلہ پر قوم سے معافی مانگنے والے سید خورشید شاہ نے کرپشن مین ملوث ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری کی شدید مذمت کی۔(قول و فعل کا تضاد؟)سید خورشید شاہ نے پہلی مرتبہ پی ٹی آئی کے مرکزی لیڈر شاہ محمود قریشی کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ پاکستان الیکشن کمیشن کے چاروں ارکان متنازع ہو چکے ہیں،اس پر ہمارا اور پی ٹی آئی کا مؤقف یکساں ہے،ان ممبران کو انکوائری کمیشن رپورٹ اوربدعنوانی الزامات پر مستعفی ہو جانا چاہئے کیونکہ اب ان ارکان کی موجودگی کا کوئی جواز نہیں،اسی موقع پر سید خورشید شاہ کو ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری کی اطلاع ملی تو کہا ۔ریاست کے اندر ریاست قائم کرنا خطرناک ہے۔جس وقت چیر میں ایجوکیشن کمیشن سندھ ،چیر مین ضیاء الدین گروپ آف ہسپتالز کراچی ،صدر پاکستان نرسنگ کونسل اورچیر مین پٹرولیم انسٹیٹیوٹ آف پاکستان ڈاکٹر عاصم حسین کو کلفٹن مین واقع ان کے آفس سے گرفتار کیا گیا تب وہ داؤد میڈیکل یونیورسٹی کراچی کے لئے وائس چانسلر کی تقرری کے لئے انٹر ویو کر رہے تھے،ڈاکٹر عاصم حسین جو خیر سے ۔ستارہ امتیاز اور ہلال امتیاز ۔یافتہ ہیں اس وقت کرپشن الزامات کے تحت نیب اور دیگر تحقیقاتی اداروں کی تحویل میں ہیں،آصف علی زرداری کے دور حکومت میں وفاقی وزارت اور ایڈوائزر کے مزے لوٹتے رہے، وہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل پاکستان،اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی آف کیبنٹ،کیبنٹ کمیٹی آف پرایؤیٹائزیشن ،کیبنٹ کمیٹی آف انرجی،کیبنٹ کمیٹی ریگولر باڈیز،کوآپریٹ ایسوسی ایشن کے ممبر اوروائس چانسلر علی گڑہ یونیورسٹی بھی رہے،ڈاکٹر عاصم حسین پر جو الزامات ہیں ہیں ان میں سر فہرست الزامات میں من پسند کمپنیوں کو ۔ایل این جی۔ٹھیکہ،رشوت کے عوض سی این جی لائسنسوں کا اجراء،اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے THQاورDHQکراچی میں اربوں روپے کے گھپلے وغیرہ شامل ہیں بعد میں نیب اور ایف آئی اے ان کے دفتر سے حاصل کئے گئے ریکارڈ کے مطابق کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے دفتر پر بھی چھاپہ مارا،اسی روز سوئی نادرن گیس کے ڈپٹی ایم ڈی شعیب وارثی کو بھی گرفتا کیا گیا جبکہ چیف چیکرٹری صدیق میمن نے الزامات پر عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری کرا لی ہے،سندھ رینجرز اس سے قبل صوبائی حکومت کے تعینات کردہ متعدد اعلیٰ بیوروکریٹس کو گرفتار کر چکی ہے جبکہ ایسے مگر مچھوں کی بہت بڑی تعداد بیرون ملک کسی گوشہ سکون کی تلاش میں اڑان بھر گئی ہے،ہر طرف گھپلے ہی گھپلے ،کرپشن ہی کرپشن ،بہت کچھ عوام کے سامنے آ چکا ہے اور ہر نئے دن آرہاِ ایم کیو ایم استعفیٰ ڈرامہ کے بعد چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے کور ہیڈ کوراٹر کراچی میں ایک اجلاس جس میں کور کمانڈر کراچی،ڈی جی رینجر سندھ،دائریکٹر جنرل آئی ایس آئی،چیف سیکرٹری ،انسپکٹر جنرل پولیس،کمشنر کراچی اورانٹیلی جنس ایجنسیوں کے نمائندوں نے شرکت کی ،جنرل راحیل شریف نے تمام تر صورتحال کا دراک کرتے ہوئے واضح ترین الفاظ میں ۔بدبو افراد اور مافیاز۔کے خلاف آپریشن میں ملوث ایجنسیوں سے کہا کہ۔وہ دہشت گردوں اور کرپٹ مافیاز کا گٹھ جوڑ توڑ دیں،تمام متعلقہ ادارے سیکیورٹی آپریشن بلا امتیاز جاری رکھیں تا کہ ملکی معیشت کے محور شہر کا امن و امان بحال کیا جا سکے،اب تو نیب نے شہر لاہور میں بھی ۔مافیاز۔کے خلاف ؂خود کو پوری طرح سرگرم عمل کر لیا ہے۔لاہور سے تعلق رکھنے والے تین افراد سعید اشرف،قیوم صفدر اور آصف محمود جو کروڑوں روپے کے غبن میں ملوث ہیں کو گرفتا کر لیا گیا ہے،اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ صرف ارکان الیکشن کمیشن کی تقرری پر قوم سے معافی مانگی ہے کیا وہ کرپشن کے مکروہ ترین دھندہ پر بھی جو ان کے سنہری میں ہوتا رہا اس پر قوم سے معافی مانگنے کی اخلاقی جرات کریں گے؟ رینٹل پاور جیسے میگا کرپشن ،توقیر صادق جیسے بد کردار ،بد خصلت شخص کی اوگرا جیسے اہم محکمہ میں قوائد سے ہٹ کر تقرری ،حج سکینڈل جن کی فہرست نیب نے سپریم کورٹ آف پاکستان مین بھی جمع کرا دی تھی ان میں پی پی پی کے ہی یوسف رضا گیلانی،فردوس عاشق اعوان،ظفر اقبال گوندل ،عبداللہ یوسف ،سلمان صدیقی سمیت ان گنت افراد شامل ہیں ،یوں لگتا ہے جیسے اب بڑی بڑی اور نامور شخصیات کے گرد گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے اور بہت جلد ان کے کرتوت بھی عوام کے سامنے ہوں گے،سید خورشید شاہ کو ان سب سیاہ کرتوتوں کا بخوبی علم ہے وہ اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان پر بھی قوم سے معافی مانگ لیں ،کسی کا حق مارنے والے یا ان کا ساتھ دینے والے اگر صدقے دل سے معافی مانگ لیں تو ان کی آخرت سنور جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  ارکان قومی اسمبلی کراچی میں لوگوں کی مدد کیلئے حلقے میں نکلیں: وزیراعظم

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker