تازہ ترینکالم

کل جماعتی کانفرنس اور عمران کی شمولیت سے انکار

zafar ali shah logoدہشت گردی کے حوالے سے مجوزہ کل جماعتی کانفرنس میں شرکت نہیں کروں گااے پی سی اس سے قبل بھی بلائی گئی تھی اس کا کیا نتیجہ برآمدہوا۔ دہشت گردی کے معاملے پر آرمی چیف جنرل کیانی اور وزیراعظم نوازشریف سے بات چیت کرنا اور ملک میں جاری دہشت گردی سے متعلق جاننا چاہتاہوں تاکہ پتہ چلے مجبوری کیا ہے اور اصل کہانی کیاہے۔اگر امریکہ سے کوئی خفیہ معاہدہ ہے تو بند کمرے کے اجلاس میں ہمیں بتایاجائے اگر حکومت کی مجبوری کا پتہ چل جائے تو ہوسکتاہے ہم کوئی تجویز دے کر مددگارثابت ہوجائیں۔ان خیالات کا اظہار28 جولائی کو لاہور میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے پریس کانفرنس میں کیا ہے۔انہوں نے صدارتی انتخاب کے حوالے سے بھی لب کشائی کی اور کہاکہ اپوزیشن جماعتوں کے بائیکاٹ سے صدارتی الیکشن متنازعہ ہوگیاہے جبکہ اپوزیشن جماعتوں کا مؤقف درست ہے۔صدارتی الیکشن کی شیڈول ترتیب دیتے وقت کیا الیکشن کمیشن کوپتہ نہیں تھا کہ چھ اگست کوستائیس ویں رمضان ہے۔ ان کے مطابق وہ صدارتی الیکشن سے بائیکاٹ کرناچاہتے تھے کیونکہ تین دن میں کون انتخابی مہم چلائے گا تاہم جسٹس(ر)وجیہ الدین کی درخواست پر صدارتی میدان نہیں چھوڑا۔عمران خان نے فقط اتنا کہنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ حالیہ عام انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ دھاندلی کے باعث ملک کو تباہی کی طرف دھکیل دیاگیا ہے ان کے مطابق انتخابات میں دھاندلی تحریک انصاف کو باہر کرنے کے لئے کی گئی تاہم دھاندلی کے باوجود انہوں نے انتخابات کو تسلیم کیا ہے۔ان کے مطابق وہ انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات چاہتے ہیں دھاندلی سے متعلق ان کی اپیلیں موجودہیں اور وہ انصاف کی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں سپریم کورٹ ان کی درخواستوں کی سماعت کرے۔ انہوں نے تو یہ بھی کہا کہ وہ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کی تین تلوار والی تقریر پر برطانوی ہائی کمشنر سے بات کی تھی۔پی ٹی آئی کے سربراہ نے قدرے دھمکی آمیز لہجے میں مزید کہا کہ اگر ان کو ان کا جمہوری حق نہ دیا گیا تو وہ سڑکوں پر نکل آئیں گے انہوں نے اپنے پارٹی ورکرز سے کہا کہ وہ تیارہیں اگر جمہوریت بچانے کے لئے سڑکوں پر نکلنا پڑا تو نکل آئیں گے۔ بہرحال قطع نظر اس کے کہ دہشت گردی کے حوالے سے عمران خان کل جماعتی کانفرنس میں شریک ہوتے ہیں یا آرمی چیف اور وزیر اعظم سے ملاقات کرکے حکومتی مجبوری اوراصل حقائق جاننے کی کوشش کرتے ہیں جیسا کہ ان کا مؤقف ہے،حالیہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے کہ نہیں اور کیا سپریم کورٹ انتخابی دھاندلی سے متعلق پی ٹی آئی کی درخوستوں کی سماعت کرے گی یا نہیں،یہ بھی کہ کیا صدارتی اتخابات کے حوالے سے واقعی اپوزیشن کا مؤقف درست تھا اور ان کے بائیکاٹ سے الیکشن متنازعہ ہوگیاہے یا نہیں تاہم عمران خان کے پریس کانفرنس کے بعد سوال یہ جنم لیتا ہے کہ عمران خان نے دہشت گردی کے حوالے سے مجوزہ کل جماعتی کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیوں کیاجبکہ اے پی سی ان کے لئے اپنا مؤقف پیش کرنے کے حوالے سے ایک مناسب فورم ہوسکتاہے اگر شرکت نہ کرنے کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اے پی سی تو اس سے قبل بھی بلائی گئی تھی جس کا کوئی بھی اثر نہیں ہوا تواس ضمن میںیہ دیکھنا بھی اہم ہے کہ وہ حکومت اور تھی آج حکومت اور ہے قومی اسمبلی میں اس وقت اپوزیشن اور تھی آج اورہے۔ جبکہ عمران خان کا کہنا تو یہ تھاکہ وہ مضبوط اپوزیشن کا کردارادا کریں گے ایسے میں دہشت گردی جیسے اہم ایشو پر بلائی جانیوالی اے پی سی اجلاس سے بائیکاٹ کرنا کیا مناسب ہوگا۔جبکہ قابل ذکر یہ بھی کہ مجوزہ اے پی سی کا کوئی نتیجہ نہ نکلنے کی صورت میں حکومت کا اصل چہرہ سامنے آنے پر عمران خان عوام کے پاس جانے اور حکومت کی ناکامی دکھانے اوربتانے میں کیا حق بجانب نہیں ہوں گے۔عمران خان کی جانب سے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات لگانا بجا لیکن سوال یہ ضرور اٹھے گاکہ جن نشستوں پر پی ٹی آئی کامیاب قرار پائی ہے کیا عمران خان کی نظر میں وہاں بھی دھاندلی ہوئی ہے یا ان کے نزدیک دھاندلی صرف ان حلقوں پرہوئی ہے جن پر ان کے امیدوار ہارے ہیں اور اگرواقعی دھاندلی ہوئی ہے تو تبدیلی کے علمبردار عمران خان نے انتخابی نتائج کو تسلیم کیوں کیا تھا اگر آج وہ یہ کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ انہوں نے دھاندلی کے باوجود انتخابی نتائج تسلیم کئے ہیں تو کیا یہ سمجھوتوں کی سیاست نہیں کہلائے گی جبکہ سمجھوتوں کے سہارے نظام میں تبدیلی کبھی نہیں آیاکرتی۔جنم لینے والا ایک سوال یہ بھی ہے کہ اگر صدارتی انتخاب کے حوالے سے عمران خان اپوزیشن جماعتوں کے مؤقف اور بائیکاٹ کو درست قرار دے رہے ہیں تو انہوں نے دیگر جماعتوں کا ساتھ کیوں نہیں دیا جبکہ فیصلہ یا تو حکومت کا ٹھیک ہوتا ہے یا پھر اپوزیشن کا سویاتووہ حکومت کا ساتھ دے دیتے یا پھراپوزیشن کا ۔جبکہ جمہوریت بچانے کے لئے عمران خان کا اپنے کارکنوں کو سڑکوں پر آنے کے لئے تیاررہنے کا عندیہ د ینا بھی بڑا معنی خیز ہے اور اس ضمن میں سوال اٹھتاہے کہ جمہوریت کو اب کونسے خطرات لاحق ہوگئے ہیں حالانکہ نئی حکومتیں بنی تو ابھی تو دو ماہ کا عرصہ بھی نہیں گزراہے ایسے میں بعض حلقے سوال اٹھارہے ہیں کہ یہ کسی نئی مہم جوئی کا پیغام تو نہیں۔ عمران خان اب ایک عام شہری نہیں رہے وہ ایک ایسی جماعت کے سربراہ ہیں جو اس وقت ملک کے سیاسی منظرنامے پر تیسری سیاسی قوت کی ص
ورت میں ابھرکر قومی اسمبلی میں اچھی خاصی نشستوں کی حامل ہونے کے ساتھ صوبہ خیبر پختونخواہ کی سب سے بڑی منتخب اورحکمراں جماعت ہے۔سو اگر عمران خان سیاسی طورپرایک مقبول عوامی جماعت کے سربراہ کی حیثیت سے دیگر سیاسی قوتوں کو ہدف تنقید بناسکتے ہیں تو انہیں بھی جواب دینا ہوگا ایسے سوالوں کا۔note

یہ بھی پڑھیں  حکومت نے شہریوں کو بجلی گیس بل تین ماہ بعد جمع کرانے کی سہولت دیدی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker