تازہ ترینعلاقائی

کوٹرادھاکشن جعلی اسناد،ڈگریوں اور ڈپلوموں کی فروخت کے کاروبار میں ملوث ایک بڑے گروہ کا انکشاف

kot radha kishanکوٹرادھاکشن(مقصود انجم کمبوہ)تفصیلات کے مطابق مقامی اخبار ہفت روزہ نوائے کارگر کے ایڈیٹر اور المصور گرافکس شاپ کے مالک ارشد منیر نے ایک عرصہ سے ہر قسم کے جعلی ڈپلوموں،ڈگریوں اور سندوں کا کالا دھندہ شروع کر رکھا ہے چند ماہ قبل ارشد منیر اور اس کے ایجنٹ شاہد چوہان نے میانوالی ضلع کے ایک میڈ یکل سٹور کے مالک ثناء للہ خان ولد برخوردار محلہ احمدال چکڑالہ سے فارمیسی بی کیٹگری کا ڈپلومہ جاری کرنے کے عوض پچاس ہزار روپے لیئے گئے اسی طرح بخاری ہسپتال کے نزدیک رہنے والے ایک نوجوان سے ڈیڑھ سالہ ویلڈنگ کے ڈپلومے کے عوض 2 ہزار روپے لیے جسے ایک ہفتہ کے اندر سعودی عرب جانا تھا اسطرح ارشد منیر اپنے کمپیوٹر سے سینکڑوں ضرورتمندوں کو ہنر کاری کے ڈپلومے ،میٹرک،ایف اے کی اسناد اور بی اے کی ڈگریاں جاری کر چکا ہے ۔اس کے ایک ٹاؤٹ ملک سلیمان نے بتایا ہے کہ اس کے علاوہ چونیاں میں بھی ڈگری کالج کے کمپیوٹر ڈیپارٹمنٹ سے پی جی ڈی کے ڈپلومے جاری ہو رہے ہیں اس نے ہمارے رپورٹر کو چند ڈپلوموں کی نقول اپنے کمپیوٹر سے نکال کر دیں ہیں۔معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کالے دھندے میں ملوث افراد نے صحافت کا لبادہ اوڑھ کر حرام خوری شروع کر رکھی ہے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ پولیس ایجنسیوں کو فوری طور پر ان افراد کے کمپیوٹروں کو قبضے میں لے کر حقیقت جاننی چاہیے اور اس کالے دھندے میں مصروف عمل افراد کے خلاف سخت ایکشن لیا جانا چاہیے اس دھندے کی وجہ سے سرکاری و غیر سرکاری فنی تعلیمی اداروں کا کاروبار متاثر ہونے لگا ہے لوگ پڑھنے کی بجائے جعلی اسناد خریدنے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  حکومت عافیہ کی وطن واپسی کا موقع ایک مرتبہ پھر کھورہی ہے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker