تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

خیبرپختونخواہ کے نظام تعلیم میں نصاب کی تبدیلی کا فیصلہ

zafar ali shah logoتحریک اِنصاف نے عام انتخابات میں جہاں دیگر شعبوں میں اِنقلابی اقدامات اور اِصلاحات کے نعرے لگائے تھے اور وعدے ودعوے کئے تھے وہاں اُن کا دعویٰ یہ بھی تھا کہ حکومت سازی کے بعد شعبہ تعلیم میں خصوصی اِقدامات کے ذریعے اِصلاحات کو عملی جامہ پہنایا جائے گاسو اپنے اِنتخابی منشور کو سامنے رکھتے ہوئے دعوں،وعدوں اور عوامی دباؤ کے پیش نظرخیبر پختونخواہ حکومت نے اقدامات اٹھانے کا آغاز کرلیا ہے ۔کوئی بچہ حصول تعلیم سے محروم نہ ہواور پڑھائی کے عمل سے باہر بچوں کو سکول میں داخل کرکے زیورتعلیم سے آراستہ کرنے کے مقاصد کے حصول کے تحت پچھلے کئی دنوں سے خیبرپختونخواہ حکومت کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں محکمہ تعلیم نے صوبہ بھر میں داخلہ مہم 2013شروع کردی ہے جس کے تحت ساڑھے تین سال سے نوسال کی عمرتک کے بچوں اور بچیوں کو داخل کرانے کا عمل تیزی سے جاری ہے اس خصوصی داخلہ مہم اور صوبائی حکومت کے احکامات کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایاجاسکتاہے کہ ہرزنانہ ومردانہ سکول کو بیس سے تیس تک بچے داخل کرانے کا ٹاسک دیاگیاہے اوراس عمل کی براہ راست مانیٹرنگ کی ذمہ داری محکمہ تعلیم کے ضلعی افسران کو دی گئی ہے۔ سکولوں میں بچوں کے خصوصی داخلہ مہم ابھی اِبتدائی مرحلے سے گزرہی ہے تو ساتھ ہی ساتھ خیبرپختونخواہ حکومت نے صوبہ بھر کے تعلیمی نظام میں ایک اور اِنقلابی اِقدام کرتے ہوئے ایک ہی نظام رائج کرنے کا فیصلہ کیاہے جو کہ انگریزی میں ہوگا۔ایک نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صوبائی حکومت نے صوبہ بھر کے تمام سرکاری وپرائیویٹ سکولوں میں نظامِ تعلیم انگریزی میں رائج کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے وزیراعلیٰ نے اپنے ایک بیان میں کہاہے کہ صوبے بھر میں انگریزی کو لازمی کیا جارہاہے اب ایک غریب اور سرمایہ دار کا بچہ ایک ہی نصاب پڑھے گاکوئی دوسرا نصاب نہیں ہوگا۔صوبائی حکومت کی جانب سے سکولوں میں بچوں کے داخلہ مہم پر توسیاسی اور عوامی حلقوں نے کئی ایک سوالات اٹھائے تھے کہ تعلیمی سال کے اواخرمیں ایسی مہم جوئی کی ضرورت کیوں پیش آئی،داخلہ مہم میں صوبائی حکومت عجلت سے کام کیوں لے رہی ہے،خصوصی داخلہ مہم کے تحت نئے داخل کرانے والے بچوں کو سکولوں میں اکاموڈیٹ کس طرح کیاجائے گا اور یہ بھی کہ ان بچوں کو پڑھانے کے لئے نئے تدریسی عملے کی تقرری کی جائے گی یا پہلے سے موجود تدریسی عملہ پر اکتفاء کیا جائے گاجبکہ زنانہ ومردانہ قائم سکولوں میں دیگر سہولیات کے فقدان سمیت کمروں اور تدریسی عملہ کی کمی کے مسائل تو پہلے سے درپیش ہیں دو کمروں پر مشتمل سکول کی عمارت جہاں سینکڑوں بچوں کی تعداد موجود ہو وہ مزید بچوں کا بوجھ اٹھاسکتی نہ ہی بیک وقت سینکڑوں بچوں کو پڑھانے والے محض دو ٹیچرز مزید بچوں کو پڑھانے کی استطاعت رکھ سکتے ہیں ایسے میں کمروں کی تعداد بڑھانے کی بجائے موجود غیرمعمولی کمی کے شکار عمارت میں اگر مزید بچوں کو ٹھونس دیاجاتاہے اور ان کو پڑھانے کے لئے تدریسی عملہ کا بندوبست کرنے کے برعکس موجود عملہ پر مزید بوجھ ڈال دیاجاتا ہے تو ایساکرنا خانہ پری تو ہوگی اسے فروغ تعلیم سے تعبیر نہیں کیاجاسکتا۔خصوصی داخلہ مہم تو الگ عمل ہے اب جبکہ اطلاعات یہ ہیں کہ صوبائی حکومت نے صوبہ بھر میں نیا نظام تعلیم رائج کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے جس کے تحت نصاب تعلیم انگریزی میں ہوگا تو اگرچہ کئی حوالوں سے یہ ایک اچھا فیصلہ ضرور ہے اس کے باوجود یہاں بھی کئی ایک سوالات سر اٹھاتے ہیں یہ کہ اگر حکومت نے نصاب تعلیم انگریزی میں رائج کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو اس کا اطلاق کب سے اور کونسے جماعت سے ہوگا کیونکہ ابھی تو تعلیمی سال اَخری حصے میں ہے جبکہ سرکاری سکولوں میں اَدنیٰ سے لے کر بارہویں جماعت تک انگریزی کو ایک مضمون کے طور پڑھایا تو جاتا ہے لیکن باقی نصاب اُردواور پشتو میں ہے اگر طریقہ کار یہ ہوکہ اَدنیٰ سے اوپرکے کلاسز میں جو نصاب ابھی چل رہاہے کو برقرار رکھا جاتاہے اور اَدنیٰ کی کلاس سے انگریزی کا نصاب شروع کرکے اسے بتدریج آگے لے جایا جاتاہے تو یہ بہتر ہوگالیکن ابھی سے تمام کلاسوں کا نصاب تعلیم یکسر تبدیل کرانا مناسب نہیں ہوگا کیونکہ ایک بچہ جس نے آٹھویں اور دسویں تک اُردو کا نصاب پڑھاہو اور اب اسے نصاب انگریزی میں ملے تو کیا وہ پڑھ سکے گاجبکہ سوال یہ بھی اہم ہے کہ نصاب کی تبدیلی کی صورت میں کیا تدریسی عملہ کا بھی انتظام کیا جائے گا یا جو عملہ پہلے سے موجود ہے وہی بچوں کو اب اُردومیں پڑھانے کی جگہ انگریزی میں پڑھائے گا حالانکہ اب تک انگریزی کو سکولوں میں بطورمضمون پڑھانے کے لئے ایس ای ٹی ٹیچرز جو کہ ہائی اور مڈل سکول میں ایک یا دو دستیاب ہوتے ہیں کی خدمات لی جاتی ہیں اور اَساتذہ سے معذرت کے ساتھ کہ دیگر اساتذہ بچوں کو انگریزی پڑھانے سے قاصر ہوتے ہیں ایسے میں تدریسی عملہ کا بندوبست کئے بغیر نصاب کو انگریزی میں کرنے کا فائدہ ہوگا یا نقصان یہ سوچنے کا نکتہ ضرور ہے۔ ہماراموجودہ نظام تعلیم نقائص سے بھرا ہے جس کے مکمل آپریشن کی ضرورت ہے اس بات میں تو شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں تاہم آپریشن کے لئے آپریشن تھیٹر میں خون،آکسیجن اور آلات جراحی کے تمام بنیادی ضروریات کا خاص خیال رکھنا پڑتاہے جبکہ انستھیزیاکی کمی وبیشی نقصان کا سبب بن سکتی ہے اوراگرانتھڑیوں کی جگہ جگر کا اپریشن کیاجائے تومرض ختم ہوگا نہ ہی مریض کوکوئی فائڈہ ملے گا۔ک
ہنے اور بتانے کا مقصد یہ ہے کہ اگر خیبر پختونخواہ کی حکومت انقلابی اقدامات کے ذریعے شعبہ تعلیم میں موجود نقائص کو دور اور اعلیٰ تعلیم کا فروغ چاہتی ہے تو اس سے بڑھ کر کوئی قابل تعریف اور لائق تحسین کام ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ ہماری ترقی وخوشحالی کے حصول اور تمام مسائل کا حل تعلیم کی بہتری سے وابستہ ہے لیکن اس حوالے سے اقدامات اٹھاتے ہوئے یہ خیال ضرور رکھنا چاہیئے کہ تعلیم کا فروغ تب تک ممکن نہیں جب تک الف سے یی تک شعبہ تعلیم کا قبلہ درست نہیں کیا جاتا اور اگر اسے اس طرح ٹھیک کرنے کی کوشش کی گئی جس طرح این ایچ اے سڑکیں بناتی ہے تو پیسہ برباد اور فائدہ کچھ نہیں والی بات ہوگی۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button