تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

خیبر پختونخواہ میں تعلیمی ایمرجنسی اور حقیقت احوال

zafarپڑھائی نہ کرنے والے بچوں کوسکولوں میں داخل کرائیں گے ،اپنے بچوں کو سکول نہ بھیجنے والے والدین کے خلاف سخت قانونی کارروائی کریں گے،تعلیمی اداروں میں ایمرجنسی بنیادپرسہولیات کی فراہمی کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں گے،تعلیم مفت اور یکساں نظام تعلیم رائج کریں گے جس سے حصول تعلیم کی راہ میں حائل رکاوٹیں دوراور طبقاتی تفریق ختم ہوجائے گی۔ یہ وہ وعدے اور دعوے تھے اور ہیں جو الیکشن سے قبل اور حصول اقتدار کے بعدتحریک انصاف اورخیبرپختونخواحکومت کی جانب سے کئے جاتے رہے ہیں۔ اس سے قبل اگرعوامی نیشنل پارٹی کی سابق صوبائی حکومت کی جانب سے تعلیم کی مد میں کئے جانے والے اقدامات کاجائزہ لیا جائے تواگرچہ وہ بھی ناکام رہی تھی تعلیم مفت کریں گے کاوعدہ ایفاء کرنے میں البتہ اے این پی کے دور حکومت میں صوبے کے اندر آٹھ نئے یونیورسٹیوں اور ستر سے زائد زنانہ ومردانہ کالجزکے قیام سمیت پرائمری ،مڈل ،ہائی اور ہائرسیکنڈری سطح کے سینکڑوں تعلیمی ادارے قائم کئے گئے تھے اور تدریسی عملہ کی کمی دورکرنے کی غرض سے اساتذہ کی بھرتیوں ،تعلیمی اداروں کی اَپ گریڈیشن اور سہولیات کی فراہمی کاعمل بھی جاری تھاجبکہ ماہرین کے مطابق اے این پی کے دورحکومت میں شعبہ تعلیم کے اندر جوسرمایہ کاری کی گئی تھی اس کے انتہائی بہتر نتائج برآمدضرورہوں گے لیکن اس میں وقت لگے گا۔ مگردوسری جانب یہ بات باعث تشویش ہے کہ15 ماہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود خیبر پختونخوامیں پی ٹی آئی کی حکومت شعبہ تعلیم کی بہتری کے لئے تاحال انقلابی اقدامات کرنے سے قاصررہی ہے۔خیبرپختونخوا حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعدوزیراعلیٰ پرویزخٹک نے صوبہ بھرمیں ہنگامی بنیادوں پربچوں کو سکولوں میں داخل کرانے کی مہم کے تحت35 ہزار نئے بچوں کوسکول کی راہ دکھانے کااعلان کرتے ہوئے پھرتی دکھانے کی کوشش توکی اور ان کے اعلان کردہ اس خصوصی داخلہ مہم کوکامیاب بنانے کے لئے اضلاع میں محکمہ تعلیم کے حکام نے بھی بڑی دوڑ دھوپ کرتے ہوئے اگرچہ ہزاروں بچوں کوداخل توکرایامگر وزیراعلیٰ اور محکمہ تعلیم کی یہ کوششیں بار آور ثابت نہیں ہوئیں کیونکہ داخل کرانے والے نئے بچوں کے لئے تدریسی عملہ کی تعیناتی کاکوئی انتظام کیاگیاتھانہ سکولوں میں مزیدکمروں کی تعمیراور سہولیات کی فراہمی کاجبکہ حال یہ تھاکہ سکولوں میں پہلے سے موجودبچے ناکافی عمارت اور تدریسی عملہ کی کمی کا سامناکررہے تھے ایک کمرے میں ستر سے اسی تک بچے بیٹھتے تھے اورایک ٹیچربیک وقت دوسے زائد کلاسوں کے بچوں کوپڑھاتاتھابلکہ یہی سلسلہ بدستور جاری بھی ہے سویہ مہم فائدے کی بجائے نقصان کا زیادہ باعث بنی ۔ماہرین کاکہناہے کہ اس خصوصی داخلہ مہم کی بجائے اگر سکولوں میں نئے کمروں کی تعمیر،تدریسی عملہ کی کمی اور دیگرضروریات پوراکرنے پر توجہ دی جاتی تواس کے زیادہ بہتر نتائج برآمدہوتے۔بعد میں صوبائی حکومت نے کچھ عرصہ قبل تعلیمی اداروں کی کارکردگی پر نظررکھنے اور ان میں موجود خامیوں کانوٹس لے کراصلاح احوال کی غرض سے ایک مانیٹرنگ سسٹم کاقیام عمل میں لایاہے جس میں مانیٹرنگ آفیسرزکوتعینات کیاگیاہے اوربتایاجاتاہے کہ ایک مانیٹرنگ آفیسر کوموٹرسائیکل دینے سمیت چالیس ہزار روپے ماہانہ تنخواہ کی آدائیگی کی جاتی ہے مگر ماہرین تعلیم کے نزدیک مذکورہ مانیٹرنگ سسٹم بھی غیرمؤثرثابت ہورہاہے کیونکہ مانیٹرنگ آفیسرزسکولوں میں اَساتذہ اورزیرتعلیم بچوں کی حاضری چیک کرنے توجاتے ہیں مگران سکولوں میں موجود ضروریات پوراکرنے کاان کے پاس اختیارہے نہ کوئی میکنز م ۔مطلب کھایاپیاکچھ نہیں گلاس توڑاآٹھ اَنے کا۔دوسری جانب تعلیمی اداروں کے اندر اس مانیٹرنگ سسٹم کے نقصان کے کئی پہلوضرور پائے جاتے ہیں مثال کے طورپر یہاں زنانہ تعلیمی سکولزکی مانیٹرنگ کے لئے خواتین عملہ کوبھرتی نہیں کیاگیاہے اور زنانہ سکولوں کومانیٹر کرنے کی ذمہ داری بھی مرد عملہ کوسونپ دی گئی ہے جس سے ناخوشگوار واقعات رونماء ہونے کا اندیشہ ہوتاہے ،اس سے قبل محکمہ تعلیم کااپنا مانیٹرنگ سسٹم ہوتاتھا جس میں ضلعی حکام پرمشتمل ٹیم سکولوں کے معائنہ کے لئے جاتی تھی اور ان کی رپورٹ کی روشنی میں کسی بھی قسم کی غفلت ولاپرواہی اور غیر ذمہ داری کے مرتکب اساتذہ کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جاتی تھی جبکہ اپنے متعلقہ حکام کاسکولز اساتذہ پر نفسیاتی اثربھی ہوتاتھا مگراب تشکیل کردہ اس حکومتی مانیٹرنگ سسٹم کی وجہ سے وہ عمل بڑی حد تک غیرمؤثرہوکررہ گیاہے اور نہ صرف یہ بلکہ اس سے تعلیمی اداروں کے پرنسپلزاور ہیڈماسٹر کی حیثیت پربھی سوالیہ نشان بن گئے ہیں کیونکہ اگرایک ٹیچرکومعلوم ہوکہ پرنسپل اور ہیڈ ماسٹر سے چھٹی لینے کے باوجود مانیٹرنگ آفیسر اسے غیرحاضر قراردے سکتاہے تووہ اپنے انچارج سے چھٹی لینے کی بجائے مانیٹرنگ آفیسر سے اجازت لینے پر فوقیت دے گا اور سکول انچارج کویوں نظراندازکرنے سے سکول کا انتظامی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوگا۔نظرآتی اس ساری صورتحال کے پیش نظرصوبہ خیبر پختونخواکے شعبہ تعلیم کی بہتری کے عمل میں پھرتی اورتعلیمی ایمرجنسی کانفاذ کھٹائی میں پڑگیاہے۔ سرکاری سکولوں میں بچے آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں پینے کے ٹھنڈے پانی کے لئے اساتذہ اپنی جیب سے پیسے دے کر برف منگواتے ہیں برف کیاچاک بھی اپنے ہی پیسوں سے منگواتے ہیں ۔ صوبے کے بیشتر سکولو
ں میں واش رومزبھی موجود نہیں ہیں ۔کئی سکول دکانداروں اور دیگرلوگوں کے مقروض ہیں ایسی مثالیں بھی موجود ہیں جبکہ دیگرعلاقوں کو توچھوڑیئے صوبائی دارالحکومت پشاورمیں بھی ایسے سکولزپائے جاتے ہیں جہاں مستقبل کے معماران وطن ٹاٹ پر بیٹھ کرحبس اور گھٹن کے ماحول میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ چپل اتارکر کمرے میں داخل ہونا ،زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنا اور بارش یاخراب موسم کی صورت میں پڑھائی کانظام متاثرہوناتعلیمی ایمرجنسی کاحصہ تو نہیں البتہ غریب والدین کے زیرتعلیم بچوں کا نصیب ضرور ہے مگران کایہ نصیب تبدیل ہوگاکہ نہیں اور ہوگاتوکب ہوگااس حوالے سے تو کچھ نہیں کہاجاسکتاتاہم اب تک توایساہونا محض حکومتی وعدوں اور دعووں تک محدود ہے عملی طورپر کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا۔تبدیلی کے دعویدار اس کے باوجود دعویٰ کررہے ہیں مفت تعلیم کا بھی،یکساں نظام تعلیم کابھی اور ایک ہی میڈئم کے تحت تعلیمی نصاب کے رائج کرنے کابھی۔ سکولوں میں فرنیچر نہیں ہے،بیشتر سکولز پنکھوں اور بجلی کی سہولت سے محروم ہیں،زیادہ تر سکولوں میں پینے کاصاف پانی مہیاہوتاہے نہ انتظام ہوتاہے لیٹرین کا،اکثرسکولزکی عمارتیں زیرتعلیم بچوں کے لئے ناکافی ہوتی ہیں اور ایسے سکولزبھی پائے جاتے ہیں جہاں بیک وقت ایک سے زائدجماعتوں کے طلباء بیٹھے ہوتے ہیں،تدریسی عملہ کی کمی توعام سی بات ہے مگریہاں یہ تمام ترمسائل ہونے کے باوجودجب وزیراعلیٰ پرویزخٹک اورتحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان یہ کہتے سنائی اور دکھائی دیتے ہیں کہ خیبرپختونخواکوتعلیم کی بہتری کے حوالے سے مثالی صوبہ بنایاگیاہے توحیرانگی ضرور ہوتی ہے کہ یہ کس صوبے کی بات کررہے ہیں اس صوبے کی جس کا منظرہی یکسرمختلف ہے ان کی منظرکشی سے یاوہ ذکرکرتے ہیں خیبرپختونخواکے نام پر قائم کسی دوسرے صوبے کاجس کے بارے میں یہاں کے عوام کچھ نہیں جانتے۔

یہ بھی پڑھیں  فاتح قومی کرکٹ ٹیم کا وطن واپسی پر شاندار استقبال، ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے

 

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker