علاقائی

لاہور:کسانو ں کے معاشی قتل سے ملکی معیشت اور صنعت تباہ و برباد ہو جائے گی۔ صدر کسان بورڈ

لاہو﴿پریس ریلیز﴾ صدر کسان بورڈ سردار ظفر حسین نے کاشتکاروں کے وفد سے گفتگو کر تے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روز گاری کئی گنا بڑھ چکی ہے اور حکومت عوام اور کسانوں کو ریلیف دینے میں مکمل طور پر نا کام ہو چکی ہے اور عوام کو دھوکہ دینے کیلئے مصنوعی ریلیف سکیموں کی تشہیر کر کے وقت گذارا جا رہا ہے ۔ گیس ،پیٹرول ، ادویات ،بجلی و دیگر روز مرہ کی چیزوں کی قیمتوں میں تین سو فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے ۔صرف پنجاب میں دو کروڑ افراد ساٹھ روپے یومیہ پر گذارا کر رہے ہیں ۔جن کیلئے دو وقت کی روٹی کا حصول ایک جان لیوا چیلنج بن کر رہ گیا ہے ۔ہر روز لوگ مہنگائی و بے روز گاری کے ہاتھوں تنگ آکر ایک طرف اہل خانہ سمیت خود کشیاں کر رہے ہیں یا اپنے گردے اور اپنے جگر گوشے بیج رہے ہیں اور دوسری طرف چوریوں ، ڈکیتوں اور سٹریٹ کرائم میں اس خطر ناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے کہ ہر شہری عدم تحفظ کا شکار ہے ۔تجارتی اداروں اور کمرشل مارکیٹوں میں مندی کے باعث کاروبار عملاً ختم ہو کر رہ گیا ہے ۔لوڈ شیڈنگ نے صنعتوں اور ٹیوب ویلوں کا پہیہ جام اور گھروں کے چولہے ٹھنڈے کر دیئے ہیں ۔بجلی اور گیس کی ظالمانہ اور غیر منصفانہ لوڈ شیڈنگ نے صنعتوں کا جنازہ نکا ل دیا ہے ۔ملک حکومتی نااہلی کے باعث ملک میں صنعتی ادارے اور کھاد کے کارخانے بند ہونے کی وجہ سے زرعی کھیت بھی اجڑ گئے ہیں ۔دیہات میں 70 فیصد لوگوں کی زندگی زراعت سے وابستہ ہے لیکن حکومتی غلط پالیسیوں کے باعث فصلوں پر لگنے والے اخراجات بھی پورے نہیں ہو رہے ہیں کیونکہ حکومت نے زرعی پیداوار بڑھانے کی بجائے زرعی لاگت بڑھا دی ہے اور کھاد اور زرعی لوازمات کی قیمتوں میں ہو شربا اضافہ کر کے کسانوں کی کمر توڑ دی ہے ۔جس کے نتیجے میں پیداوار میں کمی ہوئی ہے کیونکہ کسانوں کو ان کی محنت کا صلہ بھی نہیں مل رہا ۔زراعت برباد ہونے کے باعث دیہی علاقوں میں بھی بے روز گاری اور فاقوں کی وجہ سے خود کشیوں میں خطر ناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے ۔زراعت کی بربادی کسانوں کا معاشی قتل ثابت ہو رہی ہے ۔حقیقت حال یہ ہے کہ نا اہل وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومت کی نا اہلی نے ایک خوشحال صوبے کے عوام کو غربت ، بھوک ، افلاس اورتنگ دستی میں اس طرح مبتلا کر دیا ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں مزدوروں اور کسانوں کی بے روز گاری کے باعث ملک کے ہر شہر کے بازاروں اور سڑکوں پر بے روز گاروں اور گدا گروں کے ہجوم دیکھے جا سکتے ہیں ۔ہلدی ،چاول،اورکپاس ،کے کاشتکاروں کو لوٹنے کے بعد اب شوگر مل مالکان دونوں ہاتھوں سے گنے کے کاشتکاروں کو لوٹ رہے ہیں اور انکا اربوں کھربوں روپیہ ہڑپ کر چکے ہیں ۔قانون نافذ کر نے والے ادارے اور افسران حکمران مل مالکان کے ذاتی غلام بن کر کسانوں کے لٹنے کا تماشہ دیکھ رہے ہیں ۔ اس سے پہلے کہ مجبور کسانوں کے ہاتھ حکمران مل مالکان اور انکے چہیتے افسرانوں کے گریبانوں تک پہنچیں حکمران کسانوں پر ظلم بند کر دیں

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker