پاکستانتازہ ترین

کے پی کے حکومت کا موبائل کورٹ کو صو بھر میں فعال کرنے کا فیصلہ

پشاور (مانیٹرنگ سیل) صوبائی حکومت نے موبائل کورٹ کو صو بھر میں فعال کرنے کا فیصلہ کیا ہے سابق چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس دوست محمد کے دور میں بین الاقوامی امدادی اداروں کے تعاون سے بننے والی موبائل کورٹ کو صوبائی حکومت نے فعال کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کیلئے صوبائی اسمبلی کی سطح پر علیحدہ کمیٹی قائم کردی گئی ہیں جو موبائل کورٹ کے حوالے سے قانون سازی کریگی اور پھر ماڈل طرز پر بننے والے موبائل کورٹس کی عدالتیں صوبہ بھر میں کام کرنا شروع کردینگی- پشاور ہائیکورٹ کے سینئر قانون دان صوبائی حکومت کے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے اسمیں خواتین ایشوز کو بھی لانے کے خواہاں ہیں- لطیف لالہ ایڈووکیٹ سینئر پشاور ہائیکورٹ کا کہنا ہے شہریوں کو ان کے دہلیز پر انصاف فراہمی کا سلسلہ اچھا ہے لیکن اس میں فیملی کورٹ کے ایشوز کو بھی شامل کیا جائے-چیف جسٹس دوست محمد کے دور میں موبائل کورٹ فعال رہی اور حیات آباد ٗ داؤدزئی سمیت تھانہ چمکنی کی حدود میں تین مختلف جگہوں پر وزٹ کرکے 120 سے زائد کیسز میں شہریوں کو ان کے دہلیز پر انصاف فراہم کیاگیا وزیراعلی خیبر پختونخواہ پرویز خٹک نے پشاور ہائیکورٹ کو تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ موبائل کورٹ کو جدید ترین ویڈیو ٹیکنالوجی لنک بھی فراہم کیا جائیگا موبائل کورٹ ستمبر 2013 ء سے غیر فعال ہے جسے دوبارہ فعال بنانے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں تاہم پشاور ہائیکورٹ بار کے صدر موبائل کورٹ کے حق میں نہیں- عیسی خان ایڈووکیٹ پشاور ہائیکورٹ بار پشاورکا اس سلسلے میں موقف ہے کہ یہ عوامی پیسہ ضائع کرنے کے مترادف ہے اور جن لوگوں نے موبائل کورٹ شروع کیا تھا اس کا احتساب کیا جائے-پاکستان میں اپنی نوعیت کے پہلے موبائل کورٹ میں کیسز کو ڈیل کرنے کیلئے وکلاء کو تربیت دی گئی تھی نئے موبائل کورٹ کے قیام کیلئے مزید وکلا ء کو جوڈیشل اکیڈمی میں تربیت دی جائیگی-

یہ بھی پڑھیں  مریم صفدر کی عبوری ضمانت منظور

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker