تازہ ترینعلاقائی

گندم خریداری سنٹرزپرکسان باردانہ لینےاورگندم اتارنے کیلیے ذلیل وخوار

لاہور ﴿ پریس ریلیز ﴾ کسان بورڈ کی گندم کمیٹی کا ہنگامی اجلاس مرکزی صدر سردار ظفر حسین خاںکی صدارت میں ہوا جس میں ممبران کمیٹی نے اجلاس میں بتایاکہ گندم خریداری سنٹروں پرکسان باردانہ اور گندم اتارنے کیلیے ذلیل و خوارہو رہے ہیں۔ پانچ مئی کو گندم کے بھرے ٹرالوں کی لمبی قطاروں کو آٹھ مئی کی تاریخ دیکر ٹرخا دیا گیااور چہیتوں اور با اثر افراد کی گندم کو چوری چھپے اتار لیا گیا ۔ صوبائی حکمرانوں نے راتوں رات سینٹر تبدیل کرا کے اپنے گھروں کے نزدیک بنا لئے ۔ محکمہ فوڈ کے ہیلپ لائین اور دفاتر کے فون بند ہیں تاکہ مظلوم کسان اپنی شکایت بھی نہ کر سکیں۔خادم اعلی پنجاب کے تمام دعوے بیوروکریسی نے ہوا میں اڑا دیے ہیں۔کسان بورڈ نے گھپلوں کا وائٹ پیپر تیار کرنا شروع کردیاہے۔کمیٹی میں آئی رپورٹوں کے مطابق حالیہ گندم خریداری مہم کے پہلے اور دوسرے دن ہی سے محکمہ فوڈ ، محکمہ مال اور ضلعی انتظامیہ کی ناقص اور غیر ذمہ دارانہ پالیسی کی وجہ سے کاشتکار رُل گئے ۔ محکمہ مال کی طرف سے دو نمبر ریکارڈ کی تیاری ،بار دانہ کے حصول کے لئے طویل لائینیں ، کاشتکار صبح پانچ بجے سے بھکاریوں کی طرح لائنوں میں کھڑے ہو جاتے ہیں سارا دن،گرمی کی شدت سے بوڑھے اور بیماری بے حال ،لوگ ہزاروں کی تعداد میں لائنوں میں لگے رہتے ہیں مگر بار دانہ تقسیم کرنے والے صاحبان بر وقت نہیں پہنچ رہے ۔ نہ سایہ ، نہ پانی دستیاب ہے۔کئی جگہ پر صوبائی حکمرانوں نے راتوں رات خریداری سنٹر تبدیل کر کے اپنے گھروں کے نزدیک بنا لیے ہیں جس سے ان علاقوں کے کسانوںکو دور دراز سنٹروں تک پہنچنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔محکمہ مال نے جو فہرستیں پہلے سے تیار کر رکھی ہیں ان میں با اثر افراد اور مڈل مینوں کے نام شامل ہیں جبکہ اصل؛ حقدار کسانوں کے نام گول کر دیے گئے ہیں۔نئے نام شامل کرانے والوں کو دھکوں کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ محکمہ نے گندم خریدنے کیلیے پانچ مئی کی تاریخ دی جس پر کسان اپنے گندم سے بھرے ٹرالے لیکر جب سنٹروں پر پہنچے تو محکمہ کے افسران نے گندم خریدنے کی تاریخ بڑھا کر آٹھ مئی کر دی جس سے ٹرالوں کی لمبی قطاریں کھلے آسمان تلے لگی ہوئی ہیں اوربے یارو مددگار پڑے کسان ،حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کا ماتم کر رہے ہیں ۔موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے حکومت پنجاب کی طرف سے دانہ دانہ گندم خریدنے کے دعوے سو فیصد جھوٹ ثابت ہونے کے امکانات ہیں ۔کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ خادم اعلیٰ پنجاب فوری نوٹس لیں اور DCO،DFCاورمحکمہ مال کی طرف سے کئے گئے ناقص انتظامات کی انکوائری کرائی جائے اور خریداری کو شفاف بنایا جائے ، مراکز پر پہنچنے والے کاشتکاروں کے ساتھ بھکاریوں والا سلوک نہ کیا جائے انہیں سایہ اور پانی مہیا کیا جائے ، سرکاری اہلکار انکے ساتھ عزت و تعظیم کے ساتھ پیش آئیں ، بصورت دیگر اچھی حکمرانی کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے ۔ خریداری مراکز پر ہونے والی تمام برائیوں کے خاتمے کے لئے کسان نمائندوں سے بھر پور تعاون کیا جائے تاکہ حکومت کی گندم خریداری مہم کامیابی سے ہمکنار ہو سکے

یہ بھی پڑھیں  اسلام آباد فائرنگ:سکندر کی اہلیہ کنول اور ملزم اختر علی پر فرد جرم عائد

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker