شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / میراسچ وید ماجد شاہ

میراسچ وید ماجد شاہ

آج پاکستان سمیت پوری دنیا میں مزدوروں کا عالمی دن منایا جارہا ہے یہ دن منانے کا مقصد معاشرے کو معاشی میدان میں مزدور کی اہمیت اور اس کے مسائل سے آگاہ کرنا ہوتا ہے لیبرڈے منانے کا آغاز آج سے ٹھیک 126سال پہلے اُس وقت ہوا جب 1886ئ میں شکاگو کے مزدوروں نے اپنے مطالبات کو منوانے کیلئے بے مثال جدوجہد کا آغاز کیااور آخر کار اس مقصد کیلئے اپنی جانیں تک قربان کرڈالیں۔
چارعاملین پیدائش میں سے ایک اہم ترین عاملین پیدائش محنت بھی ہے اور اس عامل کی رسد مزدوروں کے ذمہ ہوتی ہے مزدور ہماری معاشی زندگی کا ایک انتہائی اہم اور بنیادی حصہ ہے وہ مزدور ہی ہوتا ہے جو زمین کے سینے پر کھڑی ان بڑی بڑی دیوقامت عمارتوںاور فیکٹریوں کو بنانے اور ان کو چلانے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور جس کے بغیر کوئی قوم معاشی ترقی کا تصور بھی نہیں کرسکتی مجموعی طور پرپوری دنیا کی 40%آبادی محنت کشوں پر مشتمل ہے لیکن افسوس کاروبارِ زندگی اور معیشت کا یہ اہم ترین پرزہ خود جن گھمبیر مسائل اور معاشی مشکلات سے دوچاررہا ہے اس کیلئے دنیا کی کوششیں بہت کم ہیں۔ پاکستان جس کی بنیاد اُس اسلام پر کھڑی کی گئی تھی جس کی تعلیم ہے کہ
”ہاتھ سے محنت کرنے والا اللہ کا دوست ہے ”
لیکن پاکستان میں بھی اللہ کا یہ دوست یہ شکوہ کرتا نظر آتا ہے کہ نہ تو اسے اس کی محنت کا صلہ ملتا ہے اور نہ ہی اس کی عزتِ نفس کا خیال رکھا جاتا ہے حکومت پاکستان نے لیبر پالیسی 2010ئ کے تحت مزدور کی کم از کم تنخواہ 7000روپے مقرر کی ہوئی ہے اول تو نجی سیکٹر اور پسماندہ علاقوں میں مزدوروں کو یہ سات ہزار بھی نصیب نہیں ہوتے وہاں آج بھی چار پانچ ہزار پر اُن سے جانوروں کی طرح دن رات کام لیا جاتا ہے لیکن سرکار سے سات ہزارروپے وصول کرنے والے مزدوروں کا کہنا ہے کہ اس مہنگائی کے دور میں 7000روپے کی تنخواہ بھی کسی مذاق سے کم نہیں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نہ صرف ان کے بچوں کیلئے صحت و تعلیم کی مفت سہولیات ہونی چاہئیں بلکہ مزدور کی کم از کم تنخواہ پندرہ ہزار روپے ہونی چاہئے ۔آج لیبر ڈے کے موقع پر بڑے بڑے جلسے و جلوسوں کا اہتمام کیاجائے گاجن سے بڑے بڑے حکومتی عہدیداران بھی خطاب کریں گے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اقتدار کے اونچے ایوانوں میں براجمان یہ حکومتی وزرائ ان فٹ پاتھ پر سونے اور کچے گھروں میں رہنے والے اس غریب لیکن عظیم طبقے کی اشک شوئی کیلئے کسی ٹھوس اور موثرپالیسی کااعلان بھی کرپائیں گے یا اس دفعہ بھی بات صرف مصنوعی مسکراہٹوں اور جھوٹے وعدوں تک ہی محدود رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں  بال ٹھاکرے کی دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں، ذکا اشرف
error: Content is Protected!!