تازہ ترینکالممیرافسر امان

کتاب قائد کا سپاہی

کتاب”قائد کا سپاہی“ مجھے اس کی پذیرائی کے اختتام پر اس کے مصنف جناب علی عمران ممتاز نے دیھر حضرات کے ساتھ تحفتاً پیش کی۔تقریب پذیرائی میں علی عمران ممتاز نے وعدہ لیا تھا کہ اس کتاب پر تبصرہ بھی کرنا ہے۔ علی عمران ممتاز سے میری ملاقات اس وقت ہوئی تھی جب ان کی کتاب ”نور عالم ؐ“ کوصداراتی ایوارڈ ملا تھا۔ دائرہ علم اوب پاکستان کے صدر جناب احمد حاطب صدیقی نے علی عمران ممتاز کے اعزاز میں ایک تقریب اکیڈمی ادبیات اسلام آباد میں رکھی تھی۔ اس کے بعد دائرہ عمل و ادب پاکستان کی دوسالانہ کل پاکستان اہل علم اجتماعات میں بھی علی عمران ممتاز سے بھالیہ ضلع گجرات میں ملاقات کا شرف حاصل ہوا تھا۔علی عمران ممتاز آٹھارا سال سے بچوں کے ادب کے حوالے سے اپناماہانہ رسالہ ”کرن کرن روشنی“ نکال رہے ہیں۔ آج کے دور قحط المطالعہ میں مسلسل اتنی مدت سے بچوں کے لیے ادب کا رسالہ نکالنا ان ہی کی ہمت ہے۔ علی عمران ممتازکتاب کے شروع میں لکھتے ہیں کہ فوج میں جانے کا مجھے بڑا شوق تھا۔ شاید اس لیے کی فوج میں جانے والے مردخیز علاقہ چکوال سے ان کا آباہی تعلق ہے۔ اس کے والد صاحب فوج سے ریٹائرڈ ہوئے اور ملتان میں ہی سبزی فروخت کرنے کے کاروبار سے منسلک ہو گئے۔ اس لحاذ سے عملی عمران ممتاز ملتان میں ہی آباد ہوکر ملتانی بن گئے۔ملتان میں بچوں کے ادب کے سربراہ بن گئے۔کتاب قائد کا سپاہی کے تعارف میں ڈاکٹر افتخار کھوکھر نے لکھا کہ قلم و قرطاس کے محاذ پر”کرن کرن روشنی“ کی ملک گیر پذیرائی اور مختلف کتابوں پر صدارتی ایوارڈز نے علی عمران ممتاز کو مدینہ اولیا ملتان کی شان اور پہچان بنا دیا۔مجھے یقین ہے کہ ہر آنے والے دن ان کے لیے کامیابیوں اور کامرانیوں کی نوید لے کر آئے گا ان شاء اللہ۔پروفیسر حمید رضا صدیقی مورخ،مصنف،نصاب نگار اور بانی رکن نظریہ پاکستان ٹرسٹ پاکستان کتاب ”قائد کا سپاہی“ کے تعارفی کلمات بعنوان”حب الوطنی کا جذبہ اُجاگر کرتی کہانیوں کا مجموعہ“ میں لکھتے ہیں کہ علی عمران ممتاز کا تعلق نوجون ادیبیوں کے اس گروپ سے ہے جو بچوں اور نوجونوں کے لیے مسلسل تحقیقی عمل میں مصرف ہیں۔قائد کا سپاہی ایسی ہی تحرہروں کا مجموعہ ہے۔ جس میں حب الوطنی اوراس کے لیے کام کرنے کا جذبہ اُجاگر ہوتا ہے۔پروفیسر عنایت علی قریشی ممتاز ماہر تعلیم، بانی ایجوکیشنل اینڈ سوشل فورم”استحکام پاکستان“ کے عنوان سے کتاب کے تعارف میں لکھتے ہیں کہ بچوں کے لیے کہانی سننا، سنانا، پڑھنا، لکھنا اور کہانی کو خوبصورت پیرائے میں سیاق وسباق کے ساتھ پیش کرنا علی عمران ممتاز کی نمایاں نظر آتے ہیں۔دیگر کہانی نویسوں سے ممتاز نظر آتے ہیں۔غلام زادہ نعمان صابری ایڈیٹر”کرن کرن روشنی و ادبی کرنیں“ کتاب”قائد کا سپاہی“ کے تعارف بعنوان ”ادب اطفال سے عشق اور حب الوطنی کا جنون“ کے تحت لکھتے ہیں کہ حساس طبیعت کا مالک یہ ادیب کسی کا برا نہیں سوجتا اور نہ ہی کسی کا برا چاہتا ہے۔
قاری محمد عبداللہ چیئرمین پاکستان رائٹرز ونگ کتاب کے تعارف میں لکھتے ہیں کہ علی عمران ممتاز قائد کا سپاہی اس وقت میرے ہاتھ میں ہے۔یہ کتاب نسل نو کی فکری اور نظریاتی آبیاری کا فریضہ انجام دے رہی ہے۔ کتاب”قائد کا سپاہی“ میں تیرا کہانیوں میں بچوں کے کو تاریخ پاکستان سے آشانا کرنے میں بڑی مہارت سے کام لیا گیا ہے۔ اب ایک فوجی کی سپرٹ سے بچوں میں فوجی کی طرح دفاع وطن کے محاذ پر ڈٹے ہوئے ہیں۔
”تتلیاں اور ستارے“کے عنوان لکھتے ہیں کس طرح ایک باپ اپنے بچے کو جب باغ میں لے جاتا ہے اور باغ میں پاکستان کا سبز پرچم کو دیکھتا ہے اور باپ سے پرچم کے رنگوں کا سوال کرتا ہے۔ باپ بچے کو بتاتا ہے کہ سبز مسلمانوں کی اکثریت جبکہ سفید رنگ غیر مسلموں کی اکثریت طاہر کرتا ہے۔”خالہ کی داستان ہجرت“ میں بتا تا کہ ۴۱/ اگست ایک خالہ کا میاں بیمار ہوتا ہے۔ ڈاکٹر ۴۱/ اگست منارہا ہوتا ہے۔ اسکے میاں وفات پا جاتا ہے۔ یہ خالہ جو ۴۱/ اگست یوم آزادی پر ہمیشہ گھر میں پاکستان کی جھنڈیاں لگایا کرتی تھی مگر ڈاکٹر کی اس حرکت سے ناخوش ہو کر جھنڈیاں لگانابند کر دیں۔ ایک دکان سے سودہ سلف لے رہی تھی کہ کیا دیکھتی ہے کہ ایک بچے سے جھڈیاں نیچے گر گئیں۔ وہ بچا ان کو سمیٹ رہا۔ اور کہتا ہے یہ پاکستان کی جھنڈیاں زمین پر گرنے نہیں دوں گا۔ بچے کا پاکستان کی جھنڈیوں سے پیار کا جذبہ دیکھ کر خالہ پھر سے اپنے گھر میں ۴۱ /اگست کوجھنڈیاں لگانا شروع کر دیں۔ ”یہ انعام تمھارا ہے میں ایک طالب علم ”دانیال“ اور”کامران‘[ کی لڑئی کا ذکر کرتے ہولکھتے ہیں کہ کامران نے دانیال کی اسکول میں تقریری مقابلہ کی لکھی ہوئی تحریر چرا لی۔ اور انعام بھی حاصل کر لیا۔ کلاس ٹیچر کو یہ سب کچھ معلوم تھا۔ کلاس ٹیچر نے کہا کہ میں ہیڈ ماسٹر صاحب سے واقعہ بیان کرتا ہوں۔ مگر دانیال نے کہ چھوڑیں سر ہمارے رسول ؐلوگوں کو معاف کر دیتے تھے۔ میں نے اسے معاف کر دیا۔جب کامران کو اس بات کا علم ہوا تو وہ سیدھا دانیال کے گھر گیا۔ دانیال سے اِس جرم کی معافی مانگی۔ ٹرافی جو انعام میں ملی تھی دانیال کو

واپس کرتے ہوئے کہا کہ انعام تمھارا ہے۔اسی طرح ”پنجرہ کھل گیا۔گھر تو آخر اپنا ہے۔پہلا روزہ۔قائد کا سپاہی۔ہرگھر میں گھنٹی بجتی ہے۔ فیصلہ۔ میں پاکستان جا رہا ہوں۔ علم کے چراغ۔ شکریہ قائد۔ مقابلہ کون جیتا میں نظریہ پاکستان،مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان،مسلمانوں اور امت مسلمہ سے محبت سے لبریز یہ کہانیاں بھری پڑی ہیں۔ ہم لوگوں کو اپنے بچوں کو یہ کہانیاں سنانی چاہییں۔ اس سے بچوں میں ملک سے محبت،پاکستان کی بنانے میں برعظم کے مسلمانوں کی قربانیاں اور اب اس وطن عزیز کو کامیابیوں اور کامرانیوں سے ہم کنار کرنے کا جذبہ ہمارے بچوں میں پیدا ہو گا۔کل انہوں ہی نے اس ملک کو سنوانا ہے۔ اس کتاب قائد کا سپاہی کو حکومت اسکوں میں رائج کرے۔ یہ پاکستان کے لیے بہت مفید ہو گا۔ ہماری دعا ہے کہ علی عمران ممتاز جو اس قبل دو درجن کتاب لکھ چکے ہیں۔ بچوں کے ادب کے لیے کئی اور کتابی لکھیں۔ اپنے ماہانہ رسالہ”کرن کرین روشنی“ میں ان کتابوں کو روشناش کرائیں۔ پہلے سے جاری ان کے مشن کہ فوجی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں اور علی عمران ممتاز ادب کے محاظ پر قوم کے بچوں کو اپنی کوششوں سے دفاع وطن کے لیے تیا کر رہے ہیں۔ اللہ ان کے اس جذبے اور زیادہ کرے آمین

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button