پروفیسر مظہرتازہ ترینکالم

کچھ اپنی زباں میں

Prof Mazharہم اُس دیس کے باسی ہیں جہاں امن کی گنگا نہیں ، آگ و خون کے دریا بہتے ہیں ۔جہاں اذہان و قلوب کی کھیتیوں میں اخوت و محبت کی بجائے نفرتوں کے بیج ، بارود کی کھاد اور خون کی آبیاری کی جاتی ہے ۔جہاں زور آوروں کے مکڑے جنم لیتے ہی مقہوروں کے گرد جبر و قہر کے جال بننا شروع کر دیتے ہیں ۔جہاں ایک گروہ نسل در نسل آقا باقی سب غلام کہ ذلالت ،رذالت اور درد کی گرانی اُن کی وراثت ٹھہری ۔ جہاں اُن کے درِ دولت پر بھی سجدۂ عجز و نیاز کرنا پڑتا ہے جن میں تمیزِ فہم کا شائبہ تک نہیں ۔ جہاں دھرتی کی بے دَم مامتا کو اشرافیہ کا آسیب کسی روگ کی طرح چمٹ گیا ہے ۔ جہاں آہوانِ تشنہ لَب درندوں کی غراہٹیں سننے کے باوجود گھاٹ کی جانب محض اِس لیے رواں دواں ہیں کہ اُنہیں اِس کے سوا کوئی راہ دکھائی دیتی ہے نہ سجھائی۔ حضورﷺ کا فرمان ہے ’’لوگوں میں سب سے برا وہ ہے جس کی تعظیم اُس کے شَر کے خوف سے کی جائے ‘‘۔ لیکن ہم منصورِ حقیقت نہیں کہ سچ کی سولی پہ چڑھ جائیں یا سقراط کی طرح زہر کا پیالہ پی لیں ۔ہمارا سچ تو اُس ناجائز بچے کی مانند ہے جسے تہمتوں کے خوف سے چھپایا جاتا ہے اور خود ہمارے فہم و ادراک کی یہ حالت ہے کہ
چلتا ہوں تھوڑی دور ہر اِک راہرو کے ساتھ
پہنچانتا نہیں ہوں ابھی ر ہبر کو میں
بو کھلائی ہوئی قوم کبھی نواز لیگ کی طرف دوڑتی ہے تو کبھی پیپلز پارٹی کی طرف ۔کبھی اپنی آرزوؤں کا محو رتحریکِ انصاف کو بنا تی ہے تو کبھی اُس کی آنکھ دینی جماعتوں پہ جا ٹھہرتی ہے لیکن گوہرِ مقصود کہیں ہاتھ نہیں آتا کہ اپنی فطرت میں سب ایک ہیں۔ہم نے بندگی کا ہر انداز اختیار کرکے دیکھ لیا لیکن شاید یہ نمرود کی خُدائی ہے جہاں بندگی میں بھی بھلا نہیں ہوتا ۔حیرت ہوتی ہے کہ جب ہم مشتِ خاک تو نشۂ نخوت سے کوسوں دور ہیں پھر بھی ہماری دعائیں بے اثر کیوں ہیں؟۔ شاید ہمیں ادراک ہی نہیں کہ حکمت کی کتاب میں تو درج کر دیا گیا ہے کہ خُدا اُتنی دیر تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلتا جتنی دیر تک اُسے خود اپنی حالت بدلنے کا خیال نہ ہو ۔ اور یہ بھی مسلمہ سچائی ہے کہ
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات
لاریب اکثریت پر اقلیت کی جابرانہ حکمرانی کا سبب یہ ہے کہ ہم خود بھی مختلف مذہبی ، لسانی اور سیاسی گروہوں میں بَٹ چکے ہیں۔اِبنِ خلدون نے کہا’’جہاں قبیلے بکثرت اور اہلِ عصبیت کی بہتات ہو وہاں سلطنت کو کبھی کامل استحکام نصیب نہیں ہوتا ‘‘۔ہم قبیلوں اور گروہوں میں بٹی ہوئی وہ قوم ہیں جس میں منافرت و عصبیت کوٹ کوٹ کر بھری ہے ۔ربِّ کریم کاتو انسان کو اپنی نیابت عطا کرتے ہوئے درسِ اوّل ہی یہی تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے لیکن ہمیں ربّ کی نیابت (نعوذ باللہ) راس نہیں آئی اِس لیے ابلیس کی نیابت اختیار کر لی ۔ہم مسلم توکہلاتے ہیں لیکن وادئ عمل میں قدم رنجہ فرمانے کی زحمت ہی نہیں کرتے ۔میرے آقاﷺ کا فرمان ہے ’’مجھے سورۂ ہود نے بوڑھا کر دیا کیونکہ اِس میں صراطِ مستقیم پر چلنے کا حکم ہے جو بال سے باریک اور تلوار سے تیز ہے ‘‘۔لیکن بزعمِ خویش پیروئ رسول ﷺ کا دعویٰ کرنے اور اپنے آپ کو دین کا ٹھیکیدار کہلانے والے’’ علمائے سُو‘‘ کا یہ عالم ہے کہ وہ بال سے باریک صراطِ مستقیم پر چلنے کی بجائے ابلیس کے کھلے راستے پر چلنے کو ترجیع دیتے ہیں ۔ہم تو عامی ہیں کہ جن کا دینی علم مساجد اور امام بارگاہوں تک محدود ہے ۔ ہمارے پاس تو اتنا وقت ہی نہیں کہ حکمت کی اُس عظیم الشان کتاب کا مطالعہ کر لیں کہ جس کے ایک ایک حرف کا حساب دینا ہے ۔ہمیں تو جو کچھ مسجدوں اور امام بارگاہوں سے ملتا ہے اُسی کو دینِ مبیں سمجھ لیتے ہیں ۔اِس لیے بِلا خوفِ تردید کہا جا سکتا ہے کہ شیعہ سُنّی فساد کا الزام ہم پہ نہیں دھرا جا سکتا اور تحقیق کہ مذہبی منافرت کو ہوادینے والے شَر پسند ہی ابلیسیت کے علمبردار ہیں جن کے اپنے اپنے شہید ہیں اور اپنے اپنے غازی ۔
لسانی اور مذہبی فرقوں اور گروہوں میں بٹی قوم پر اب طالبان کی صورت میں ایک اور عذاب نازل ہو گیا ہے ۔بجائے اِس کے کہ رہبرانِ قوم یکسو ہوتے اور علماء ایک نقطے پر اکٹھے ہوجاتے ۔ اب یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کون شہید ہے اور کون ہلاک؟۔اِس بحث کا ہوا دینے والے محترم لکھاری
کہتے ہیں ’’میرے نزدک یہ بحث بہت ضروری ہے آج نہیں توکل ہمیں یہ بحث کرنی ہو گی ‘‘۔محترم لکھاری کا لکھا سَر آنکھوں پر لیکن پہلے یہ تو طے کر لیں کہ جنگِ جمل میں کون شہید تھا اور کون ہلاک۔کیا محترم لکھاری اِس بارے میں کوئی فتویٰ صادر فرمانے کی زحمت کریں گے ؟۔سوال یہ بھی ہے کہ یہ کون طے کرے گا کہ شہید کون ہے اور ہلاک کون؟۔کیا علماء کرام جوخود گروہوں میں بٹے ہیں؟۔ کچھ طالبان کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں اورکچھ جہادی ۔کچھ طاقت کے استعمال سے فتنے کا خاتمہ چاہتے ہیں تو کچھ کے نزدیک طالبان پچاس ہزار کیا پچاس لاکھ بے گناہوں کے خون سے ہاتھ رنگنے کے باوجود بھی جہادی ہی رہیں گے۔اِس لیے اِس’’شہید اور ہلاک‘‘ کی بحث کو چھیڑنا شَر کو ہوا دینے کے سوا کچھ نہیں۔مذاکرات کے حامی اصحاب سے سوال ہے کہ مذاکرات کس سے کریں؟ کیا مُلا فضل اللہ سے جو افغان حکومت کی پناہ میں ہے اور افغان حکومت امریکہ کی پناہ میں۔کیا امریکی ڈرون ’’کنڑ‘‘ کا راستہ بھول گئے ہیں جہاں مُلا فضل اللہ برا جمان ہے ؟۔ یا اُسے محض اِس لئے نشانہ نہیں بنایا جاتا کہ امریکہ کو یقین ہے کہ اُس کی موجودگی میں مذاکرات کی بیل منڈھے نہیں چڑھے گی نہ امریکہ چڑھنے دے گاکہ اُسے خوب ادراک ہے کہ ہم غیرت و حمیت کے کس مقام پر ہیں ۔ابھی کل ہی ہمارے مشیرِ خارجہ جنا ب سرتاج عزیز سینہ تان کر یہ کہہ رہے تھے کہ امریکہ نے یہ وعدہ کر لیا ہے کہ مذاکرات کے دوران ڈرون حملہ نہیں کرے گالیکن آج ڈرون حملہ کرکے اُس نے پتہ نہیں کِس کی غیرت کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی ہے۔
امن کی راہ اپنانے میں ہی حکمت ہے کہ میرا دین تو ہے ہی امن کا علمبردار لیکن تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے جب کہ ہمارے حکمران ایک ہاتھ سے بجانے کی سع�ئ بیکار کر رہے ہیں ۔طالبان حکمرانوں کو حکیم اللہ محسود کا قاتل سمجھتے ہیں اور اُن کے خیال میں وزیرِ اعظم کے دورۂ امریکہ کے موقعے پر حکیم اللہ محسود کے قتل کی سازش تیار کی گئی۔جب کہ ہمارے حکمران ہر روز وضاحتوں کا دفتر کھول بیٹھتے ہیں ۔طالبان متواتر مذاکرات سے انکاری ہیں جبکہ حکمرانوں کی لجاجت اب بھی مذاکرات کی رَٹ لگاتی نظر آتی ہے ۔چلو مان لیا کہ ہم ’’ عالمی غنڈے‘‘ سے مقابلے کی سکت نہیں رکھتے لیکن اگر چند ہزار طالبان کے خوف سے بھی حکومت سہمی سکڑی بیٹھی ہے تو پھر کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ ہم حقِ حکمرانی طالبان کو تفویض کرکے خود بے غیرتی و بے حمیتی کی چادر اوڑھ کر سو جائیں۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button