تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

خیبرپختونخواہ کے تعلیمی نصاب میں ممکنہ مجوزہ تبدیلی

zafar ali shah logoآج میں اپنے کالم میں جس توجہ طلب ایشو کو موضوع تحریر بنانے کی کوشش کررہاہوں وہ صوبہ خیبرپختونخواہ کے تعلیمی نصاب میں ممکنہ ومجوزہ تبدیلی کا ایشوہے اس حوالے سے جماعت اسلامی کے رہنماء سابق ممبر قومی اسمبلی بختیار معانی نے عید سے دو روز قبل سوشل میڈیا کے فیس بک پرموجود جماعت اسلامی ثمرباغ کی اَپ لوڈ کردہ ایک اخباری رپورٹ کی تصویر شیئر کی تھی جس کے مطابق پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخواہ میں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت کے دوران تعلیمی نصاب سے جہاد سے متعلق نکالی گئی قرآنی آیات دوبارہ نصاب میں شامل کرنے پر جماعت اسلامی کے ساتھ متفق ہوگئی ہے اس سلسلے میں صوبائی وزیر مذہبی اُمورحبیب الرحمان نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے ملاقات کی اور انہیں بریف کیا جس پر عمران خان نے ان کے مؤقف سے اتفاق کیا اور کہا کہ نصاب میں تبدیلی کے وقت جہاد سے متعلق وہ تمام قرآنی آیات نصاب میں شامل کی جائیں گی جو پچھلے دور حکومت میں نکالی گئی تھیں جبکہ ایک اخبار کی جانب سے رابطہ کرنے پر وزیر مذہبی اُمور حبیب الرحمان نے بتایا ہے کہ اسلامیات کے نصاب میں اب عنقریب تبدیلی کی جائے گی اور اس میں وہ تمام نصاب شامل کیا جائے گاجس کے دوبار ہ شامل کرنے سے متعلق وہ مطالبہ کرتے آرہے تھے۔ دور حاضر میں مقبوضہ وادی کشمیراور فلسطین کاذکرہوکہ جہاں مظلوم مسلمان غیرمسلم قوتوں کے مظالم تلے دبے ہوئے ہیں ان کی جان محفوط ہے نہ مال، ان کی عزت و آبرومحفوظ ہے نہ ہی ان کی عبادت گاہیں ماضی میں ایریٹیریا کے مظلوم مسلمانوں کی بات ہو یا تذکرہ ہو ماضی قریب میں بوسنیا،چیچنیا اورسرزمین افغانستان کا کہ جہاں طاغوتی قوتوں نے اپنا ناجائز تسلط قائم کرنے اور مظلوم انسانوں کومحکوم بنانے کی خاطر ظلم جبراور وحشت کا ننگا ناچ کھیلتے ہوئے مظلوم انسانیت کے خونِ ناحق کی ندیاں بہائیں اورچاہے سرزمین بوسنیا ہو،چیچنیاہویاافغانستان ظلم تو ہوتا رہا،بربریت کی انتہا تو ہوتی رہی ،نہتے عوام کا خون تو بہتا رہامگر ایسے میں ان طاغوتی قوتوں کی تسلط کے سامنے گھٹنے ٹیکنے اور ان کی حاکمیت کو تسلیم کرنے کی بجائے مظلوم مگر فلسفہ جہاد سے واقف اور رُتبہ شہادت کی اہمیت سے بخوبی اگاہ مسلمانوں نے جان ہتھیلی پر رکھ کرایک ایسی ناقابل تردید اورناقابل فراموش تاریخ رقم کی جس سے نہ صرف مسلط طاغوتی قوتوں کو شکست فاش ہوئی اور سپر پاور کا لبادہ اوڑھے روس جیسی قوت کا تو شیرازہ ہی بکھر گیا بلکہ ان جہادی قوتوں کے جذبہ ایمانی ،عزم و استقلال اور قربانیوں کے انمٹ نقوش دیکھ کر تو پورا اقوام عالم ششدر رہ گیااوراس حقیقت سے تو کوئی انکار نہیں کہ یہودی بیت المقدس پر قابض ہیں اور سرزمین فلسطین پر مسلمانوں کا قتل عام کررہے ہیں وہاں خواتین کو خون میں نہلانے سمیت معصوم بچوں کے نرم نرم سینوں کو بھی گولیوں کی بوچھاڑ سے چھلنی چھلنی کیا جارہاہے دوسری جانب بظاہرایک سیکولر ریاست کے نام سے یاد کیا جانیوالا بھارت تعصب پرستی اور درندگی کا اپنا اصل چہرہ دکھاتے، آئے روزسرزمین مقبوضہ کشمیر میں خون کی ہولی کھیلتے اور ظلم وبربریت کی نت نئی تاریخ مرتب کرتے ہوئے نہتے مظلوم کشمیری مسلمانوں پرجوناقابل برداشت مظالم ڈھارہاہے دینا دیکھ رہی ہے اور دنیا یہ بھی دیکھ رہی ہے اور ورطہ حیرت میں ہے کہ نہتے فلسطینی ہو یاکشمیری حریت پسند مجاہد کس طرح اپنے سینوں کو ڈھال بناکراسرائیل اورہندوسامراج کے مظالم کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے ہوئے ہیں اورجام شہادت نوش کرتے ہوئے لیکن اپنے خونِ ناحق کی ندی میں بہاتے ہوئے طاغوتی قوتوں کو کس طرح تگنی کے ناچ نچارہے ہیں۔ اگرچہ ان تمام ناقابل تردید حقائق پر مبنی معروضی حالات کو دیکھتے ہوئے لفظ جہاد سنتے ہی ذہن میں جنگ و جدل اورخونریز تصادم کا خیال ابھرتاہے حالانکہ جہاد صرف خونریز تصادم اور ہتھیار اٹھانے کا نام نہیں بلکہ اس کے کئی اقسام ہیں اور مختلف نوعیت کی ضرورت کے تقاضوں کے مطابق جہاد کرنا دین اسلام کے آفاقی فلسفہ اور تعلیمات نبوی ﷺکی روشنی میں ہر مسلمان پر فرض ہے سواس حقیقت کو دیکھتے ہوئے ہمارے تعلیمی نصاب میں جہاد سے متعلق آیات کریمہ کا موجود ہونا لازمی ہے اور کسی مسلمان کو اس سے کوئی اختلاف ہوسکتا ہے نہ ہونا چاہیئے ۔اگر عوامی نیشنل پارٹی اور ان کے اتحادیوں کی سابق حکومت نے جہاد سے متعلق قرآنی آیات نکالنے جیسااقدام کیاتھا اور اب تحریک انصاف اور ان کے اتحادیوں کی صوبائی حکومت دوبارہ ان آیات کو نصاب میں شامل کرنے پرمتفق ہوگئے ہیں تو یہ اگرچہ بہت اچھی بات ہے ۔لیکن ایک سوال یہاں ضرور اٹھتاہے کہ جہاد کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں لیکن کیا محض جہاد سے متعلق آیات کریمہ کاتعلیمی نصاب میں شامل ہونے سے عوام کو درپیش وہ دیگر بے شمار سنگین اور گھمبیرمسائل حل ہوں گے جن کے حل کے لئے عوام نے تحریک انصاف،جماعت اسلامی اور قومی وطن پارٹی جیسی جماعتوں کو ووٹ دے کر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچایاہے کیونکہ نام ایک پہچان ہوتاہے اورقوموں کی معاشرتی زندگی میں اس کی اہمیت کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جاسکتا سو عوامی نینشنل پارٹی نے اپنے دور حکومت میں اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لاتے ہوئے سرحد کو خیبرپختونخواہ کا نام دیا تھاجو کہ ایک تاریخی اور قابل ذکر اقدام کے طور پر یاد رکھاجائے گا ضرور مگر ہوا کیا کہ صوبے کے نام کی تبدیلی جیسے مرحل

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button