تازہ ترینکالم

کوئی حد بھی ہونی چاہئے

آج ہر کوئی یہی کہتا دکھائی دیتا ہے ’’ ہر ادارے کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہئے۔ورنہ اپنی اپنی آئینی حدود سے تجاوز کی روش ہمیں لے ڈوبے گی.فوج کا ادارہ ہو یا جویشری کا ستون ہو یا ریاست کا چوتھا ستون ہونے کا دعویدار ادارہ ہو۔سب کی زبان پر یہی ایک جملہ ہے آئین کی سربلندی اور پاسداری ہونی چاہئے ۔این آر او کیس سے لیکر لاپتہ افراد کے کیس تک آئین اور قانون کی عملدراامد ی کا چرچا سننے میں آیا ہے ۔اس دوران بعض ایسے بھی مواقع آئے جہاں حکومت کو قومی اور ملکی مفاد میںسرنڈر کرکے اپنے موقف سے پسپا ئی اختیار کرنے پڑی۔
لاہور ہائی کورٹ کے ایک بینچ نے دو سال قبل صدر مملکت کے دو عہدے رکھنے کے بارے میں ایک فیصلہ دیا۔جس میں اس توقع کا اظہار کیا گیا کہ امید ہے کہ صدر ایک عہدہ چھوڑ دیں گے اور ایوان صدر میں سیاسی سر گرمیوں سے گریز کیا جائیگا. لاہور ہائی کورٹ نے صدر مملکت کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس جا ری کر دیا ہے .جو آنے والے دنوں میں ملکی سیاست کا منظر نامہ واضع کر رہا ہے ۔ ہماری پارلیمانی روایات یہ رہی ہیں کہ صدر مملکت کوئی دوسرا منعفت بخش عہدہ اپنے پاس نہیں رکھ سکتے ۔سیاسی جماعت کی سربراہی تو دور کی بات ہے۔صدر کسی بزنس کمپنی کا عہدہ بھی نہیں سنبھال سکتے۔ہمارے پڑوس بھارت میں کانگرس کی سر براہ مسز سونیا گاندھی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔انہیں اپنی کمپنی سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔یہ سب درست ہے ۔لیکن آئین میں کہیں تحریری طور پر موجود نہیں ہے کہ صدر کسی سیاسی جماعت کے سربراہی اپنے پاس نہیں رکھ سکتے.قابل فکر بات یہ ہے کہ کیا صدر مملکت کو عدالتوں میں گھسیٹا جا سکتا ہے ؟
سوچنے کا مقام ہے ۔کہ اگر آج ہماری ماتحت عدلیہ﴿ لاہور ہائی کورٹ﴾ صدر مملکت کو توہین عدالت کا نوٹس دیتی ہے تو کیا کل یہی ماتحت عدالیہ چیف جسٹس آف پاکستان کے خلاف بھی نوٹس جاری کریگی ؟
نہیں بھئی نہیں .کوئی ماتحت عدالت ایسا نہیں کرے گی ،کیونکہ یہ اس کے دائرہ اختیار میں ہی نہیں آتا۔اور وہ کہے گی کہ ججز کسی عدالت کو جواب دہ نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے خلاف کسی عدالت میں مقدمات چلائے جا سکتے ہیں.کون کس کو جواب دہ ہے ۔کہ آئین نے سب کے لیے حدود قیود مقر ر کر رکھی ہیں. ججز سپریم جوڈیشنل کونسل کو جواب دہ ہیں۔اور ججز کے احتساب کا یہی آئینی ادارہ ہے ۔جبکہ پارلیمنٹ صدر مملکت کے ساتھ ساتھ چیف جسٹس کا بھی مواخذہ کر نے کا اختیار رکھتی ہے ۔برازیل اور سری لنکا کے چیف جسٹس صاحبان کے مواخذے کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔
صدر مملکت پارلیمنٹ کا حصہ ہے اس لیے وہ پارلیمنٹ کے سامنے ہی جواب دہ ہیں۔آرمی چیف وزیر اعظم اور صدر مملکت کو یا اپنے ادارے جی ایچ کیوکو جوابدہی کے مجاز ہیں،انہیں بھی کسی عدالت میں نہیں گھسیٹا جا سکتا ۔اگر ایسا نہ کیا جاتا تو پھر صدر مملکت ،آرمی چیف اور ججز کی عدالتوں کے چکر کاٹتے کاٹتے جوتیاں ٹوٹ جاتی اور وہ ذلیل و خوار ہو کر رہ جاتے انکی عزت اور وقات خاک میں مل جاتا۔آجکل پاکستان میں چند نئی روایات قائم کی گئیں ہیں جن میںچیف جسٹس افتخار محمد چودہری کے خلاف جنرل مشرف کا دائر کردہ ریفرنس کی سماعت ججز کے احتساب کے لیے قائم ادارے سپریم جوڈیشنل کونسل میں نہ ہونے دینا اور اسے سپریم کورٹ کے سولہ رکنی ججز کے ذریعے ملیا میٹ کروانا۔ سپریم کورٹ کے رجسٹرار کا پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور نیب کے روبرو پیش ہونے سے انکار کرنا۔یہ واقعات مخض روایات نہیں بلکہ آئین سے کھلم کھلا انحراف ہے اور آئین میں دی گئی حدود و قیود سے تجاوز ہے ۔ہمیں ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچنا ہوگا کہ ہم کس راست پر گامزن ہو رہے ہیں ۔کیا ہمارے اس طرز عمل سے ملکی قومی سلامتی ،جمہوریت کو تو خطرات لا حق نہیں ہوں گے۔اس لیے ہمیں اس بات کا آج ہی تعین کر لینا چاہئے کہ کس کی کیا حدود ہیں اور پھر سب کو ان حدود میں رہ کر ہی اپنے فرائض ادا کرنے چاہئیں.ہم فوج کو تو طعنے دیتے ہیں کہ اس نے ماضی میں اپنی حدود سے تجاوز کیا اور آئین کی پامالی کی مرتکب ٹھہری.لیکن فوج پر آئین شکنی کے الزاما ت لگانے اور فوج کو لعن طعن کرنے سے قبل اس بات کو بھی ذہن میںرکھنا ضروری ہے۔ فوج کے ان غیر آئینی اقدامات کو جائز قرار دینے والوں کو ہم کیوں بھول جاتے ہیں۔ جتنی آئین شکنی مارشل لاؤں کو جائز قرار دینے والوں نے کی ہے ۔اتنی آئین شکنی جنرلوں نے نہیں کی اسکی وجوہات ہیں،جنرلوں نے مارشل لا لگا دیا اپنے مارشل لائی حکم کے تحت آئین کو منسوخ یا معطل کر دیا لیکن ان احکامات کو جائز قرار دینے والوں نے تو مارشل لا ایڈمنسٹریٹروں کو آئین میں ترامیم کرنے کا اختیار بھی سونپ دئیے ۔یہ معمول باتیں نہیں ہیں آج ہم جو نتائج بھگت رہے ہیں وہ انہی کی مہربانی سے ہیں۔اس لیے آج اختیارات کی جاری جنگ میں اس بات کا حتمی فیصلہ ہوجانا چاہئے کہ کس ادارے کی کیا حد ہے۔کیونکہ کوئی تو حد ہونی ہی چاہئے۔ورنہ اس اختیارات کی جنگ کا نتیجہ بڑا ہی بھیانک نکلے گا اور اس بھیانک نتیجے کا خمیازہ وطن عزیز کے ساتھ ساتھ ہم سب کو بھی بھگتنا پڑے گا۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی ہمارے انہی کرتوتوں کا شاخسانہ تھا۔اگر ہم مذید ایسے شاخسانوں سے بچنے کے خواہاں ہیں تو ہمارے ہر ادارے کو اہنی بالا دستی قائم کرنے کی آرزؤں اور تمناؤں کو ترک کرکے آئین میں دی گئی حدود کا احترام کرنا ہوگا اور دوسرے اداروں کو ا حترام دینا ہوگا۔اگر رجسٹرار سپریم کورٹ یہ کہہ کر کہ ’’وہ بائیسویں سکیل کا افسر ہے اس لیے وہ نیب کے روبرو پیش نہیں ہوگا‘‘ تو پھر صدر مملکت وزیر اعظم سمیت دیگر لوگ بھی اپنے سکیل سے کم سکیل کے افسر ان کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر سکتے ہیں۔اے ارباب فکر و دانش ذرا اس جانب بھی سوچئے۔

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1. haan ji hum sab ko es baat ka faisla karna ho ga keh kis Idarey ki kia kia hadood hien aor phir inhien apni hadood key ander reh ker kaam karna ho ga…….warna apni hadood sey tajawuz karney sey humarey tamam idarey tabah ho jaien gy

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker