پاکستان

لاہورمیں ادویات کاری ایکشن،مزید4مریض جاں بحق،ینگ ڈاکٹرزکاہڑتال کااعلان

لاہور (ڈیسک رپورٹر) پنجاب میں ادویات کے ری ایکشن کے باعث مزید چار افراد جان سے چلے گئے۔ ینگ ڈاکٹرز نے تمام سرکاری اسپتالوں میں کل سے ہڑتال کا اعلان کردیا۔ ینگ ڈاکٹرز نے ادویات کے ری ایکشن سے ہلاکتوں کی ذمہ داری وزیراعلٰی پنجاب پر ڈالتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کردیا ہے۔ ینگ ڈاکٹرزنے کل سے ہڑتال کی کال دیتے ہوئے اسے شہباز شریف کے مستعفیٰ ہونے تک جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔ دوسری طرف ادویات کے ری ایکشن سے مزید  4 خواتین جاں بحق ہوگئیں ۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب نے ڈاکٹروں پر الزام تراشی اور محکمہ صحت میں معطلیوں کے خلاف کل سے ہڑتال کا اعلان کردیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے ترجمان کے مطابق اموات کے ذمہ دار وزیراعلیٰ ہیں اور ان کے مستعفی ہونے تک ہڑتال جاری رہیگی۔ ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ادویات خریدنے کی ذمہ دار حکومت کی ہے۔ ڈاکٹرز یا اسپتالوں پر ذمہ داری ڈالنا بددیانتی ہے۔ دوسری طرف تمام تر حکومتی کوششوں کے باجود پی آئی سی کی ادویات سے ہلاکتوں کا سلسلہ نہیں رُک سکا۔ ری ایکشن کے نتیجے میں حالت بگڑنے پر اب بھی سیکڑوں افراد مختلف اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔ اموات کا باعث بننے والی ادویات کی واپسی کے لیے حکومت کی جانب سے مریضوں کے ساتھ رابطے کیے جارہے ہیں اور متبادل ادویات کی فراہمی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ محکمہ صحت میں اہلکاروں کی معطلیاں اور جوڈیشل انکوائری کی درخواست دے کر پنجاب حکومت دباؤ سے نکلنے کی کوششیں تو کررہی ہے مگر مبصرین کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے بعد ینگ ڈاکٹرز کی جانب سے بھی وزیراعلیٰ کے استعفے کا مطالبہ پنجاب حکومت کی مشکلات میں اضافے کا سبب بنے گا۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker