تازہ ترینفرخ شہباز وڑائچکالم

"کچھ دن جنت نظیر میں "

واد ی ، جنت نظیر کے متعلق قصے کہانیاں تو بہت سن رکھے تھے ۔آنکھوں سے اس جنت نظیر کو دیکھنے کا اتفاق بھی چند دن پہلے ہوا۔قصہ یہ ہے کہ پنجاب میں بھرپور گرمی اور شدید لوڈ شیڈنگ اس ناقابل برداشت کرمی میں جب موقع ہاتھ آیا تو ہم نے غنیمت جانا۔جمعۃ المبارک کو ٹھیک چھ بجے روانگی ہوئی چار گھنٹے کا سفر طے کر کے اسلام آباد پہنچے ۔اصل سفر اب شروع ہو نا تھا ۔ سو ہم نے دھیر کوٹ آزاد کشمیر کے لیے رخت سفر باندھا ۔اسلام آباد کا موسم قدرے گرم تھا ۔کٹھن اور دشوار راستے پر سفر کرتے کرتے ہم دھیر کوٹ پہنچے ۔ ٹھنڈی ہوائوں اور وادی جنت کے مسحو ر کن مناظر نے سفر کی ساری تھکاوٹ دور کر دی ۔
اونچے اونچے پہاڑ ، پر فضا وادیاں اور تازہ پھلوں سے لدے درخت لبوں سے بے اختیار سبحان اللہ نکلتا ہے ۔ اور بنانے والے کی قدرت دیکھ کر آنکھیں دنگ رہ جاتی ہیں۔یہاں پر رب کائنا ت نے قدرتی ہوائوں کے اے سی لگا رکھے ہیں۔ ایسے ایسے خوب صورت مناظر جو لفظوں میں بیان نہیں کیے جا سکتے ۔لمبا سفر طے کر کے جائیںاور میزبان بھی چاہت کرنے والا ہو تو کتنا اچھا لگتا ہے۔یہاں دھیر کوٹ میں رنگلہ کی خوبصورت واد ی ہے پہاڑوں میں ٹین کے بنے ہوئے گھر جو بارش ، برف باری سے محفوظ رکھتے ہیں۔رات کو گھروں میں برقی قمقموں کی روشنی دیکھنے والے کو پہاڑوںمیں ستاروں کے جھرمٹ نظر آتے ہیں۔رنگلہ میں ریڈ فائونڈیشن سکول میں بھی جانے کا موقع ملا اس سکول میں 1000سے زائد غریب بچے اور بچیاں زیر تعلیم ہیں۔ جن کو معمولی فیس پر زیور تعلیم سے آراستہ کیا جا رہا ہے ۔رنگلہ میں ایک دن کے قیام کے بعد تازہ دم ہو کر صبح راولہ کوٹ کے لیے روانگی ہوئی۔میرے ہم سفر ماہنامہ ’’پیغام ڈائجسٹ‘‘ کے مدیر برادرم طلحہ ادریس تھے ۔ بہت ہی خوبصورت طبیعت کے مالک ہیں۔راولہ کوٹ پہنچ کر مقامی ہوٹل سے دوپہر کا کھانہ کھایا اب ہماری منزل آزاد کشمیر کی خوبصورت وادی بنجو نسہ تھی ۔بنجونسہ کی وادی کی خوبصورتی اور مقامی لوگوں کی مہمان نوازی نے بہت متا ثر کیا بنجونسہ میں ہم نے تین دن قیام کیا ۔معمول یہی رہا صبح فجر کی نماز ادا کر کے قدرتی پانی کے چشموں پر جاتے اور واپسی پر تازہ آلو بخارہ اور خوبانی سیر ہو کر کھاتے۔یہاں کا تازہ پھل بہت لذیذ ہے ۔ دنیا جہان کے پھل کھانے میں وہ لذت محسوس نہیں ہوئی جو لذت ہمیں یہاں کے تازہ پھل میں ملی۔دوسرے دن عصر کے بعد بنجوسہ جھیل کی خوب سیر کی ۔یہ جھیل بنجوسہ سے تقریباً ایک کلومیٹر پر واقع ہے ۔ یہاں پر سیر و تفریح کے لیے دور دراز مقام سے آئے ہوئے لوگوں کا بہت رش ہوتا ہے۔یہاں قیام کے دوران مقامی لوگوں کی مہمان نوازی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی ۔میں سوچ رہا تھا ۔ کہ یہ اجنبی لوگ ہمارے آنے پر اس طرح خوش ہوتے ہیں جیسے کوئی اپنے رشتہ داروں سے مل کر خوش ہوتا ہے۔اور اپنے آپ میں بھی شرمند ہ بھی ہورہا تھا ۔ہم بڑے شہروں میں رہنے والے لوگ کبھی کسی سے اس چاہت کے ساتھ ملنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔چند چیزیں لینے کے بازار جانے کا اتفا ق ہوا ۔ دکاندار یہ کہہ کر پیسے لینے سے انکار کر دیتے ہیں کہ ہم اپنے مہمان سے پیسے کیسے لے سکتے ہیں۔ہمارے ہاں دکانداروں کو پتہ چل جائے کہ خریدار مقامی نہیں تو وہ خریدار کی جو دُرگت بناتے ہیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔اپنے قیام کے دوران جتنے بھی مقامی لوگوں سے ملنے اور گپ شپ کرنے کا اتفاق ہوا سب کی گفتگو متاثر کن تھی ۔ اب جب کہ ہم واپس لاہور پہنچ چکے ہیں تو جنت نظیر کی یادیں ہیں اور و ہ مناظر جو ہمارے حافظے میں محفوظ ہیں ۔اگر واقعی کسی کو دنیا میں جنت دیکھنے کا شوق ہو میرا مشورہ ہے تو وہ ایک مرتبہ کشمیر ضرور جائے۔

یہ بھی پڑھیں  کورونا مثبت کیسز کی شرح میں مسلسل کمی،شرح 4.96 فیصد ہو گئی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker