تازہ ترینشیر محمد اعوانکالم

کچھ کھٹا میٹھا

shairخدا کا شکر ہے کہ دونوں کارواں بغیر کسی نا گہانی صورت حال سے دو چار ہوئے اپنی اپنی جلسہ گاہوں پر جلوہ گر ہوئے۔اگرچہ یہ بحث فی الوقت اتنی اہم نہیں کہ کون کتنے لوگوں کے ساتھ ٹی وی شوز کی زینت بنا لیکن اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اب تک عوامی تحریک، تحریکِ انصاف کے مقابلہ میں بہت زیادہ تعداد اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب رہی۔آزادی مارچ کے لیڈر سے توقع کی جا رہی تھی کہ وہ دورانِ مارچ راولپنڈی میں حادثہ کے باعث زندگی کی قید سے رہائی پانے اور خدا کو پیارے ہونے والے ان سپوتوں کے لیے اپنی تقریر کے آغاز میں دعا کرواتے، چالیس گھنٹے سے بول بول کے تھکے لبوں کو ان خاندانوں سے تعزیت کیلیے ہلاتے، لیکن ایسا نہ ہوا۔خدا ان پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔ دوسرا پشاور میں ہونے والے سانحہ کے بارے میں بھی چند الفاظ ہی سہی، بولتے تو سہی کیونکہ یہ قوم صرف الفاظ پہ ہی مر مٹنے کو تیار ہے۔ بس کوئی بولنے والا ہو بلکہ وزیرِ اعلیٰ کو فوراًواپس بھیجنا زیادہ بہتر تھا۔
ابھی دونوں جماعتوں کے راہنما خطاب بھی فرمائیں گے۔ قادری صاحب تو وقفے وقفے سے خطاب فرمائیں گے اور وہ وہ زیادہ مضبوط بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ انکی شخصیت کی وجہ سے نہیں کہہ رہا بلکہ اس لیے کہ انکے ساتھ آنے والے لوگ جلد متزلزل ہونے والے نہیں۔ اور دوسری وجہ یہ ہے کہ قادری صاحب ایک بار پھر واپس لوٹنے کی تاریخ دہرانے کی پوزیشن میں نہیں۔ وہ ایسے ناک آؤٹ مرحلہ میں ہیں جہاں ہارنے والے کو ساتھ ہی ریٹائرمنٹ کا اعلان کرنا پڑتا ہے۔
تحریکِ انصاف کے قائد نے اگرچہ جلسہ گاہ پہنچتے ہی اعلان کیا تھا کہ وہ کارکنوں کے ساتھ سوئیں گے۔ رات تین بجے میری رتجگے سے بند ہوتی آنکھوں میں تحسین کے منظر ابھرے لیکن پھر محترمم بنی گالا چلے گئے۔ اِس پہ بہت سے لوگوں نے تمسخر اڑایا ہو گا، کچھ ناراض بھی ہوں گے لیکن اصل میں سرینہ کنٹینر اس وقت وہاں نہ پہنچا تھا ۔ بہر حال نہ رکنا اخلاقی اور سیاسی غلطی ہے لیکن عقلمندی کا تقاضا یہی ہے کہ انہیں جانا چاہیئے تھا۔ اب وہ تازہ دم ہو کے زیادہ بہتر طریقے سے اپنا کردار نبھا سکتے ہیں۔
میڈیا میں خان صاحب اور حکومت کے درمیان مصالحتی معاہدہ طے پانے یا دوسرے الفاظ میں اِ س ہاتھ دے اُس ہاتھ لے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ رات کو اسلام آباد میں چند اہم شخصیات سے ملاقات کی سرگوشیاں بھی سنائی دیں۔ ان خبروں کی صحت کے بارے میں ابھی کچھ دعویٰ کرنا آسان نہیں۔ بہر حال سیاست میں یہ باتیں نئی یا عجیب نہیں۔
دوسری طرف قادری صاحب کو پی ٹی آئی سے بڑا شو کرنے کی نفسیاتی برتری انہیں اور زیادہ مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ ویسے بھی انہیں یاد ہو گا کہ پچھلی مرتبہ جب وہ اپنے سرینہ کنٹینر میں ماتھے سے پسینہ صاف کر رہے تھے تو باہر خون منجمند کرتی سردی میں کارکن ان کے لیے والہانہ عقیدت کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ اس لیے اب بارشوں کے خوشگوار موسم میں کئی دن کا پڑاؤ کرتے ہوئے کارکنوں کے عزم پر کسی قسم کا شک و شبہ ان کے وہم و گمان میں نہیں بھٹکے گا۔ویسے بھی ان کے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں کیونکہ وہ ماضی قریب میں کشتیاں جلا چکے ہیں۔ اس لیے حکومت کو جان کے لالے پڑنے والے ہیںیا پھرعوام ٹوپی بوٹ والے بڑے لالوں کی بیعت کرنے والے ہیں۔ خان صاحب اگر سیاسی بصیرت سے کام لیں گے تو ان کے پاس ابھی بھی ایک موقع ہے کہ وہ انقلاب کی منجنیق سے نئے پاکستان کا پتھر پھینکیں۔ شام تک نئے پاکستانیوں کے ہجوم میں اضافہ بھی ہو گااگر قیادت کی آنکھ تب تک کھلی تو!!! اگر پی ٹی آئی پیچھے ہٹتی ہے تو عوامی تحریک اور مضبوط ہو گی۔اس لیے اگر کپتان کی سمجھ میں یہ آ جائے کہ عوامی تحریک زیادہ جلد پچھلے قدم پر نہیں جا رہی اور اس کے بل بوتے پر یہ سٹینڈ لے سکتے ہیں کیونکہ دونوں میں سے جب تک کوئی ایک وہاں موجود ہے تب تک حکومت کے مقدّر میں رت جگے جھلملاتے رہیں گے۔

note

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1. Sher Sab I Agreed men khud sari raat jagta raha lekin PTI k rehnuma k wohi porane ilzam or beyan sunen….. mere kheyal men Dr sab ka beshak Aakhri round he agr wo hate to un ki politics se retired hona conferm he or phir kabi is mulk or qowm men tabdeli or inqlab ki baat nai ho gi….. But PTI ko bhi Dr sab ki tarah Ilzamat k sath sath Constitution k bhi thapar Govt k muhn par marne chahen…… Men Qadri ko support ic leye krta hon k beshak logon men mazhabi lehaz se image tek nai Magr wo jo ilzam lagate hen sath hi Constitution k articles se us pr Mohren bhi sabt kr dete hen…. or mera nai kheyal k Govt un se is mozo men table talk men jeet sakte…..Q k Jamhoreyat or Constitution bhi secular hota ja raha he Matlab Jo articles Govt k haq men hen un ko accept kr lete hen or jo Awam k haq men hen us ki baat hi nai krte jese wo Constitution ka hissa hi nai……. But Well done Sher sab…..

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker