تازہ ترینعلاقائی

جواں سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی ،عدالت نے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی

girls sexلاہور(نمائندہ خصوصی)جواں سالہ لڑکی کے ساتھ زیادتی عدالت عالیہ نے ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائی کورٹ نے سترہ سالہ لڑکی کو اجتماعی درندگی کا نشانہ بنانے کے واقعہکے حوالے سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ننکانہ صاحب کوحکم دیا ہے کہ پولیس کی جانب سے فوجداری ضابطہ کی دفعہ173 کے تحت رپورٹ ٹرائل کورٹ میں ایک ہفتے کے اندرپیش کئے جانے کو یقینی بنائے تاکہ وقوعہ کی شفاف کاروائی عمل میں لائی جاسکے۔تفصیلات کیمطابق قصبہ سید والا کے رہائشی بشیر احمد کی جواں سالہ لڑکی اپنے گیارہ سالہ کزن شکیل کے ہمراہ قریبی دربار پر سلام کر کے گھر واپس جا رہی تھی کہ راستے میں سٹیڈیم کے قریب تین اوباش نوجوانوں راؤ آصف عرف کاکا، رائے ثقلین اور رانا وحید نے شکیل کو دبوچ لیا اور لڑکی کو اٹھا کر قریبی گڑھے میں لے گئے جہاں دو گھنٹے تک اسے اپنی حوس کا نشانہ بناتے رہے۔ متاثرہ لڑکی نے زارو قطار روتے ہوئے پریس کو بتایا کہ وہ ان درندہ صفت لڑکوں کے آگے ہاتھ جوڑ کر خدا اور رسول ﷺ کے واسطے دیتی رہی مگر انہوں نے اسکی ایک نہ سنی اور اسکی فریاد کے جواب میں اسے تھپڑ مارتے اور تشدد کرتے رہے اور اسکے معصوم کزن کو اسکے ساتھ گناہ کرنے پر مجبور کرتے رہے۔ متاثرہ لڑکی کے والد نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نے اس کی معصوم بیٹی کی عزت لٹنے کو مال کمانے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔اس نے واقعہ کے فوراَ بعد مذکورہ ملزمان کے خلاف نامزد مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی لیکن پولیس لیت و لعل سے کام لیتی رہی اور واقعہ کے پانچویں روز ملزم رانا وحید سے بھاری رشوت لے کر اسکا نام نکال دیا اور دیگر دو ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ بشیر احمد نے مزید الزام عائد کیا کہ پولیس نے مقدمہ کو کمزور کرنے کیلئے اسکی بیٹی کا ڈاکٹری معائنہ بھی ایک ہفتہ کے بعد کروایا اور مقدمہ کا تفتیشی افسر اے ایس آئی سیف اللہ گرفتار ملزمان کو اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلاتا ہے اور متاثرہ خاندان کو تھانے بلا کر ملزمان کے سامنے بے عزت کرتا ہے۔ جبکہ پولیس اور علاقے کے چوہدری متاثرہ خاندان کو صلح کیلئے مجبور کر رہے ہیں ، انکار کی صورت میں پورے خاندان کو زندہ جلا کر مار ڈالنے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ متاثرہ خاندان نے پریس کے سامنے روتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری سے انصاف فراہم کرنے اور مقدمہ کو خراب کرنے کے ذمہ دار پولیس افسران کے خلاف سخت کاروائی کی التجاء کی ۔اخباری رپورٹ کے مطابق اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ تینوں بد قماش ملزمان کئی شریف بچیوں کی زندگیا ں تباہ کر چکے ہیں۔ منشیات کا استعمال اور چوری چکاری انکا معمول ہے۔ لیکن کسی بھی غریب آدمی نے انکے خلاف کبھی کوئی رپورٹ درج نہیں کرائی۔ اب اگر بشیر احمد نے انکے مظالم کے خلاف آواز بلند کی ہے تو پولیس بھاری رشوت لے کر انکی سرپرست بن گئی ہے۔ جبکہ تفتیشی افسر ASI سیف اللہ کا موقف ہے کہ اس نے کوئی غلط کام نہیں کیا اور نہ ہی وہ مقدمہ کے مدعی کو جوابدہ ہے، اگر افسران بالا نے اس سے باز پرس کی تو وہ خود ہی انکو مطمئن کر دے گا۔ عدالت عالیہ کے کمپلینٹ سیل نے مذکورہ واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ سیشن جج سے رپورٹ طلب کی جس پر سیشن جج نے کہا ہے کہ تھانہ سید والا پولیس نے بشیر احمد کی درخواست پر مقدمہ درج کرتے ہو ئے ملزمان راؤ آصف اور ثقلین کو گرفتار کر لیا ہے اور متاثرہ لڑکی کا بیان بھی قلمبند کر لیا ہے۔ تاہم متعلقہ SHO کو ہدایت کی گئی ہے کہ جلد از جلد تفتیش مکمل کر کے ملزمان کے خلاف چالان متعلقہ علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جائے۔کمپلینٹ سیل نے متعلقہ سیشن جج کو ہدایت کی ہے کہ مذکورہ بالا احکامات کی من وعن عمل کرتے ہوئے ایک ہفتے میں زیر دفعہ173 ضابطہ فوجداری پولیس رپورٹ پیش کی جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button