تازہ ترینتجمل محمود جنجوعہکالم

کچھ شاعرانہ

tajammalارض پاک کی حالت دیکھ دیکھ اک صاحب شعور، صاحب فکر، صاحب درد جانے کتنی بار کڑھتا ہے اور دن میں جانے کتنی بار مرتا ہے۔ جب قوم کے محافظ ہی لٹیرے بن جائیں، جب جان بچانے والے جان لینے والے بن جائیں، جب انصاف نام کی کوئی چیز باقی نہ رہے، جب قوم کا مستقبل سڑکوں پہ کاغذ چننے پہ مجبور ہو جائے تو ایسی صورت میں ترقی کا نعرہ لگانابہت عجیب سا معلوم پڑتا ہے۔روٹی کپڑا اور مکان کے وعدے کے عوض ووٹ لینے والوں نے اپنی غیر منصفانہ پالیسیوں کے باعث اس مظلوم قوم کی پہنچ سے یہ چیزیں دور کر دی ہیں۔یہاں مجھے قانتہ جی کے کچھ اشعار یاد آ رہے ہیں۔ فرماتی ہیں:
؂ روٹی کپڑا مکان کی باتیں
ہیں اگرچہ دھیان کی باتیں
عشق کے آسمان پہ اڑتے ہیں
زیر بحث ہیجان کی باتیں
جان ہتھیلی پہ لے کے چلتے ہیں
ماضی ٹھہری امان کی باتیں
لیلیٰ مجنوں کے سب ہیں شیدائی
کیا کر یں ہم گیان کی باتیں
پیش قدمی ہے پستیوں کی طرف
اور اس پہ اڑان کی باتیں
قانتہؔ جی زمین پہ ڈھنگ سے چلو
چھوڑ دو آسمان کی باتیں
ذرا کراچی کی صورت حال پہ نظر ڈالئیے۔ روزانہ بیسیوں جنازے اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناحق خون کئے جا رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے کراچی کا اک اک باسی یہ سوال کر رہا ہے
؂ زندگی اب بتا بھی دے ظالم
تُو ملے گی کہاں پہ کب مجھ سے
2008 کے عام انتخابات میں مشرف کی آمرانہ پالیسیوں سے تنگ اور پی پی پی کے نعروں کے سحر میں مبتلا عوام کو تویہ جیسے فرشتے معلوم پڑ رہے تھے۔ مگر
؂ کون کس کے ساتھ کتنا مخلص ہے محسنؔ
وقت ہر رشتے کی اوقات بتا دیتا ہے
اب عوام کی تمام امیدیں ناامیدی میں ڈھل چکی ہیں۔ ہر آس سسک سسک کر دم توڑ چکی ہے۔ جب عوام اپنے دکھوں کا رونا روتے ہیں توحکمرانوں کے رویے سے یوں لگتا ہے جیسے وہ جواباً کہہ رہے ہوں
؂ غم بیان کرنے کا کوئی اور ڈھنگ ایجاد کر
تیری آنکھوں کا یہ پانی تو پرانا ہو گیا
ہمارے سیاستدان انتخابات کے بعد تو یوں نظریں چراتے ہیں جیسے پھر کبھی اس عوام سے واسطہ نہیں پڑے گا۔ اے حکمرانو…… !!!
؂ انتہائے بے رخی کے قرینے میں
کاش ہم آپ پر گئے ہوتے
انتخابات کے قریب آتے ہی حکمرانوں کی دوڑیں لگ جاتی ہیں۔ عوام سے تعلقات پھر سے استوار کئے جاتے ہیں۔ عوامی رابطہ مہم میں خاصی تیزی آ جاتی ہے مگر انتخابات کے بعد حسب روایت یہی ہوتا ہے
؂ آئے تو یوں کہ جیسے ہمیشہ تھے مہرباں
بھولے تو یوں کہ گویا کبھی آشنا نہ تھے
جب سیاست دانوں سے عوام کی حالت زار اور حکومت کی کارکردگی سے متعلق سوال کیا جاتا ہے تو وہ کرم فرما اپنے چند ادھورے منصوبوں اور کچھ نوازے گئے اپنے ساتھیوں کا ذکر کر کے "سب ٹھیک” کا لیبل لگانے کی ناکام سی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ ان نام نہاد مسیحاؤں سے میں بس اتنا ہی کہوں گا
؂ ہنستے ہوئے چہروں کو غموں سے آزاد نہ سمجھ
تبسم کی پناہوں میں ہزاروں درد ہوتے ہیں
کبھی زندگی بہت خوبصورت ہوا کرتی تھی ۔ ہر طرف خوشیوں کا بسیرا ہوتا تھا۔مگر وہ دن تو جیسے خواب ہی ہو گئے ہیں۔آج سے کچھ برس قبل اور اب کے حالات میں اتنا سا فرق ہے بس
؂ زندگی رقص کیا کرتی تھی کبھی
اب تو چپ چاپ پڑی ہے مجھ میں
اب ساری قوم سوائے خدا کی ذات کے سب سے مایوس ہو چکی ہے۔وہی مالک دو جہاں ہے جو ہمارے حالات سنوار سکتا ہے۔ میری مولائے کائنات سے دعا ہے کہ
؂ اٹھا لے زر کی رنگینی، فقیری کا ہنر دے
عطا کر جان لفظوں کو، دعاؤں میں اثر دے
ملائک ہم نے کیا کرنے، ہمیں کوئی بشر دے
ترستی ہے یہ دنیا، یا خدا کوئی عمرؓ دے

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ :بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کا بحران شدت اختیار کرگیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker