تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

خیبرپختونخواچائلڈپروٹیکشن اینڈویلفیئرکمیشن

zafarبچوں کی اچھی تعلیم وتربیت آپ کی زندگی کی بہترین سرمایہ کاری ہے،بچوں پرتشدد قانونی جرم ہے جس کی سزاتین سے دس سال قید اورایک لاکھ روپے جرمانہ ہے،بچوں سے بھیک منگوانے کی سزاتین سال قید سخت اورپچاس ہزارروپے جرمانہ ہے،،بچے باہم معذوری،معاشرے کاحصہ ہیں۔ان کوتعلیم اورصحت سمیت ہرجگہ مساوی مواقع دیں،بچوں سے جنسی استحصال کی سزاچودہ سال قیدکی سزااوردس لاکھ روپے جرمانہ ہے یہ واضح پیغام اورانتباہ ہے بچوں کے تحفظ اورفلاح کے لئے سرگرم چائلڈپروٹیکشن اینڈویلفیئرکمیشن خیبرپختونخواکا۔بچوں کی حفاظت،فلاح،تعلیم ،بحالی اورانہیں خطرات سے بچاؤ یقینی بنانے کے لئے خیبرپختونخواحکومت نے 2011باقاعدہ قانون کے تحت چائلڈ پروٹیکشن اینڈویلفیئرکمیشن کاقیام عمل میں لایاتھااوراسی قانونی ضابطے کے مطابق صوبائی وزیربرائے سماجی بہبوداس کمیشن کاچیئرمین اورسیکرٹری محکمہ سماجی بہبود وائس چیئرمین ہوتاہے جبکہ چیف پروٹیکشن آفیسرکے علاوہ مختلف محکموں کے انتظامی سربراہان،ممبران اسمبلی، وکلاء،مذہبی طبقے اورسماجی خدمات سے وابستہ افراداس کے ممبران ہوتے ہیں۔ چائلڈپروٹیکشن اینڈویلفیئرکمیشن کے ذمے جن امورکی انجام دہی یقینی بناناہوتاہے ان میں حقوق اطفال کے امورکی مؤثرنگرانی،بچوں کے تحفظ اوربحالی کے لئے منصوبوں کی نگرانی اورآغاز، بچوں کے حقوق سے متعلق تمام قوانین اورضابطوں پر نظرثانی کرنا،بچوں کے مفادات کے لئے صوبائی حکومت کے تحت آنے والے اداروں اور سول سوسائٹی کوٹیکنیکل تعاون کی فراہمی،بچوں سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کانوٹس لینا،بچوں پر جنسی تشدد،جسمانی سزائیں،بردہ فروشی،فحش تصاویر بنوانا،ان سے مزدوری لیناوغیرہ سے متعلق شکایات پر مناسب اقدامات اورمتعلقہ محکموں کوکارروائی کی ہدایت کرنا،بچوں کے تحفظ کے لئے قومی اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے مالی وسائل کی فراہمی،اندراج پیدائش کے لئے بنے قوانین کوبہتر بنانا،نوعمر قیدیون کی اصلاح کے لئے فلاحی رہائشی اداروں کی مسلسل نگرانی کرنا،قدرتی آفات اورمسلح فسادات کے دوران بچوں کے تحفظ کے لئے تیزی سے امدادی کارروائیوں کویقینی بنانا شامل ہیں۔بچوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لئے صوبے کے ہر ضلع میں چائلڈپروٹیکشن یونٹس کاقیام عمل میں لایاجاناہے تاہم اب تک صرف 12اضلاع میں یہ یونٹس قائم کئے گئے ہیں جن میں صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت صوابی، مردان،سوات،بونیر،چارسدہ،ایبٹ آباد،کوہاٹ،بٹ گرام،لوئردیر،چترال اور بنوں کے اضلاع شامل ہیں چائلڈپروٹیکشن یونٹ کے ذمے جو امور انجام دیناہوتے ہیں ان میں خطرات سے دوچاربچوں اوران کے خاندان کاندراج،بچوں اوران کے خاندان کے تحفظ،خوراک، تعلیم، صحت، نفسیاتی اور جذباتی ضروریات کااندازہ لگانا،متاثرہ بچوں اوران کے خاندان کوبنیادی ضروریات کے لئے نقد یادیگر اسباب کی فراہمی یقینی بنانا،گھروں،فلاحی اداروں اورسکولوں وغیرہ میں بچوں پر تشدد کے خاتمے کے لئے طریقہ کارکویقینی بنانا،چائلڈپروٹیکشن کمیٹیوں کاقیام ، متاثرہ بچوں کے فلاحی اداروں یاجیل سے نکلنے کے چھ ماہ بعد تک اس کی خبرگیری کرنا شامل ہیں۔چائلڈپروٹیکشن یونٹ کاسربراہ چائلڈ پروٹیکشن آفیسرہوتاہے جو کہ ضلعی سطح پر سماجی بہبود کے ادارے کے تحت کام کرتاہے اس کے علاوہ ایک یونٹ میں سوشل ورکرزاور ماہر نفسیات کام کرتے ہیں جوکہ متاثرہ بچوں کوفوری امدادکی بالواسطہ یابلاواسطہ فراہمی یقینی بناتے ہیں۔چائلڈپروٹیکشن یونٹ کاعملہ متاثرہ بچوں کی اطلاع بذریعہ ٹیلی فون،بلاواسطہ ملاقات،اخبار،ٹی وی وغیرہ سے حاصل کرتے ہیں اوراس کے فوری اندراج کے بعد امداد کی فراہمی کا طریقہ کار وضع کرتے ہیںیہ امدادبالواسطہ یابلاواسطہ دی جاتی ہے جبکہ امدادکی فوری فراہمی کے لئے خدمات فراہم کرنے والے سرکاری اور غیرسرکاری اداروں کاایک جال قائم کیاجاتاہیجس کا مقصد یہ ہوتاہے کہ اگر ایک ضلع کے اندر کسی بھی قسم کی امدادکی فراہمی ممکن نہ ہوتومتاثرہ بچے کودوسرے ضلع میں بھی منتقل کیاجاسکتاہے۔بچوں کے تحفظ اور فلاح کے قانو مجریہ 2010کے مطابق صوبے کے ہر ضلع میں عدالت عالیہ پشاور کے احکامات کی روشنی میں بچوں کے کیسزمیں فیصلے دینے کے لئے چائلڈ پروٹیکشن کورٹ کاقیام عمل میں لایاگیاہے اور قانون کے مطابق بچوں سے متعلق جو جرائم ناقابل ضمانت اور قابل دست اندازی پولیس ہیں ان قانون کے مطابق جسمانی سزاکی ہر قسم کو ممنوع قراردیاگیاہے اور خلاف ورزی کرنے والے کو چھ ماہ قید یاپچاس ہزارروپے جرمانہ یا بیک وقت دونوں سزائیں بھی ہوسکتی ہیں، دھوکہ دہی سے بچے کو ایسے امورمیں شامل کرناجوکہ بچے کے جسمانی،ذہنی،نفسیاتی، معاشی یا معاشرتی فلاح کے خلاف ہوقابل سزاجرم قراردیاگیاہے جس کی سزاتین سال قیدیاایک لاکھ روپے جرمانہ یادونوں سزائیں بیک وقت بھی ہوسکتی ہیں،ایسااقدام جس سے بچے کونقصان،درد،بے عزتی یااس کی جائیدادکونقصان پہنچے تشدد کہلائے گااوراس کی سزاتین سال قید بمعہ ایک لاکھ روپے جرمانی یادس سال قید بمعہ ایک لاکھ روپے جرمانہ ہوسکتاہے،ایسی رسم ورواج پر عمل کرنا جوبچے کے لئے خطرناک، نقصان دہ،سخت گیراورغیرموزوں ہواس کی سزاتین سال قیدیاایک لاکھ روپے جرمانہ یادونوں ایک ساتھ بھی ہوسکتی ہیں،بچوں کے اعضاء سے متعلق غیرقانونی خریدوفروخت کی سزا پھانسی یاعمرقید اوردس لاکھ روپے تک جرمانہ ہے،قانون میں دیئے گئے طریقہ کارکے برخلاف متاثرہ بچے کوتحویل میں رکھنے کی سزا دوسال قید یاپچاس ہزارروپے جرمانہ یادونوں ہوسکتی ہیں،بچے پرتحویل کے دوران ظلم کرنے کی سزاتین سال قید سخت بمعہ پچاس ہزارروپے جرمانہ ہے۔اگر ان قوانین پر عملدرآمد یقینی ہوجائے تو بڑی حد تک بچوں کاتحفظ اور ان کی فلاح کوممکن بنایا جا سکتاہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ جن اضلاع میں یہ یونیٹس قائم نہیں ہوئے ہیں وہاں فوری طورپر ان کاقیام عمل میں لایاجائے تاکہ ہر علاقے کے بچوں کو تحفظ فراہم ہو اور بچوں سے متعلق جرائم کی روک تھام ممکن ہوسکے۔

یہ بھی پڑھیں  کشمیری قوم کو کسی نام نہا د لیڈر یا قیا دت کی ہر گز ضرورت نہیں،چوہدری جہانگیر حسین

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker