امتیاز علی شاکرتازہ ترینکالم

NA129لاہور، میا ں شہباز شریف کامیاب ہوجائیں گے

imtiaz shakirپہلے تو میں اپنے ہم وطنوں سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ ووٹ ہر حال میں کاسٹ کریں اور کسی صورت ووٹ کو ضائع نہ ہونے دیں ۔ذات برادری اورچھوٹے موٹے ذاتی مفادات کی بجائے ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں ووٹ کاسٹ کریں ،آپ کا ووٹ بہت اہم ہے لہٰذاُ سے صرف اور صرف ملک کی بہتری کے لئے استعمال کریں ۔آج آپ جسے اپنے ووٹ کی طاقت سے حکمران منتخب کریں گئے وہ آئندہ پانچ سال پاکستان کا حکمران رہے ۔اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ ہمارے حق میں بہتر فیصلہ فرماکر ہمیں اچھے حکمران عطا فرمائے (آمین)اب میں آپ کو اپنے آبائی حلقے NA129کی تازہ صورتحال بتاتا ہوں،یہ حلقہ اس لئے زیادہ اہمت اختیار کرگیا ہے کیونکہ مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق ویزراعلیٰ پنجاب اس حلقے سے خود اُمیدوار ہیں ۔کچھ دن پہلے تک تو NA129میں ن لیگ کے اُمیدوارمیاں شہباز شریف اور تحریک انصاف کے اُمیدوار محمد منشاء سندھو کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جارہی تھی لیکن تازہ صورتحال یہ ہے میاں شہباز شریف کی پرکشش شخصیت نے ووٹرز کو اپنی طرف متوجہ کرلیا ہے اور ن لیگی رہنماء رانامبشر اقبال،میاں سلمان شہباز ،طلحہٰ برکی ،سردار عادمل عمر،رانا خالد قادری ،محمد نواز،میاں مقصود عالم،راؤشحاب الدین،شاہد شبیر میؤ،ملک فاروق کھوکھر،اختر بادشاہ،بابائے لیبرونگ ایم لطیف ارلرحمان پیرزادہ جنرل سیکرٹری پاکستان مسلم لیگ (ن) لیبرونگ لاہور،رانا شہباز احمد خاں،راؤناصر علی خاں ،آس محمد میؤ،ماسٹر شمس الدین اور دیگر نے دن رات انتھک محنت اورمثبت انداز میں میاں شہباز شریف کی انتخابی مہم چلا کر صورتحال کو یکسر بدل کے رکھ دیا ہے ،نئی صورتحال یہ ہے کہ ہر طرف شیر ہی شیر نظر آرہا ہے حلقے کے کسی ایک گاؤں میں بھی میاں شہبازشریف کی پوزیشن کمزر نظر نہیں آتی۔ماضی میں حلقہ NA129کے عوام ترقیاتی کام نہ ہونے کی وجہ سے بے پناہ مسائل کا شکارہیں ،ہرجگہ گندگی کے ڈھیر،سوریج اور سڑکوں کا نظام درہم برہم ہے،پینے کا صاف پانی میسر نہ ہے کوئی پارک یا تفریح گاہ دوردور تک نہ ہے ،صحت و تعلیم کا نظام موجود تو ہے لیکن اُس کی بے شمار خامیاں کسی نے دور کرنے کی کوشش نہیں کی ایسے حالات میں میاں شہبازشریف کا اس حلقے سے اُمیدوار ہونا اور اُن کا وعدہ کہ وہ حلقے کے ترقیاتی کام بغیر کسی تاخیر اور سفارش کے کریں گے ن لیگ کی کامیابی کی وجہ بنے گا وہ اس لئے کہ پورے پاکستان کے عوام یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ میاں شہباز شریف ترقیاتی کام کروانے میں ملک بھر کے سیاست دانوں سے آگے ہیں اور اس میدان میں اُن کا کوئی ثانی نہیں ،تحریک انصاف کے محمد منشاء سندھونے بھر پور مزاحمت کی کوشش کی لیکن صورتحال اُن کے بس سے باہر نظر آتی ہے ۔منشاء سندھوووٹ تو ضرور حاصل کریں گے لیکن اتنے نہیں کہ اُن کو میاں شہباز شریف کا سخت حریف کہا جاسکے،عمران خان نے جس تبدیلی کی بات کی تھی وہ ابھی اس حلقے میں نظر نہیں آتی نوجوانوں کی بہت تھوڑی تعداد تحریک انصاف کو ووٹ اور سپورٹ کرتی دیکھائی دے رہی ہے جبکہ اکثریت اپنے والدین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ن لیگ کے اُمیدوار کو بھر پور سپورٹ اور ووٹ کرے گی ۔نوجوان رمضان گجر،شرافت علی،مہر محسن ،شہباز ہمایوں اور ملک طارق کا کہنا ہے عمران خان نجانے کس تبدیلی کی بات کرتا ہے ؟اگر جلسوں ،جلوسوں اور تقریروں سے تبدیلی آنی ہوتی تو کب کی آچکی ہوتی ۔عمران خان نے بھی اقتدار کی سیاست کی ہے اور دوسروں کی طرح ادھر اُدھر سے امیرترین لوٹے جمع کر کے کرسی اقتدار پر قابض ہونے کی کوشش کررہے ہیں ۔ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دیہاتی علاقہ ہونے کی وجہ سے حلقہ میں تحریک انصاف کا ووٹ بینک بہت کم ہے اور ماضی میں محمد منشاء سندھو کو عوام تین بار ایم پی اے منتخب کرکے آزما بھی چکے ،جس کی وجہ سے لوگوں کا کہنا ہے کہ پارٹی نئی لیکن اُمیدوار تو پرانا ہی ہے ۔صرف ایک بات محمد منشاء سندھو کے حق میں جاتی ہے کہ میاں شہباز شریف سے عوام کا ملنا بہت ہی مشکل ہے اور منشاء سندھو سے آسان اس لئے کچھ لوگوں کا خیال ہے جس سے ہم مل ہی نہیں سکتے وہ ہمارے مسائل کس طرح حل کرے گا؟اس حلقہ سے منتخب ہونے والے پیپلزپارٹی کے سابق ایم این اے طارق شبیر بھی زور شور سے اپنی انتخابی مہم چلا رہے ہیں لیکن عوام اس بار پیپلز پارٹی سے سخت ناراض نظر آتے ہیں اس لئے توقع کی جارہی ہے کہ ن لیگ کے میاں محمد شہباز شریف واضع اکثریت سے کامیاب ہوجائیں گے ،تحریک انصاف کے منشاء سندھوکو دوسرے اور پیپلزپارٹی کے طارق شبیر کو تیسرے نمبر پر خیال کیا جارہا ہے ۔حلقہNA129اورPP159دونوں سے ن لیگ کے اُمیدوار میاں شہباز شریف کی بھاری اکثریت سے کامیابی کے امکانات بہت روشن دیکھائی دیتے ہیں اور کہیں کہیں میاں شہبازشریف کے مخالف اُمیدوار بھی اپنی ہار کو تسلیم کرتے محسوس ہوتے ہیں ۔اب تک کے حالات واقعات کے مطابق تو میاں شہباز شریف حلقہNA129اورPP159سے جیت چکے ہیں لیکن ابھی الیکشن ہونے میں ایک رات باقی ہے ۔ان حلقوں کا ماضی بتاتا ہے کہ یہاں آخری رات میں وفاریاں فروخت اور تبدل ہو جایا کرتی ہیں

یہ بھی پڑھیں  صدارتی امیدوار کی حمایت،پی پی وفد کی چوہدری شجاعت سے ملاقات

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker