انور عباس انورتازہ ترینکالم

’’ککڑاں کھ اڑائی تے اپنے سراں وچ پائی‘‘

anwar abasکچھ دنوں کی بات ہے۔کہ مسلم لیگ نواز کے سربراہ میاں محمد نواز شریف ملک کے 26ویں وزیر اعظم کا حلف اٹھائیں گے۔آج کل مسلم لیگ نواز کی قیادت اور عام کارکن بڑے خوش ہیں۔اور جشن منانے میں مصروف بھی دکھائی دیتے ہیں۔نواز شریف کو بہت سے چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا۔ سب سے اہم جنرل پرویز مشرف پر قائم مقدمات کو آگے بڑھانے کا مسلہ پھن پیلائے کھڑا ہے۔
دہشت گردی کی جنگ سے نبٹنا بھی کسی سے کم نہیں ہے۔طالبان سے امن وامان کے لیے سب سے بڑھ کر یہ کہ جون 2014 میں اتحادی فوجیوں کو افغانستان سے واپسی کے لیے پر امن راستے کی فراہم کی ضمانت دینے کے لیے طالبان سے مذاکرات بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔بجلی اور گیس کی بے رحمانہ لوڈ شیڈنگ کے مسلے سے نبٹنا بھی اپنی جگہ الگ اہمیت رکھتا ہے۔گو کہ مسلم لیگ نواز کو پنجاب اور وفاق میں ھکومتیں تشکیل دینے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے ۔لیکن سندھ ،بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں انہیں ایک دو نہیں بے شمار مشکلات درپیش ہوں گی۔مبصرین اور تجزیہ نگاروں کے خیال میں بلوچستان میں حکومت سازی بھی میاں نواز شریف کا امتحان ہوگا۔کیونکہ بلوچستان ابھی بھی ’’ مضبوط ہاتھوں ‘‘ میں ہے ۔
فروری 2008 کے انتخابات میں میاں نواز شریف نے پاکستانی قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ برسر اقتدار آکر 1999کی قیمتیں واپس لائیں گے ۔لیکن بوجہ برسر اقتدار نہ آنے کے وہ قیمتیں 1999کی سطح پر نہ لا سکے تھے لہذا اب انہیں وہ وعدہ بھی نبھانا ہوگا۔اارمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے اپنی ملاقات میں نئے وزیر اعظم کا حلف اٹھانے والے میاں نواز شریف نے اس بات کا گرین سنگنل دیدیا ہے کہ اگر عسکری قیادت سمجھتی ہے کہ جنرل پرویز مشرف کا ملک سے باہر جانا ملکی مفاد میں ہے تو وہ ان کے حلف اٹھانے سے قبل انہیں باہر بھیج سکتی ہے ۔تا کہ مسلم لیگ نواز اور اسکی قیادت عوامی اور عدالتی داباؤ سے بچ جائیں۔اس بات کا قوی امکان ہے کہ ان سطور کی اشاعت تک جنرل مشرف کو باہر بھیجا بھی جا چکا ہو۔شائد میاں نواز شریف یہ بات بھول رہے ہیں کہ جنرل مشرف ان کے حلف اٹھانے سے قبل باہر جائیں یا بعد میں انکی رائے اور مرضی یقیننا شامل ہوگی۔اور وہ اس طرح کی چالاکیوں کے ذریعے اس مجرمانہ فعل کے ارتکاب سے بری الزمہ نہیں ہو سکتے۔بہتر یہی تھا کہ ہمارے نئے وزیر اعظم عسکری قیادت سے صاف صاف کہہ دیتے کہ جنرل مشرف کو ملکی قوانین کے تحت اپنے اوپر قائم مقدمات کا سامنا کر نا چاہئے اور عدالتوں پر اعتماد کرنا چاہئے کہ وہ انکے ساتھ انصاف کریں گی۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ میاں نواز شریف کے رفقائے کار نے انہیں ایسا ہی کرنے کا مشورہ دیا ہو جیسا کہ انہوں نے آرمی چیف کو راستہ دکھایاہے ۔میاں نواز شریف کو اس بات کا بھی علم ہونا ضروری ہے کہ مستقبل کا مورخ انہیں کسی طور بھی معاف نہیں کرے گا ۔اور نہ ہی جنرل مشرف کے ملک سے باہر جانے کے جرم سے انہیں مثتثنی قرار دے گا۔بلکہ اس کا بے رحم قلم انہیں برابر کا مجرم کے خطاب اور اعزاز عطا کرے گا۔ایک طرف تو میاں شہباز شریف نگران وزیر اعظم میر ہزار خان کھوسو پر اس لیے برہم ہو رہے ہیں کہ وہ انکی ایک بات نہیں سن رہے ۔اور صدر زرداری کے اشاروں پر ناچتے ہ

یہ بھی پڑھیں  نریندر مودی ایک گندا انڈا ہے،بھارتی عوام اپنے گندے انڈے کا احتساب کریں،جاوید میانداد

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker