پاکستانتازہ ترین

لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کر نے کے لیے صوبوں کو تین ماہ کاوقت

اسلام آباد(بیورو رپورٹ)سپریم کورٹ نے ملک بھر کا لینڈ ریکارڈکمپیوٹرائزڈ کر نے کے لیے صوبوں کو تین ماہ کا وقت دے دیا ،مقررہ مدت میں کام مکمل نہ ہوا تو ذمہ دار چیف سیکرٹریز ہوں گے۔چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سر براہی میں تین رکنی بینچ کو ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ پنجاب کی کل 208 تحصیل میں 141 لینڈ کمپیوائزڈ سینٹرز بنائے جائیں گے جن میں سے بارہ سینٹرز نے کام شروع کر دیا ہے۔ممبر ریونیو بورڈ سندھ نے عدالت کو بتایا کہ 27 سینٹرز آئندہ تین ماہ میں شروع کر دیں گے۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخواہ نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی حکومت نے لینڈ ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کے لیے 11ملین سے زاہدکا پی سی ون تیار کر لیا ہے۔چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس میں کہاکہ لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ نہ ہونے سے عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ اس بنا پر ریونیو ڈیپارٹمنٹ میں بد عنوانی اور بے ضابطگیاں بھی بہت ہوتی ہیں۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس میں کہا کہ سندھ اور پنجاب میں 70 فیصد ایف آئی آر ،زمین کے مقدمات سے متعلق ہے اگر ملک بھر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہوجائے تو بہت سے مسائل حل ہوجائے۔مقدمہ کی مزید سماعت تین ماہ کے لیے ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر تمام صوبوں سے لینڈ ریکارڈکمپیوٹرائزڈ کر نے کے حوالے سے جامع رپورٹ طلب کر لی۔

یہ بھی پڑھیں  اسپیکررولنگ کیس،توہین عدالت کی سزا کا نااہلی سے براہ راست تعلق بنتاہے،چیف جسٹس

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker