تازہ ترینکالممحمد فرحان عباسی

لگی جو آگ تو ہر بار میرے گھر میں لگی

farhanاپنے وطن سے دور اپنے ملک کی تعمیر اور ترقی کے لئے دن رات کوشاں ہیں ،یہی سوچتے ہیں کہ اگر ہمارے ملک کے حالات اچھے ہوتے تو ہمیں پردیس میں آنے کی ضرورت ہی کیا تھی ،ہم بھی انہی لوگوں کی طرح اپنے ملک کی آزاد فضاؤں میں سانس لیتے اور اپنے ملک میں رہتے ،
دنیا اس وقت پاکستان کے اندر ہونے والے تماشے دیکھ ریہ ہے ،اور ہر ایک اس بات کا منتظر ہے کہ کب پاکستان میں خانہ جنگی شروع ہو اور پاکستان کی عوام ایک دوسرے کا خون بہائیں ،
وہ اپنے ملک کی معیشت کو تہس نہس کر ڈالیں ،اور پھر دشمن دنیا کی اس نیوکلئر پاور کو اپنا غلام بنا لیں ،
یہ اس وقت کی بات ہے جب پاکستان ایٹمی طاقت بنا تھا اس وقت دنیا کے نقشے پر موجود مسلم ممالک کی مساجد میں شکرانے کے نوافل ادا کئے گئے تھے ،ایک مسلم ملک ایٹمی طاقت بن گیا تھا ،مسلمانوں میں خوشی کی لہر اٹھی تھی جس کی وجہ صرف اورصرف مسلم اخوت وبھائی چارہ تھی ،
ان مسلمانوں کا یہ خیال تھا کہ اب غیر مسلموں سے بدلہ لینے کا وقت آ گیا ہے ،کہ پاکستان اپنے ایٹم بم کی طاقت سے نا سہی مگر مسلم دشمنوں کی آنکھوں میں آنکھیں ہی ڈالے گا تو وہ لوگ مسلمانوں پر ظلم ڈھانا بند کر دیں گے ،
ان کو اس بات کا پتہ چل جائے گا کہ مسلمانوں میں اخوت اور بھائی چارے کی صفت زندہ ہے ،
تب مسلمان اس خوش فہمی کا شکار ہو گئے تھے ،
مگر ان کو کیا معلوم تھا کہ جس ملک نے ایٹمی طاقت اپنی حفاظت کے لئے حاصل کی ہے الٹا اسے ایٹم کی حفاظت اس کے لئے مشکل ہو جائے گی ،
اور وہ اس کی خاطر اپنے ہی ملک کے باشندوں کو قتل کرنے پر اتر آئے گا ،اور اپنے عوام کی حفاظت اس کے لئے ایک چیلنج بن جائے گی ،
آج پاکستان کی ایٹم بم کو بظاہر اور بقول امریکہ کے طالبان سے خطرہ ہے ،مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ طالبان ہیں کون اور ان کی حقیقت کیا ہے ،آیا یہ وہی طالبان ہیں جنہوں روس کے ٹکڑے کئے تھے ،صرف امریکہ کو وجود بخشنے کے لئے ،انہوں نے اپنے ہزاروں جوانوں کی قربانی صرف اس لئے دی تھی کہ روس کے ٹکڑے کر یں اور سپر پاور کا سہرا امریکہ کے سر پر سجا دیں ،کیا ان طالبان سے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو خطرہ ہے ؟
یا وہ طالبان جو امریکہ اور انڈیا کی گود میں پلے ،بڑھے اور جوان ہوئے ،ان کی نشو نما ،اور ان کی تعلیم امریکہ اور انڈیا نواز پالیسیاں رہی ہیں ،؟کیا ان طالبان سے کوئی خطرہ ہے ،
آج تک پاکستان ،امریکہ اور نیٹو ،اس بات کی تصدیق نہیں کر سکے کہ آخر طالبان ہیں کون اور ان کا وجود کہان پر ہے ،
پاکستان کے لئے اس بات کا اندازہ لگانا کچھ مشکل ہو گا ،کیونکہ اس کی اپنی سرزمین جنگ کا شکار ہے ،اور رہی بات امریکہ اور نیٹو کی تو ان کو کسی پاگل کتے نے کاٹا ہے کہ طالبان کی حقیقت فاش کر کہ اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی ماریں ،
حقیقت یہ ہے کہ اصل طالبان انسان دوست ہیں اور امریکہ دشمن ہیں جن کی سوچ زمین کے کسی ٹکڑے پر قبضہ کرنا نہیں ہے بلکہ ان کا مقصد دنیا میں اسلام پھیلانا ہے ،اور جہاں مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے اس کے خلاف جہاد کرنا ہے ،
رہی بات یہ کہ پاکستانی طالبان اور افغانی طالبان ،اور القاعدہ کی تو اس وقت ان سب کی ایک بڑی تعداد امریکہ کے لئے کام کر رہی ہے جس کا مقصد صرف اور صرف مسلم ممالک خاص طور پاکستان میں افرا تفری پھیلانا ہے ،اور ایسے حالات پیدا کرنا ان کا مقصد ہے کہ جس کو مد نظر رکھتے ہوئے امریکہ عراق ،اور لیبیا کی طرح پاکستان پر بھی جنگ مسلط کرے اور پاکستان کی ایٹمی پاور کو اپنے قبضہ میں لے سکے
آج پاکستان کی حکومت اپنے ہی عوام کو تحفظ دینے سے قاصر نظر آتی ہے کیہں پاکستان کو توڑنے کی باتیں ہو رہی ہیں تو کہیں ملک سے باہر بیٹھ کر پاکستان کے صحافیوں اور شہریوں کو ڈرایا جاتا ہے مگر ایک ایٹمی پاور کی اتنی پاور نہیں کہ وہ ایسی دھمکیاں دینے والے کو گرفتار کر سکیں ،
ہمارے ملک میں ایک المیہ یہ کہ عوام اسے شخص کو اپنا سردار بنا لیتے ہیں جو ان کا سراسر دشمن ہو ،
آج کراچی میں ٹیلیفونک خطاب سننے کے لئے عوام کی ایک بڑی تعدا د جاتی ہے ،مگر کسی میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ اپنے قائد سے اتنا ہی بول دے کہ اگر وہ اتنا ہی محب وطن ہے تو اپنے ملک میں اپنی عوام کے بیچ میں آ کر اس عوام کی خدمت کیوں نہیں کرتا ،
کراچی میں دن رات عوام کا قتل عام ہو رہا ہے اور کراچی کی عوام کا نام نہاد لیڈر گیدڑ کی طرح چھپ کر صرف ٹیلیفونک خطاب کا سہار ا لے کر عوام کے اندر اپنا رعب اور دبدبہ بٹھا ئے ہوئے ہے ،
اب کون ہے جو ایٹمی پاور ملک کی عوام کو اس خوف سے نکالے گا ،
ہم یہاں دنیا کے تمام ممالک کے لوگوں کے اٹھتے بیٹھتے ہیں اور ہر ایک کا ہم سے یہی سوال ہوتا ہے کہ آخر ہمارے ملک کی حکومتیں کیا کرتی رہی ہیں کہ آج تک عوام قتل ہوتے ہیں ظلم کا شکار ہوتے ہیں
اور نا ہی قاتل پکڑے جاتے ہیں نا ہی ظلم ختم ہو رہے ہیں
لگی جو آگ تو ہمارے گھر میں لگی
ہمارے شہر میں قیمت ہمارے سر کی لگی

یہ بھی پڑھیں  الیکشن کمیشن جانبدار ہے اوراس سے شفاف انتخابات کی امید نہیں، عمران خان

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker