علاقائی

لاہور:اگرکسی سرکاری ملازم کو معطل بھی کردیا جائے تواس کی تنخواہ روکی نہیں جاسکتی،لاہورہائیکورٹ

لاہور﴿نامہ نگار﴾لاہورہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس محمد خالد محمود خان نے محکمہ تعلیم کے لیگل ایڈوائزر کو سرزنش کرتے ہوئے قراردیاہے کہ قانون کے مطابق اگر کسی سرکاری ملازم کو معطل بھی کردیا جائے تو اس کی تنخواہ روکی نہیں جاسکتی ،دس دن کے اندر روکی ہوئی تنخواہ اداکریں اور عدالت میں رپورٹ کریں ورنہ آپ کی جیب سے تنخواہ کی مد میں رقم وصول کی جائے گی، درخواست گزارشمیم شبیر نے نصراللہ خان بابرایڈووکیٹ کی وساطت سے موقف اختیارکیا کہ وہ گورنمنٹ گرلزایلمنٹری جامعہ مدنیہ اوکاڑہ میں بطور ہیڈ مسٹریس خدمات سرانجام دے رہی ہیں،گرمیوں کی چھٹیوں میں گورنمنٹ کی ہدایت پر سکول میں سمر کیمپ کا انعقاد کیا گیا جس میں ایک خاتون ٹیچرنے سمرکیمپ میں شامل ہونے سے انکارکیا جس پر میں نے اسے واپس ای ڈی او آفس بھجوادیا،ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس ٹیچر کے خلاف کارروائی ہوتی مگر ای ڈی او نے میرے خلاف کارروئی کرتے ہوئے مجھے معطل کردیا اور میر ی چھ ماہ سے تنخواہ روکی ہوئی ہے،فاضل عدالت کارروائی کرے، فاضل عدالت نے دس روز میں تنخواہ ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ : تفتیش کے نظام کو بہتر بنا کر ہر مقدمہ میں میرٹ کو یقینی بنایا جائے گا . ایس پی انویسٹی گیشن اوکاڑہ ڈاکٹر فرخ رضا ملک

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker