تازہ ترینکالممحمد فرحان عباسی

کون کس کا دشمن ہے؟

farhanآج تک ہم اس بات کا فیصلہ نہیں کر سکے کہ ہم میں سے کون کس کا دشمن ہے اور کس نے کس دشمنی مول لے رکھی ہے ؟
ہرایک کسی نا کسی حد تک دشمن کے ہاتھوں میں کٹھپتلی بنا ہوا ہے اور نا چاہتے ہوئے بھی دشمن کے کام میں اس کی مدد کر رہا ہے ،ہمارا ملک اسالم کے نام پر بنا تھا اور یہ کہا گیا تھا کہ ایک ایسا ملک ہو گا جس میں مسلمان آزادی سے رہیں گے ،اسلامی شعائر کو اپنائیں گے اور اپنے رب کی سرِعام عبادت کر سکیں گے اس ملک میں مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلم بھی رہ سکیں گے اور ان کو ان کے حقوق دئیے جائیں گے ،اس ملک میں اسلامی طرز معاشرت ہو گی ،اور اس کا آئین اسلامی ہو گا ،
اسلامی آئیں تو آ چکا مگر آج تک اس کو لاگو کرنے کی کسی نے ہمت نہیں کی کیونکہ یہاں ہر اوپر آنے والا اسلام کی رو سے مجرم ہے ،جس کی وجہ ان کا ناجائز کمایا ہوا پیسہ ہے جو انہوں نے عوام پر نا جائز ٹیکس لگا کر کمایا ہے ،سود کی بدولت وہ پیسہ حاصل کیا ہے جس کو کھلم کھلا اللہ کے ساتھ جنگ قرار دیا گیا ہے ،اور یہ سود کا پیسہ اس فرسودہ تعلیمی نظام کا نتیجہ ہے جو ہم پر مغرب نے مسلط کیا ہے ،کیا ہم سے پہلے مسلمانوں اور مسلمان حکمرانوں نے پیسے کا لین دین نہین کیا ،کیا انہوں نے کاروبار نہیں کئے کیا ان کے پاس بنکنگ کا نظام نہیں تھا اور کیا وہ منافع نہیں کماتے تھے ،؟یہ سب سوال ہیں جن کا جواب اگر آج کے کسی ماہر معاشیات سے مانگا جائے تو وہ سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہے گا کہ وہ پتھر کا دور تھا اور یہ سوال پوچھنے والا بھی پتھر کے دور کا انسان ہے ،
مگر یہ بات حقیقت ہے کہ آج انہوں نے اس بات کو نہیں جان سکے کہ ان بھلا کس میں ہے اور برا کس کام میں ہے ہانہوں نے ہر ایک چیز کے ظاہری اور دنیاوی فائدے کو دیکھا اور اپنایا ہے،اور اس کے حصول کے لئے انہوں کے مظلوموں کا خون تک کرنے سے گریز نہیں کیا اور ان کے خون کی ندیاں پار کر کہ انہوں نے اپنے لئے پر آسائش محلات بنائے ،انہوں نے غریب کی جان کا سودا کر کہ اپنے لئے سونے اور چاندی کے برتن خریدے ،اور انہوں نے غریب کے منہ سے نوالہ چھین کر اپنا اور اپنے حواریوں کا پیٹ بھرا صرف پیٹ ہی نہیں بلکہ اپنے ناجائز اکاؤنٹ بھی بھر دئیے تو کیا ہم ان لوگوں سے امید رکھیں کہ یہ اسلامی آئین کو نافذ کریں گے ؟
یہ ہمارے ہمدرد اور دوست نہیں یہ ہمارے او راسلام کے دشمن ہیں جنہوں نا صرف ہمیں بلکہ اسلام کو بھی اپنا غلام بنا لیا ہے ،اور اس غلامی سے آزادی کے لئے لڑنا جہاد ہے ہمیں اپنے دوست اور دشمن کو پہچاننا ہو گا ۔
ہمیں اسلام نے ورثے میں ایک نظام حیات دیا ہے ،جس میں پیدائش سے لیکر مرنے تک کے ہر معاملے کا حل موجود ہے ،مگر ہم نے اسلامی طرز معاشرت کو چھوڑ کر مغرب کے طرز معاشرت کو اپنا لیا ہے،ایک انگریز نے اپنے ماتحت اور اپنی قوم کو یہ بات کہی تھی کہ اگر تم مسلمانوں سے جنگ جیتنا چاہتے ہو تو تم کو بندوق اور گولی کی ضرورت نہین تم مسلمانوں میں بے حیائی کو عام کر دو ،
اور پھر وہی ہوا کہ آج دشمن نے بے حیائی کو ہمارے گھروں کی ضرورت بنا کے گھروں کے اندر پہنچا دیا ،اور آج کوئی بھی گھر چاہے وہ کسی شریف عادمی کا ہو یا ایک عالم دین کا اس کے گھر میں یہ چیز پہنچ چکی ہے،اور اب اس چیز کے بنا ہمارا گزارا بھی نا ممکن ہو چکا ہے ،
یہ ہماری ضرورت نہیں تھی بلکہ دشمن کی ایک چال تھی جس میں وہ کامیاب رہا اور ابھی ہمارے دشمن اس کوشش مین ہیں کہ کب وہ وقت آئے کہ مسلمان بھائی اپنے سگے بھائی کا خون کرے اور حقیقی دشمن تماشا دیکھیںnote

یہ بھی پڑھیں  بجٹ پہ بجٹ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker