تازہ ترینعلاقائی

ارساکےظالمانہ فیصلے پرکسان بورڈ پنجاب کےعہدیداران کاشدیدردعمل

لاہور ﴿ پ ر﴾ کسان بورڈ غربی پنجاب کے صدر چوہدری عبد الجبار، جنوبی پنجاب کے صدر فیاض الحسن بھٹہ اور وسطی پنجاب کے نور الہی تتلہ ،شمالی پنجاب کے ڈاکٹر محمد نواز چھینہنے ارسا کی طرف سے پنجاب کے حصہ کا چالیس فی صد پانی سندھ کو دینے کے ظالمانہ فیصلے پر شدید تنقید کر تے ہوئے کہا ہے اس وقت پنجاب کے آدھے حصے میں کھڑی کروڑوں ایکڑ کپاس ،گنا،چاول ،سبزیات ،چارہ اور دیگرفصلوںکو پانی کی اشد ضرورت ہے اوران فصلوںکو مناسب پانی نہ لگایا تو اربوں روپے کی یہ فصلیں تباہ برباد ہو جائیں گی۔ وفاقی محکمہ ارسا نے پنجاب کے حصہ کا پانی سندھ کو دیکر ثابت کر دیا ہے کہ وفاقی حکومت اب صرف ایک صوبے کی پارٹی ہے۔پنجاب کی پگ کے دعویدار میاں برادران نے پہلے ہی پنجاب کے حصے کا انیس فی صد پانی دوسرے صوبوں کو دیکر پنجاب کے کروڑوں کسانوں سے زیادتی کر رکھی ہے ۔ بجلی اورڈیزل کی ہوش ربا قیمتوں اور بجلی کی طویل لوڈ شیدنگ سے ہزاروں ٹیوب ویل بند ہو چکے ہیں جس وجہ سے پانی کی شدید کمی کا شکار ہو کر پنجاب بنجر بن رہا ہے ۔ایک طرف حکمران ٹولے میں شامل صنعت کار ڈیزل، بجلی، کھاد، اور دیگر زرعی مداخل مہنگے کر کے قومی خزانے اور کسانوں کو لوٹ کر عیاشیاں کر رہے ہیں تودوسری طرف پنجاب کے حصے کا پانی صوبہ سندھ کو دیکر پنجاب کے کسانوں کے منہ سے آخری نوالہ بھی چھین لینا چاہتا ہے۔کالاباغ ڈیم بنائے بغیر پاکستان میں پانی اور بجلی کی کمی کو پورا کرنا ناممکن ہے اس لیے حکمران دوسرے صوبوں کے کروڑوں کسانوں کی حق تلفی کر نے بجائے فوری طور پر کالاباغ ڈیم سمیت دوسرے ڈیم تعمیر کریں اور انڈیاکی آبی جارحیت کو بند کرائیں۔مرکزی اور صوبائی حکومتیں چاروں صوبوں کے حقوق کا تحفظ کریں۔انہوں نے ارسا کے اس فیصلے کی شدید مزمت کر تے ہوئے مطالبہ کیاکہ پنجاب کے حصے کا پانی کسی دوسرے صوبے کو نہ دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں  لاہور:تیز رفتار ٹرک نے2 بچوں سمیت3 افراد کو کچل دیا،ایک بچہ شدید زخمی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker