بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

لانگ مارچ۔۔۔۔چڑھدے سورج ڈھلدے ویکھے

bashir ahmad mirیقیناً(یہ کالم ایک دن پہلے لکھ رہا ہوں )آج ڈاکٹر طاہر القادری کا تاریخی لانگ مارچ شروع ہو گا،انہیں لانگ مارچ کے خطرات اور مضمرات سے حکومتی زعماء بار بارمتوجہ بھی کرتے رہے،باالخصوص وزیر داخلہ رحمن ملک نے واضح کہا تھا کہ دہشت گردی کے واضح اشارے مل رہے ہیں لہذا لانگ مارچ ملتوی کر دیا جائے مگر ڈاکٹر صاحب ہر صورت میدان عمل میں نکلنے کا عزم رکھتے ہیں۔ بلھے شاہ نے ہمارے ایمان اور زندگی بارے بہت کچھ اپنے کلام میں کہا ،ان کی شاعری کمال کے راز اورحقائق کو آشکار کرتی ہے ،اسی موقع کی مناسبت سے بلھے شاہ کے کلام کا ایک حصہ پیش ہے۔
چڑھدے سورج ڈھلدے ویکھے۔۔۔ بجھ دے دیوے بلدے ویکھے
ہیرے دا کوئی مل نہ تارے ۔۔۔۔۔۔ ۔۔کھوٹے سکے چلدے ویکھے
جناں دا جگ تے کوئی نی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اووی پُتر پلدے ویکھے
اوہدی رحمت نال بندے۔۔۔۔۔۔؛۔۔۔ پانی اُتے چلدے ویکھے
لوکی کہندے دال نی گلدی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں تے پتھر گلدے ویکھے
جنھاں قدر نہ کیتی یار دی بلھیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہتھ خالی او ملدے ویکھے
ڈاکٹر طاہر القادری علمی اعتبار سے بلاشبہ ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں ،ان کی خدمات بے شمار ہیں ،اسلام کے حوالے سے جو شکوک و شہبات مغربی دنیا میں پائے جاتے ہیں انہوں نے بڑے موثر انداز سے اسلامی معاشرت کے اوصاف پر مدلل تقاریر و مباحثے کر کے دنیا بھر میں شیطانی سازشوں کو بے نقاب کیا بلکہ یہاں تک کہ دہشتگردی کے حوالے سے دلائل کے ساتھ ایک کتاب بھی لکھی جس کی بنیاد پر مغربی دنیا کی مسلمانوں بارے غلط تصورات کا ازالہ ہوا۔ڈاکٹر صاحب کی علمی و فلاحی کاوشوں سے انکار ممکن نہیں ،اگرچہ ان کے جہاں لاکھوں مریدین ،عقیدت مند اور پرستار ہیں وہیں ان کی مخالفت میں بھی کمی نہیں ۔
23دسمبر 2012ء ان کی جب کینیڈا سے 5برسوں بعد واپسی ،استقبال اور ان کا سیاست میں باقاعدہ نزول ہوا تو ملکی سیاست میں ہلچل مچ گئی۔ان کا پہلا مینار پاکستان میں خطاب اور بعد ازاں میڈیاکے ذریعے ان کی سرگرمیاں سیاست میں بھونچال سے کم نہیں دکھائی دیں،23دسمبر سے اب تک ان کی شب و روز اپنے مقاصد کی جانب بھر پور توجہ ،ملک کے انتہائی خطرناک حالات میں لانگ مارچ کا فیصلہ انتہائی اقدام قرار دیا جا سکتا ہے ۔وفاقی اور صوبہ پنجاب کی حکومت کے تیز تر ’’تیر اندازی ‘‘ کے باوجود ان کی مہم عزم و ہمت کو کمزور نہ کر سکی۔یہ تو ڈاکٹر طاہر القادری کی سحر انگیز شخصیت کا اثر ہے کہ کہ پوری حکومت جام ہو کر رہ گی ۔ایم کیو ایم کے چھوڑ جانے کے باوجود انہوں نے جس ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب اپنے مشن کی تکمیل میں ہر رکاوٹ اور حوصلہ شکن حالات سے نبر آزماء ہونے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں۔یہاں تک تو ڈاکٹر طاہر القادر ی کی صلاحیت و کارکردگی بے مثل ہے مگر اب ہم معروضی حالات کا جائیزہ لگاتے ہیں کہ لانگ مارچ کی اس مشق سے عوام اور ڈاکٹر صاحب کو کیا ثمرات ملیں گے۔
ملک اس وقت شدید دہشتگردی کے نرغے میں ہے،معاشی طور پر روز بروز بحرانی کیفیت بڑھتی جا رہی ہے،بے روزگاری نے گھروں کو اجاڑ دیا ہے،مہنگائی عوام کو سانس نہیں لینے دے رہی ہے،چوریاں ،ڈکیتیاں ،اغواء ،قتل کی وارداتوں میں اضافہ خطرناک حدوں کو چھو رہا ہے،افرادی قوت انتہائی کمزور سطح پر پہنچ چکی ہے ،ملکی اداروں کی کارکردگی انتہائی مایوس کن اور عوام کے لئے وبال جان بن رہی ہے ،الغرض جہاں کہیں نظر دوڑائیں ہمارے ملک کو چاٹنے ،چبانے اور چرانے کی ریل پیل ہے۔ان مخدوش حالات میں واقعی کسی مسیحا کی ضرورت جو ابھی تک کسی طرف سے نمودار نہ ہونا بھی قحط الرجال کی مانند ہے۔جہاں تک ڈاکٹر طاہر القادری کی تحریک کا تعلق ہے تو اس سے بھی کوئی امید افزاء نتیجہ نکلتا ہوا نظر نہیں آ رہا ۔کیونکہ اب تک جو ان کی سرگرمی جاری ہے اس کے پس منظر میں بہت خامیاں موجود ہیں ،کسی تبدیلی کے لئے ضروری ہے کہ آپ کے پاس با صلاحیت ،قابل اور خیر خواہ افرادی قوت کا ہونا بنیادی اکائی ہوتا ہے جو ڈاکٹر صاحب کے پاس اس تناسب سے موجود نہیں ،دنیا کی تحاریک پر نظر ڈالی جائے تو ان تحریکوں میں ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے ماہرین کی جمعیت نے تبدیلی لاتے ہی پورے نظام کو یکدم درست سمت کی جانب آگے بڑھایا جس کے نتیجے میں وہ ممالک ناقابل تسخیر ہوئے۔
ڈاکٹر طاہر القادری نے بلاشبہ حالات کا ادراک رکھتے ہوئے تاریخی قدم اٹھایا مگر انہوں نے جلد بازی سے کام لے کر اپنی تحریک کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔جیسے انہوں نے آتے ہی انتہائی قدم اٹھایا ہے یہ انارکی جیسی صورت حال کی جانب بڑھتا ہوا نظر آتا ہے اور اس کا انجام کیا ہو گا یہ ڈاکٹر صاحب کو جلد علم ہوجائے گا۔ایسی سطحی تحریکیں ماضی میں بھی چلتی رہیں جن کے نتیجے میں طویل مارشل لاء نے ملک کو ناقابل تلافی نقصانات سے دوچار کیا۔مثلاً 1977ء میں نظام مصطفےٰ کے نام سے بہت بڑی تحریک چلی جس میں قریباً تمام مذہبی اور کئی سیاسی جماعتوں نے عوام کو بتایا کہ ’’بھٹو کافر ہے اور اس کی حکمرانی کے خلاف جہاد جائیز ہے،تحریک کا توجہ طلب نعرہ یہ تھا کہ ہم بر سر اقتدار آکر ہر محنت کش کی ماہانہ تنخواہ ایک تولہ سونا اور اشیاء خورد و نوش کے نرخ 1970ء کے لائیں گے‘‘ یہ تحریک عوام میں بڑی تیزی سے سرایت کر گئی اور بلا آخر منتخب جمہوری حکومت کو طاقت سے بے دخل ہی نہیں کیا بلکہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو عدالتی قتل کا شکار کردیا گیا ،اس طرح وہ تحریک چلانے والے بھی ایسے پردہ نشیں ہو گے جیسے وہ کہیں پہلے نظر نہیں آئے تھے ۔ماضی قریب میں میاں نواز شریف اور بے نظیر کی حکومتوں کے خلاف لانگ مارچ ،ملین مارچ اور دھرنے جیسے اقدام سے مارشل لاء کی راہ ہموار کی جاتی رہی ۔اس پس منظر میں ڈاکٹر طاہر القادری کا لانگ مارچ بھی ماضی جیسی ریہرسل ہے جسے اتفاقًا وہ اس طرح کی حمایت تو حاصل نہیں کر سکے مگر انفرادی طور پر ان کی لانگ مارچ کا اعلان ماضی سے مختلف مماثلت نہیں رکھتا ،اب آج کیا ہوگا۔۔؟ ضرور بہت بڑی تعداد میں لوگ نکلیں گے ،بلا شبہ ڈاکٹر طاہر القادری کی تنظیم کافی حد تک منظم اور نیک سیرت کارکنوں پر مشتمل ہے مگر خطرہ ہے کہ بڑے ہجوم کو کنٹرول کرنا بڑا مشکل ہو تا ہے جس سے ان کے ساتھ جرائم پیشہ اور وارداتی بھی موقع شناسی سے اس تاک میں رہیں گے کہ کہیں ہلہ گلہ ہو اور وہ ملک کے قیمتی املاک کو نشانہ بنائیں ،بنیک لوٹے جائیں ،بسیں جلائی جائیں گئیں ،پولیس پر پتھراؤ کیا جائے گا ،ہر طرف قانون شکن راج ہو ،ممکن اور متوقع خدشات کی روشنی میں اللہ نہ کرئے خود کش حملہ ہو جاتا ہے تو پھر قادری صاحب سینکڑوں لاشوں کا گناہ بھی ساتھ لیکر جائیں گے۔پھر کیا ہو گا۔۔؟ ملک میں خوراک کی قلت پیدا ہو جائے گی اور انسان انسان کو کھانے آئے گا ،کیا یہی تبدیلی ہمارا مقدر ہے ؟؟ ڈاکٹر طاہر القادری کی نیت درست سہی مگر جو انارکی پیدا ہونے کے خدشات ہیں اس کا مداوہ کون کرئے گا ۔جہاں تک ان کے چارٹر آف ڈیمانڈ کا تعلق ہے تو اس سے بھی کوئی انقلاب برپا نہیں ہو سکتا،ہاں اگر اس لانگ مارچ کے پس پردہ کوئی اور عزائم ہیں تو وہ یقیناً پورے ہو سکتے ہیں کیونکہ جمہوریت دشمن ملک کو کمزور کرنے کے درپے اور کسی ایسے موقعہ کی تلاش میں ہیں بہرحال ڈاکٹر صاحب آج اپنی قوت کا مظاہرہ کر لیں مگر عوام کو کیا ملے گا اس کا دور دور تک کہیں اشارہ نہیں ملتا ،ملک اس وقت کسی سیاسی غنڈہ گردی ،نو سر بازی اور مکاری کا متحمل نہیں خدا راہ 20کروڑ بے بس ،بے کس اور بے زبان انسانوں پر رحم کھائیں اور ڈراموں ،فلموں یا اداکاریوں سے لوگوں کو نہ بہکایا جائے ،کالم شائع ہونے تک نہ جانے لانگ مارچ ملتوی یا کسی ٹوپی ڈرامے کی نذر ہو جاتا دکھائی دے رہا ہے بہر کیف دیکھتے جائیے آگے کیا ہوتا ہے۔۔۔؟؟

یہ بھی پڑھیں  بھائی پھیرو اور گردونواح میں جشن عید میلادالنبی مذہبی جوش و جذبہ سے منایا گیا

note

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1. بہت اچھا لکھا ہے آپ نے ہماری بھی دعا ہے کہ ا مارچ کا عوام کو فائدہ ہو ۔۔۔۔ جمہوریت کے دشمنوں کو نہ ہو۔۔۔۔۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker