اطہر مسعودوانیتازہ ترینکالم

کس کو پڑی ہے عالم ناپائیدار میں!

atharشدیدتر سردی تھی،رات دس ،ساڑھے دس بجے میں اپنے گھر سے آدھ فرلانگ دور ایک عزیز کے گھر سے نکلاتھا۔نکلتے ہی دیکھا کہ ایک شخص چادر لپیٹے مجھ سے پیچھے آ رہا تھا۔سردی کی شدت کی وجہ سے میرے قدم تیز تھے کہ جلد گھر پہنچ کر ہیٹر کی تپش لے سکوں۔گھر کے باہر کا گیٹ کھول کر  اندر داخل ہونے ہی والا تھا کہ مجھے اپنے عقب سے آواز آئی،” کچھ کھانے کو مل جائے گا”، میں نے مڑ کر ایک نظر اسے دیکھا اور تلخ سی آواز میں انکار کے انداز میں کہا،” یہ کون سا وقت ہے کھانے کا؟”۔ یہ کہنے کے ساتھ ہی میں نے ایک قدم گیٹ سے اندر ر کھا توبجلی کی رفتار سے ایک واقعہ میرے ذہن میں دوڑ گیا،میں نے فورا مڑ کر اس شخص سے کہا کہ ٹہرو،کھانا تو ابھی میں نے بھی نہیں کھایا،گیٹ سے اندر داخل ہو کر میں نے اسے بٹھایا کہ دیکھتا ہوں کہ کیا پکا ہوا ہے۔چاول اور مونگ کی دال کا کھانا لیکر میں اس کے پاس آیا تو وہ زمین پر ہی بیٹھ کر کھانے لگا،میں نے اس سے کہا کہ کرسی پر بیٹھ کر کھائو،لیکن وہ کہنے لگا ،میں اسی طرح بیٹھ کر کھانا پسند کرتا ہوں۔میں نے کھانا کھاتے اس شخص کا جائزہ لیا،مجھ سے بہت چھوٹا 23،24سال کا نوجوان تھا،پتلے چہرے پہ پتلی سی مونچھیں،شرافت اس کے چہرے سے چھلکتی تھی،صاف،مناسب شلوار قمیض میں گرم سی چادر اوڑھے،کسی اچھے گھر کا فرد معلوم ہوتا تھا۔وہ کھانا کھا چکا تو میں نے اس نے پوچھا کہ کون ہو اور کہاں جا رہے ہو؟اس نے جواب دیا کہ میں چک بیلی خان کے ایک گائوں کا رہنے والا ہوں،ایک ہفتے سے مزدوری کرنے یہاں آیا ہوں،کئی دنوں کی مسلسل بارش کی وجہ سے کوئی مزدوری نہیں ملی۔میں نے پوچھا کہ اب کہاں سے آ رہے ہو ،تو اس نے کہا کراچی کمپنی میں مزدوری کے لئے بیٹھا رہا،اب وہاں سے آ رہا ہوں۔میں نے پھر پوچھا رات کہاں رہتے ہو،نو جوان نے کہا چاندنی چوک میں ایک پلازے کے برآمدے میں سوتا ہوں،میں نے پوچھا کوئی بستر وغیرہ؟ اس نے کہا بس یہی ایک چادر ہے۔ان دنوں اتنی سخت سردی تھی کہ گرم کمرے کے بستر میں بھی سردی محسوس ہتی تھی،اور وہ نوجوان اس شدید سردی میں کھلی جگہ کنکریٹ کے فرش پر محض ایک چادر میں رات گزارتا تھا۔کہنے لگا، کافی دن ہو گئے ہیں مزدوری نہیں ملی،سوچتا ہوں گھر ہی واپس چلا جائوں۔
وہ کیا بات تھی کہ جس نے مجھے اس نوجوان کو کھانے کے لئے روکنے پر مجبور کر دیا؟واقعہ یہ ہے کہ میرے بڑے بھائی خواجہ ظفر محمود وانی’ رسول پولی ٹیکنیک کالج’ سے فارغ ہو کر واپس آ رہے تھے۔میں راولپنڈی سے اپنی کار میں انہیں لینے گیا۔ کالج  میں سب سے الوداعی ملاقات کرتے کرتے اندھیرا چھانے لگا۔ کالج سے روانہ ہونے کے تھوڑی ہی دیر بعد کار کا ایک ٹائر پینچر ہو گیا۔ٹائر تبدیل کر کے پھر روانہ ہوئے تو چند کلو میٹر کے فاصلے پر ویران جگہ ایک ٹائر پھر پینچر ہو گیا۔پینچر لگانے کی قریب ترین جگہ بھی بھی بیس پچیس کلومیٹر دور تھی۔ہمارے ساتھ بھائی کے تین کلاس فیلو  فرہاد( لاہور)،طارق(کراچی) اوراظہر(شیخوپورہ) بھی تھے۔اندھیرا چھا چکا تھا اورٹریفک بھی نہ ہونے کے برابر تھی۔اتنے میں غیر متوقع طور پر ایک کار نظر آئی،ہمارے ہاتھ دینے پر رکی تو معلوم ہوا کہ ہمارے ایک پرانے کرائے دار بنک منیجر ملک اشرف صاحب(جہلم) ہیں۔بھائی اور ان کا ایک دوست دونوں پینچر ٹائر لیکر کار میں روانہ ہو گئے۔ہم سب سڑک کے ساتھ گھاس پر بیٹھ گئے۔خنکی سی محسوس ہوئی تو ہم لکڑیاں ،کاغذ جمع کر کے آگ لگا کر ہاتھ تاپنے لگے۔دور درختوں کے درمیان ایک جگہ سے کچھ وقفے سے تین چار آدمی گزرتے نظر آئے تو محسوس ہوا کہ شاید وہاں کوئی گائوںغیرہ ہو گا۔کچھ وقت گزرا تو بھوک ستانے لگی ،بھائی کے کلاس فیلو اظہر سے درخواست کی کہ وہ اس گائوں میں جا کر روٹیاں وغیرہ لے آئے،وہ فورا روانہ ہو گیا۔کافی دیر ہو گئی لیکن وہ واپس نہیں آیا،بھائی اور ان کا دوست بھی ٹائر لیکر واپس آ چکے تھے۔ہماری تشویش بڑہتی جا رہی تھی کہ اظہر میاں شراتی طبیعت تھے،ہم نے سوچا کہ وہ گائوں میں کوئی شرارت کر کے پھنس نہ گیا ہو۔اتنے میں دیکھا کہ اسی طرف سے بیس پچیس افراداندھیرے میں ہیولے کی طرح آ رہے تھے،اندھیرے کے باوجود ان کے ہاتھوں میں پکڑے لمبے ڈنڈے صاف نظر آ رہے تھے۔قریب آئے تو کئی دیہاتیوں کے درمیان  اظہر میاںاپنے مخصوص شرارتی انداز میں مسکرا رہا تھا۔وہ لوگ قریب آئے تو ایک نے چٹائی بچھا دی،دوسرے نے ایک بڑی کڑاہی رکھی ،ایک نے گرم روٹیاں ،اچار ،سلاد،پانی کا جگ،گلاس رکھے اور ہمارے گرد دائرہ بنا کر کھڑے ہو گئے کہ ” حضور تناول فرمائیں”۔ہم نے شرمندگی کے عالم میں جلدی جلدی کھانا کھایا اور ان کا بے حد شکریہ ادا کر کے وہاں سے روانہ ہوگئے۔پوچھنے پر اظہر نے بتایا کہ وہ چند گھروں پر مشتمل ایک چھوٹے سے گائوں پہنچا تو وہاں تاریکی کا راج تھا،ایک جگہ ذرا روشنی سی نظر آئی،وہاں ایک کمرے میں گائوں کے چند نوجوان بیٹھے تھے۔اظہر نے ان سے کھانے کا سوال کیا کہ ہم کالج کے سٹوڈنٹ ہیں ،ہماری گاڑی خراب ہو گئی ہے ،توانہوں نے اسے وہاں بٹھا لیا اور اس سے مذاق شروع کر دیا کہ ” شہری بابو روٹی مانگنے آئے ہیں”۔اظہر ڈھٹائی سے سوالیہ نظروں کے ساتھ وہاں بیٹھا رہا۔مذاق جب زیادہ ہو گیا تو انہی میں سے ایک نوجوان غصے میں آ گیا کہ کوئی گائوں میں آ کر کھانے کا سوال کر رہا ہے اور تم سب اس کا مذاق اڑا رہے ہو۔وہ نوجوان اظہر کو لیکر اپنے گھر گیا،اپنی والدہ اور بہنوں کو نیند سے جگایا ،روٹیاں پکائی گئیں،ہمسائے کو بھی جگا کر اس سے رات کا بچا سالن طلب کیا گیا،دونوں سالن ملا کر دیسی گھی کا تڑکا لگا یا اور کئی افراد کھانے کا سامان اٹھائے ایک ڈیڑھ کلو میٹر دور پیدل چل کر ہم تک پہنچے۔یہی وہ واقعہ تھا جو یاد آتے ہی میں نے اس نوجوان کو کھانے کے لئے روک لیا۔
آج ” فیس بک ” پہ رفاقت شاہ بخاری نے ایک تصویر لگائی جس میں دکھایا گیا ہے کہ مظفر آباد شہر میں ایک چار ،پانچ سال کی پیاری  بچی کوڑے کے ڈھیر میں سے کچھ تلاش کر رہی ہے۔آج ہی ” فیس بک ” پہ ایکؤؤؤ وڈیو کلپ بھی دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں دکھایا گیا ہے کہ کسی مغربی ملک میں ایک شخص کھانا کھاتے مختلف افراد سے درخواست کرتا ہے کہ اسے بہت بھوک لگی ہے ،کیا آپ کچھ کھانے کو دے سکتے ہیں؟ لیکن ہر ایک نے اسے انکار میں جواب دیا۔کئی ایسے افراد ،جو آسانی سے بغیر کسی بوجھ کے اسے کچھ کھانے کو دے سکتے تھے ،لیکن انہوں نے انکار کیا۔اس کے بعدوہ شخص سڑک کے کنارے لیٹے ایک مفلوک الحال آدمی کے پا س گیا،جسے کچھ ہی دیر پہلے کوئی آدمی کھانے کے لئے برگر اور ڈرنک دے گیا تھا،اور اس سے کہا کہ مجھے بہت بھوک لگی ہے،کیا آپ مجھے کچھ کھانے کو دے سکتے ہیں؟ اس پر اس شخص نے اسے فورا اپنے کھانے میں شریک کر لیا۔کچھ ہی دیر میں ایک اور شخص نے آ کر سڑک کنارے بیٹھے فقیر نما اس آدمی کو دس ڈالر دیئے۔کھانا مانگنے والے شخص نے اس فقیر نما شخص سے کہا کہ اسے ایک ڈالر کی ضرورت ہے،اس نے بلاجھجک ایک ڈالر نکال کر اسے دے دیا۔یعنی جس کے پاس جو نعمت وافر مقدار میں ہو،وہ اسے کسی کو دینے پر رضامند نہیں ہوتا لیکن جس کے پاس بہت کم ہوتا ہے ،وہ بلا تعمل مانگنے والے کو دے دیتا ہے۔
درج بالا دو قعات سے مجھے ایک قریبی عزیز کا سنایا ایک واقعہ یاد آ یا،وہ اس وقت مظفر آباد میں ایک عارضی سرکاری ملازمت کر رہا تھا۔اس نے واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ” عید قریب تھی،پیسے ختم ہوگئے تھے اور میں انتظار میں تھا کہ تنخواہ مل جائے تو عید منانے اپنے گھر راولپنڈی روانہ ہو جائوں۔عید کو دو تین دن رہ گئے تھے،دفتر تنخواہ لینے گیا تو معلوم ہوا کہ تنخواہ عید کے بعد ہی ملے گی”۔وہ عزیز بے حد پریشان ہوا کہ اب راولپنڈی کیسے پہنچے گا،کوئی ایسا واقف بھی نہ تھا کہ جس سے ادھار مانگا جا سکے۔اسی کشمکش میں اس نے فیصلہ کیا کہ کسی سے مانگنے کی ذلت اٹھانے سے بہتر ہے کہ پیدل ہی راولپنڈی روانہ ہوا جائے۔وہ اپنے کپڑوں کا بیگ ہاتھ میں لئے مظفر آباد سے پیدل ہی چل پڑا۔مظفر آباد سے کئی کلو میٹر آگے، کپڑوں کے بیگ کے بوجھ کے ساتھ چلتا جا رہا تھا کہ اچانک اس کے قریب سے گزرتی ایک کار میں سے کسی نے زور سے اس کا نام پکارا،اس نے دیکھا کہ اس کا راولپنڈی کا ایک بچپن کا دوست تھا، جو اسے پکارنے کے بعد ہاتھ ہلا ہلا کر چلتی کار سے اسے ” بائے بائے ”کر رہا تھا۔اس کے اس دوست نے کار روک کر اس سے یہ معلوم کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی کہ وہ بیگ ہاتھ میں اٹھائے ویران جگہ پہ پیدل کیوں جا رہا ہے؟وہ رک کر اپنے دوست کی کار اور اپنے دوست کے ہلتے ہاتھ کو اس وقت تک دیکھتا رہا جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہو گئے۔چلتے چلتے چھتر کلاس سے آگے پہنچا تو ایک ٹرک والے نے گاڑی روک کر اسے لفٹ دینے کی پیشکش کی۔کئی کلومیٹر پیدل چلنے کی تھکن سے چور اس نے لفٹ قبول کر لی اور ٹرک میں بیٹھ گیا۔ٹرک ڈرائیور نے اس سے کہا کہ میں نے مال پہنچانے کے لئے اس سڑک پہ کئی چکر لگائے ہیں، اور ہر بار آپ کو پیدل چلتے دیکھا،آپ کے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟ لیکن اس عزیز نے اسے کچھ نہیں بتایا،ٹرک ڈرائیور اصرار کرتا رہا کہ وہ اپنا مسئلہ اسے بتائے لیکن وہ عزیز کسی مشکل میں ہونے سے انکار کرتا رہا۔آخرٹرک ڈرائیور نے اسے کہا کہ وہ اس سے کچھ روپے ادھار لے لے اور بعد میں اسے واپس لوٹا دے لیکن وہ عزیز کہنے لگا کہ مجھے پیسے کی ضرورت نہیں ہے،آپ کا بہت بہت شکریہ۔اس ٹرک ڈرائیور نے کوہالہ کے قریب تک ہی جانا تھا،وہ عزیز اس کا شکریہ ادا کر کے ٹرک سے اتر گیاکہ اسے کوہالہ ہی جانا ہے۔ٹرک ڈرائیور اسے اتار کر آگے کی طرف چلا گیا۔اس عزیز نے سنایا کہ میں دکھ اور پریشانی میں پیدل چل پڑا،کچھ ہی آگے گیا تھا کہ گرد آلود راستے پہ پچاس روپے کا ایک نیا نوٹ مٹی پہ سڑک کے درمیان پڑے دیکھا۔ اس نے سوچا کہ اللہ نے دینا ہوتا تو کچھ زیادہ دیتا ،اللہ نے اس کی بے بسی کی یہی قیمت لگائی ہے؟ اسی غصے میں وہ پچاس روپے کا نوٹ چھوڑ کر آگے بڑھ گیا،ایک فرلانگ آگے جا کر اسے خیال آیا کہ پیدل چل کر وہ کب راولپنڈی پہنچے گا،یہ سوچ کر واپس آیا تو دیکھا  وہ پچاس کا نوٹ اسی جگہ پڑا ہوا تھا۔اس وقت مظفر آباد سے راولپنڈی تک بس کا کرایہ پچیس روپے تھا۔اس عزیز کو آج بھی یقین ہے کہ پچاس روپے کا نوٹ اسی ٹرک ڈرائیور نے سڑک پہ پھینکا تھا،اس ٹرک کے بعد کوئی گزرا بھی نہیں تھا کہ پچاس کا نیا نوٹ مٹی میں دور سے صاف نظر آرہا تھا۔
اتنے میں راولپنڈی جانے والی بس آ گئی اور وہ بس میں سوار ہو گیا۔مری سے آگے چھتر کا مقام آیا تو اس نے سوچا کہ اگر پیدل آ رہا ہوتا تو ابھی کوہالہ سے کچھ ہی آگے پہنچا ہوتا،یہ سوچ کر وہ بس سے اتر گیا اور پیدل ہی چلنا شروع کر دیا کہ جہاں تھک گیا وہاں سے کسی آتی ہوئی بس میں بیٹھ جائوں گا۔شام کا وقت تھا،اندھیرا چھا رہا تھا،اتنے میں اسے ایک غریب سا بوڑھا  ملا جو اپنی بکر یوں کولئے جا رہاتھا۔اس بوڑھے نے اس سے پوچھا کہ آپ کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے؟ آپ کیوں پیدل جا رہے ہیں؟یہ جگہ ویران ہے اور خطر ناک بھی ہے،میرا کچہ گھر قریب ہی ہے ،جو کچھ بھی ہوا مل کر کھا لیں گے،تم رات گزار کر صبح روانہ ہو جانا۔ وہ بوڑھا چرہاوا اصرار کرتا رہا کہ مجھے بتائو کہ آپ کو کیا پریشانی ہے۔اتنے میں بس آ گئی اور وہ اس بوڑھے کا تہہ دل سے شکریہ ادا کر کے بس میں سوار ہو گیا۔اس عزیز کا کہنا ہے کہ میں آج بھی اس ٹرک ڈرائیور اور اس بوڑھے چرہاوے کا شکر گزار ہوں جنہوں نے انسانیت کی پاسداری کی اور یہ سبق دیا کہ پریشانی ،مصیبت میں پھنسے انسان کے کام آنا انسان کا فرض ہے،اس کے لئے اسباب کی نہیں خلوص اور ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے۔عظیم انسان ہیں وہ لوگ جو خود غریب ،سفید پوش ہوتے ہیں لیکن کسی کو بھی پریشانی میں دیکھ کر خود اس کا احساس کرتے ہیں۔بااختیار،دولت مند لوگ ،بھوکے،غریب،ضرورت مند کی مصیبت سے لا پرواہ ہوتے ہیں،وہ ان کی تکلیف دور کرنے کے لئے اپنی معمولی سی چیز دینے کے بھی روا دار نہیں ہوتے
note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button