بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

لینڈ مافیا اور وزیر اعظم کی انسان دوستی کا تقاضہ

دنیا میں ہر ملک کے شہری کو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق بنیادی انسانی حقوق جس میں مال و جان کا یقینی تحفظ حکومت کی ذمہ داری قرار دی گی ہے اور تمام ممالک کے آئین و قانون کی روشنی میں ہر شہری کو اس کے بنیادی حقوق کا ذمہ حکومت پر ہے۔قانون کی بھی یہ تشریح ہے کہ قانون عوامی مفادات اور بنیادی حقوق کے عین مطابق ہو بالخصوص پاکستان میں اسلامی قوانین کے اطلاق سے شہریوں کو ذیادہ تحفظ حاصل ہے۔لیکن اس کے باوجود قانون پر عمل درآمد میں انتظامیہ کی روش تسلی بخش نہیں ،عام آدمی کے مسائل پر غور کیا جائے تو حیرت ہوتی ہے کہ یہ عوام کی ہمت ہے کہ وہ طویل ترین قانونی مشگافیوں اور خود ساختہ قواعد و ضوابط سے نبر آزما ہوکر استحصالی سماج میں زندہ ہیں ۔بد قسمتی یہ ہے کہ قانون بنانے والوں نے عام انسانوں کی مشکلات سے آگاہی کے باوجود ایسا زگ زیگ نظام ترتیب دے رکھا ہے جس کے سبب ایک مخصوص مافیا بنیادی انسانی حقوق کو ہائی جیک کرتا آ رہا ہے ۔ ہمارے ملک میں مختلف سطحوں پر مختلف مافیا سرگرم ہیں ۔سیاست کو لیجئے اس میں بھی وارداتی،مفاداتی اور حادثاتی گروہوں نے عوام کا استحصال کرنا اپنا اوڑھنا بچھونا بنا رکھا ہے ان کی سطحی سیاسی سوچ سے ہمارے بیوروکریٹس نے بھی اپنی سمت کا تعین ایسے کر رکھا ہے کہ ان کی حکمرانی تو نظر آتی ہے مگر جمہوریت کے دعویٰ دار وں کو محض ٹشو پیپیرز بنا کررکھ دیا جاتا ہے ایسے ایسے قواعد و ضوابط مسلط کیئے جاتے ہیں جس سے رشوت،سفارش اور طاقت جنم لے رہی ہے۔معذرت کے ساتھ انصاف کے حصول کے لئے بھی بھاری بھر کم وکلاء کی فیسوں کی ادائیگی کے بغیر داد رسی ممکن نہیں ۔اس قدر بگڑے تگڑے نظام کو درست کرنے کے لئے سیاسی شعور ، فکر اور علمیت کا ہونا ناگزیر ہے جس کا ملاح ملنا معجزہ سے کم نہ ہو گا۔اب ذرا انسان دشمن قانون کی گرفت پر کچھ ذکر کرتے ہیں ۔
گذشتہ دنوں آذادکشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سے اطلاعات کے مطابق 65سال سے گوجرہ خیمہ بستی کے 250خاندانوں کو ان کی رہائشی اراضی سے بے دخلی کا نوٹس دیا گیا ۔حیران کن امر یہ ہے کہ لینڈ مافیا اس قدر طاقتور ہوتا جا رہا ہے کہ اس کے سامنے قانون بھی بے بس نظر آتا ہے ۔اتنے خاندانوں کو بے دخل کرنا کہاں کا قانون ہے ،کیا یہ اس ریاست کے شہری نہیں ،کیا انہیں 65برسوں کے بعد بے گھر کرنے والے محبِ وطن ہیں ؟یہ واقعہ بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی کسی دیہات یا دور دراز علاقے کی نہیں بلکہ آذاد ریاست جموں وکشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد اور وزیر اعظم ہاؤس سے تین کلو میٹر کے فاصلے جبکہ وزیر خزانہ کی رہائش گاہ کے قریب 65سالوں سے بسنے والے شہریوں سے روا رکھی جا رہی ہے۔اب اس انسان دشمنی کا کون ذمہ دار قرار پائے گا ؟ صاف ظاہر ہے کہ اس سارے عمل میں ملوث اس کے ذمہ دار ہیں جو کسی سہارے انسانوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں ۔ان ناسوروں کی گرفت اس لئے مشکل ہے کہ وہ باقاعدہ ایک مافیاسے تعلق رکھتے ہیں ۔جن کی زندگی کا کل خلاصہ یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنی آخرت کے لئے انگارے جمع کرکے ذلت سے جہان فانی چھوڑ جاتے ہیں ۔صد افسوس تو یہ ہے کہ کئی عبرت ناک انجام دیکھنے کے باوجود بھی کچھ اس نظام کی باقیات بنتے جا رہے ہیں ۔یہ معمولی بات نہیں کہ 250خاندانوں کی زندگیوں سے کھیلا جائے اور ہمارے ارباب اختیار بد مست سوئے رہیں۔اسی نوعیت کی ایک اور اطلاع ہے کہ ضلع ہٹیاں بالا کے علاقہ لیپا کرناہ کے گاؤن موجی کا شہری شبیر انجم جو مہاجر خاندان سے تعلق رکھتا ہے اسے حکومت نے خسرہ نمبر 866میں رہائش کی اجازت دی مگر زلزلے کے بعد اس کے کاشتکار نے محکمہ مال سے ملی بھگت کر کے مذکورہ اراضی اپنے نام کر دی جس پر متاثرہ شہری نے وزیر اعظم ،چیف سکرٹری،آئی جی پی ،ڈپٹی کمشنر ہٹیاں بالا اور دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل بھی کی ہے کہ اسے اس کی اراضی واپس دلائی جائے ۔کس کس کا رونا رویا جائے جہاں آوے کا آوہ ہی بگڑا ہو وہاں کون حق پرستی کا ساتھ دے سکتا ہے۔بہر کیف نیک ،خدا ترس اور انسان دوست اب بھی ہمارے معاشرے میں موجود ہیں ۔اگر اصل حقائق سامنے رکھے جائیں تو انصاف کی توقع ممکن ہے۔
وزیر اعظم چوہدری عبد المجید کہنہ مشق اور انسان دوست انسان ہیں ان کی سیاسی زندگی عوامی حقوق کی بحالی اورترقی پسندانہ نظریات کی حامل ہے ۔انہوں نے گذشتہ ماہ سینکڑوں خاندانوں کو مالکانہ حقوق دے کر انہیں محکمہ مال کی رسہ کشی سے نجات دلائی ہے ان کا یہ اقدام ان کی زندگی کو روز روشن کرنے کا وسیلہ بنے گا ۔ہزاروں ایسے شہری اب بھی 65برسوں سے خالصہ سرکار اراضی پر رہائش پذیر ہیں ۔ماضی کی حکومتوں نے کئی بار یہ اعلان بھی کئے تھے کہ جو مہاجر خالصہ سرکار پر رہائش پذیر ہیں انہیں مالکانہ حقوق دیئے جائینگے مگر نہ جانے کون سی قوتیں ان اعلانات پر عمل درآمد کرنے میں رکاوٹ بنتی آئی ہیں ۔اب زیر تذکرہ خاندانوں کی مستقل بحالی سمیت ایسی قانون سازی کی ضرورت درپیش ہے جس سے ایسے تمام شہری جو خالصہ سرکار رقبہ پر 65سالوں سے قابض ہیں اور جن کی تیسری اور چوتھی نسل وہیں آباد چلی آرہی ہے انہیں حقوق دینے کا مستحق قرار دیا جائے تاکہ ان کی نسلیں اطمینان سے زندگی گذار سکیں۔اس ضمن میں اپوزیشن لیڈر راجہ فاروق حیدر خان سے بھی توقع کی جاتی ہے کہ وہ حق گوئی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں باقاعدہ مہاجرین کو مالکانہ حقوق دئیے جانے کے سلسلہ میں تحریک پیش کریں ۔اس سے مہاجرین میں پائی جانے والی بے یقینی اور مایوسی کا ازالہ ہو گا اور جمہوریت کے مثبت ثمرات سے جمہوری اداروں پر عوام کا اعتماد بڑھے گا۔اس حوالے سے ایک خطرناک پہلو کی جانب توجہ دلانا چاہوں گا کہ اگر ایسی صورت حال جاری رہتی ہے اور لینڈ مافیا انتظامیہ پر ہاوی ہو کر ایسے شہریوں کو انکی املاک سے بے دخل کر دیا جاتا ہے تو اس سے کشمیر کے اس پار منفی اثرات مرتب ہونے سے قومی سلامتی متاثر ہو سکتی ہے کیونکہ ایسا سنا گیا ہے کہ ایسا سلوک ہونے پر متاثرین ایمنسٹی انٹرنیشنل اور اقوام متحدہ سے رجوع کرنگے تو اس سے جو جگ ہنسائی ہو گی اس کا اندازہ کرنا قبل ازیں مشکل ہے اور اس کے بعد اس کی لپیٹ میں ملوث افراد اور محکمہ جاتی مافیا کا کیا انجام ہو گا یہ بعد کی بات ہے ۔بہر حال ضروری امر یہ ہے کہ ہمیں خدا خوفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس معاملہ کو عقل و دانش اور اختیار و اقتدار سے حل کرنا پڑے گا ان 250خاندانوں کو خصوصی بنیاد پر مالکانہ حقوق دیکر وزیر اعظم تاریخ میں زندہ جاوید رہیں گے اور اس سے ہزاروں غریب الوطن شہریوں کی دعائیں ان کے حق میں تا حیات رہیں گیءں

یہ بھی پڑھیں  صدرزرداری نے پیپلز پارٹی کے قانونی اورآئینی ماہرین کا اجلاس آج طلب

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker