پاکستانتازہ ترین

چوہدری برادران کے ڈاکٹر طاہر القادری سے مذاکرات میں اہم پیش رفت

sat bilalلاہور (محمدبلال احمد بٹ) پاکستان مسلم لیگ کے صدر سینیٹر چودھری شجاعت حسین اور سینئر مرکزی رہنما و نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی کے تحریک منہاج القرآن کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری سے مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے جبکہ قانونی نکات پر صلاح مشورہ جاری رہے گا، ڈاکٹر طاہر القادری نے آج کے مذاکرات کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ چودھری صاحبان نے نیک نیتی سے مخلصانہ کوششیں کیں، لانگ مارچ کے آخر تک رزلٹ سامنے ہو گا طے شدہ فارمولا پر عملدرآمد کی گارنٹی بھی ہو گی جبکہ چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ ہم قریب تر پہنچ چکے ہیں ہم نے کوئی انا کا مسئلہ نہیں بنایا،خون خرابہ نہیں ہونا چاہئے، قانونی نکات کا حل بھی ضروری ہے ان کے اسلام آباد پہنچنے تک معاملات طے ہو سکتے ہیں۔ مذاکرات میں مونس الٰہی بھی شریک تھے جبکہ آئینی و قانونی نکات پر صلاح مشاورت کیلئے ممتاز ماہر قانون ڈاکٹر خالد رانجھا خصوصی طور پر بلایا گیا۔ مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چودھری شجاعت حسین نے کہ اگر ہم یا وہ جذبات میں آ جاتے تو ملک و قوم کو نقصان ہو سکتا تھا۔ انہوں نے ملک ریاض صاحب کے قومی جذبہ اور بردباری کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ جا رہے تھے تو میں نے کہا کہ ہم بھی آپ کے ساتھ چلتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ نہیں آپ اس مسئلے کو حل کرنے کی پوری کوشش کریں میں اکیلا چلا جاتا ہوں، کوئی اور ہوتا تو کہتا چلو جی ہم بائیکاٹ کرتے ہیں۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ ہم نے ڈاکٹر طاہر القادری کو یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ ہم مسئلے کے حل کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ وہ اسلام آباد میں یقین دہانی چاہتے ہیں، ہم نے پھر بھی کہاہے کہ اسلام آباد کا راستہ کافی لمبا ہے تاہم راستے میں بھی ان سے بات چیت جاری رہے گی۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کے ہر پوائنٹ پر صدر اور وزیراعظم سے بات ہوتی رہی ہے، ہم کافی قریب تر پہنچ گئے ہیں اس میں کچھ قانونی نکات بھی سامنے آئے ہیں اس لیے ڈاکٹر خالد رانجھا کو زحمت دی گئی۔ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ عملدرآمد کے حوالے سے قانونی میکنزم دیکھنا ہے اور اس کو لیگل کور دینا ہے تاکہ اس پر عملدرآمد میں دیر نہ ہو اور ہم بھی یہی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی انا کا مسئلہ نہیں نہ ہی کوئی غرور و تکبر والی بات ہے ہم ایک اچھے مقصد کیلئے حاضر ہوتے رہے ہیں، تصفیہ کیلئے بیٹھے ہیں تاکہ خدانخواستہ کسی قسم کا جانی نقصان نہ ہو ڈاکٹر صاحب سمیت سب کی اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے اور ایسا کوئی واقعہ نہ ہو جس کا اندیشہ موجود ہے اس کیلئے سکیورٹی بھی ہونی چاہئے ،اس مارچ کا جو مقصد ہے اس کے ہر پوائنٹ کے پہلو پر غور کر رہے ہیں ڈاکٹر خالد رانجھا بھی اسی مقصد کیلئے حاضر ہوئے ہیں۔چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ ہم واپس جا کر جو ابھی بات ہوئی ہے اس کو بھی کلیئر کریں گے اور ہم نے کل بھی یہی کہا تھا کہ یہ نہ سمجھیں کہ مذاکرات ایک دن میں شروع ہو کر اسی دن ختم ہو جائیں گے، مذاکرات جاری رہیں گے، ہو سکتا ہے کہ ان کے اسلام آباد پہنچنے تک معاملات حل ہو جائیں کیونکہ یہ سب کے مفاد میں ہے جمہوریت کے مفاد میں ہے اور پاکستان کے امن و امان کیلئے بھی ضروری ہے کہ خدانخواستہ کوئی برا واقعہ رونما نہ ہو۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ مجھے چودھری برادران کی نیک نیتی اور اخلاص پر کوئی شک نہیں، پہلا واقعہ بھی معصومانہ غلطی تھی اگر وہ ملک ریاض صاحب کے نام کا ذکر کر دیتے حالانکہ وہ اپنے طورپر نیک نیتی سے یہ سب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ پاک بڑے حادثے سے قوم اور ہم سب کو بچائے، اگر دو افراد کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیں تو 75 فیصد دہشت گردی کے امکان کا خاتمہ ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں مخلصانہ کوششوں اور نیک نیتی کی تعریف کرتا ہوں لیکن میں صرف عملدرآمد چاہتا ہوں، قانونی نکات کے بارے میں ڈاکٹر خالد رانجھا سے بھی مشورہ ہوا ہے، میں نے کہا ہے کہ صبح سفر کا آغا ہونا ہے کم از کم 24 گھنٹے کا سفر ہے آپ مشاورت کریں آخر میں جو بات ہو گی اس کا بھی کوئی ضابطہ اور فارمولا ہو گا جس پر عملدرآمد کروایا جائے اور عملدرآمد سے پہلے اس کی گارنٹی بھی درکار ہو گی، مارچ ہو گا اللہ پوری قوم کو حفظ و امان میں رکھے۔ چودھری صاحبان کی کاوشوں میں اللہ برکت دے، نیک نیتی کے سفر پر چلے ہیں اللہ اس کو انجام خیر تک کامیابی سے پہنچائے، اس کا رزلٹ لانگ مارچ کے خاتمہ پرہی پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ہو گا جب تک چیز فائنل ہو چکی ہو گی اس پر انشاء اللہ عملدرآمد ہو گا اور اس کی گارنٹی ہو گی تاکہ میڈیا اور پوری قوم کو یہ یقین ہو کر جو کچھ ہم نے کہا تھا وہ پورا ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چودھری صاحبان کو مذاکرات میں اللہ تعالیٰ کامیابی عطا فرمائے اور ہمیں بھی کامیابی دے، میں آپ لوگوں کی گارنٹی چاہتا ہوں اب تمام فیصلے اسلام آباد میں ہوں گے۔ قبل ازیں ڈاکٹر طاہر القادری نے نہایت دکھ اور افسوس کے ساتھ بات چیت سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بدخواہ اور مخالفین ملک ریاض کی موجودگی کی آڑ میں من گھڑت، جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگا سکتے ہیں اور مجھے ان کی آمد کی اطلاع نہیں تھی تاہم انہوں نے کہا کہ میں نے نہایت قابل احترام چودھری شجاعت حسین صاحب سے فون پر گفتگو کے دوران کہا تھا کہ یہ آپ کا گھر ہے آپ جس کو چاہیں اپنے ساتھ لا سکتے ہیں۔ چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے یہ کہنے پر کہ میرا گھر آپ کا گھر ہے آپ جس کو چاہے ساتھ لے آئیں ہم ملک ریاض صاحب کو جو ہمیں ملنے آئے تھے صرف اس لیے ساتھ لے آئے کہ اپنی سوجھ بوجھ، ذہانت اور معاملہ فہمی کے باعث شاید مذاکرات کی کامیابی میں ممد و معاون ثابت ہو سکیں
کیونکہ انہوں نے نہ صرف ڈاکٹر صاحب کے نکات پر قریب لانے میں مدد کی بلکہ ملک میں جمہوریت برقرار رکھنے کیلئے وہ پیپلزپارٹی سے ہماری جماعت کے اتحاد میں معاون ثابت ہوئے اور ملک میں ہونے والے مختلف سیاسی اتحادوں میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے ملک ریاض صاحب کی عوامی خدمات کو بھی زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے مذاکرات کی کامیابی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ لانگ مارچ میں خدانخواستہ کوئی جانی نقصان ہو کیونکہ دہشت گردی سے کوئی بھی محفوظ نہیں۔ ملک ریاض نے اس مرحلہ پر جب وہاں سے جانے کا اعلان کیا کہ مذاکرات بہرصورت ہونے چاہئیں کیونکہ وہ بہت قریب آ چکے ہیں اور کوئی جانی نقصان نہ ہو تو ڈاکٹر طاہر القادری نے ان سے دلی طور پر معذرت کی۔ ملک ریاض نے ہاتھ جوڑ کر ڈاکٹر طاہر القادری سے اپیل کی کہ جب معاملات طے ہونے کے قریب ہیں تو وہ لانگ مارچ نہ کریں۔

یہ بھی پڑھیں  گڑھی خدابخش:حکمران ملک کو تباہ کر رہے ہیں ،غنویٰ بھٹو

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker