پاکستانتازہ ترین

پتنگ بازی پرپابندی برقرار،پتنگ بازوں کا چیف جسٹس سے نوٹس لینے کا مطالبہ

kiteلاہور(نمائندہ خصوصی)پنجاب میں اعلیٰ حکام کی طرف سے فروری میں پتنگ اڑانے کے تہوار بسنت پر پابندی برقرار رکھنے پر پاکستان میں پتنگ بنانے والوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے اپیل کی ہے کہ شہری علاقوں کے باہر کائٹ سٹی بنایا جائے تاکہ صدیوں پرانی روایت کو محفوظ کیا جاسکے،آل پاکستان کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کے چےئرمین خواجہ ندیم وائیں نے کہا کہ صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ایک لاکھ50ہزار اور گوجرانوالہ اور قصور کے اضلاع کے ایک لاکھ80ہزار افراد پتنگ بازی کی صنعت سے وابستہ ہیں جو اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور کوئی دوسرا ذریعہ معاش نہ ہونے کے بعد شدید مشکلات کا شکار ہیں،سات سال قبل متعدد افراد بشمول بچوں کے دھاتی تاروں سے گلے کٹنے کے باعث جان سے ہاتھ دھونے کے بعد بسنت پر پابندی لگا دی گئی تھی،خواجہ ندیم نے کہا کہ چیف جسٹس افتخار چوہدری نے عوام کے مفاد میں پہلے بہت سے تاریخی فیصلے کئے ہیں،اب کائٹ فلائنگ صنعت ان سے بھرپور امید رکھتی ہے،انہوں نے کہا کہ ہم نے پنجاب حکومت کو شہری حدود کے باہر کائٹ سٹی بنانے کی تجاویز دی ہیں،مگر بیوروکریسی نے ابھی تک جواب دینے کی زحمت گوارہ نہیں کی،انہوں نے کہا کہ ہزاروں خواتین گھر پر پتنگ بنا کر گزر بسر کرتی ہیں،مگر وہ اب بیکار بیٹھی ہیں کیونکہ بسنت پر مکمل پابندی ہے،انہوں نے کہا کہ پتنگ بازی نے کاٹیج انڈسٹری کا درجہ حاصل کیا اور ہزاروں افراد خصوصاً خواتین کو روزگار فراہم کیا،انہوں نے کہا کہ ماضی میں کئی خوفناک حادثات رونما ہوئے لیکن اقدامات اٹھا کر ان پر قابو پایا جاسکتا ہے،انہوں نے کہا کہ پابندی مسئلہ کا حل نہیں،حکام کے مطابق حکومت نے پولیس کی طرف سے تہوار کے دوران عوام کی زندگیوں کے تحفظ کی گارنٹی نہ دینے پر اس سال بھی بسنت پر پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  14 اگست اور میں

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker