ایکسکیوزمیتازہ ترینکالم

لسی پی کے سوجاؤ

پاکستان اسٹیج ڈراموں کے نامور اداکارسہیل احمد (عزیزی)کا شمار مُلک کے بہترین کامیڈین ایکٹرز میں ہوتا ہے ۔معین اختر(مرحوم)اور عمرشریف کے بعد اب سہیل احمد ہی ایک ایسے فنکار ہیں جنھوں نے اِصلاحی کامیڈی کو زندہ رکھا ہواہے، طنزومزاح کے ذریعے،غفلت کی نیند میں خراٹے مارتی سوتی ہوئی قوم کو بیدارکرنے کی ایک اچھی کاؤش ہے۔چند روز قبل سہیل احمد کا ایک اسٹیج ڈرامہ دیکھنے کا اتفاق ہواجس میں وہ تین بیٹوں کے باپ کا کردار نبھارہا ہوتاہے اورگاؤں کا ایک پُرانا دوست اُس سے ملنے آتاہے دونوں ایک دوسرے سے ملکر بہت خوش ہوتے ہیں سہیل احمد کا دوست اُس سے اُسکے تینوں بیٹوں کے بارے میں پوچھتا ہے جن میں سے دو Disableاور ایک نہائیت ہی نِکما ہوتا تھا تب سہیل احمد بتاتا ہے کہ اُسکا بڑا بیٹا جو اندھا تھا اب وہ پاکستان ہلال کمیٹی کا ممبر ہے وہی چاند دیکھ کر بتاتاہے عید ہوگی یا نہیں ہوگیااور دوسرا بیٹا جو لنگڑا تھا وہ پاکستان کرکٹ ٹیم میں فاسٹ باولر ہے تیسرا اور سب سے چھوٹا بیٹا جسے چوری کرنے کی عادت تھی اب وہ تھانیدار بن چُکاہے تب سہیل احمد کا دوست اُس سے متاثر ہوتے ہوئے کہتاہے ، واہ کیا بات ہے میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگرتیرے ان تینوں بیٹوں جیسا ایک اور بیٹا ہوتا تو وہ یقیناًآج پاکستان کا بہت بڑا سیاستدان ہوتا معزز قارئین یہ باتیںِ یقیناًنا قابلِ یقین ہیں صرف لوگوں کے مایوس چہروں پر مسکراہٹیں بیکھرنے کے لیئے ایسی مزاحیہ کہانیاں تحریر کی جاتی ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ فلموں یا پھر ڈراموں کی کہانیاں معاشرے کی عکاسی کرتی ہیں، مصنف ہمیشہ وہی لکھتے ہیں جو اُنھیں معاشرے میں نظر آرہا ہوتا ہے ،لیکن ہر کسے کے لکھنے کا اپنا اپنا الگ ڈھنک ہوتا ہے اس لیئے سہیل احمد کا یہ ڈرامہ بھی بے معنی نہیں ہے اُس نے طنز ومزاح میں معاشرے کی اُن چند بُرائیوں کوہمارے سامنے پیش کیا ہے جو اس وقت ہمارے پیارے پاکستان کے لیئے ناسور بن چکی ہیں مثال کے طور پر اگر کسی اندھے کا ہلال کمیٹی کا ممبر ہونا ناممکن نہیں ہے تو پھر پا کستان میں دو عیدیں کروانے والے کیا ہوئے ؟اگر وہ آنکھوں سے نہیں تو پھر عقل کے اندھے ضرور ہیں جس مُلک میں ایک خُداایک رسولﷺ اور ایک قرآن کو ماننے والی قوم ایک ہی مُلک میں ایک ہی ساتھ ایک عید منانے پر متفق نہیں ہوسکتی تو ایسی قوم سے قومی مفاد کے لیئے یکجا ہونے کی اُمید کیسے کی جاسکتی ہے یہ ایک لمحہ فکرہے اور ہماری اسی نااتفاقی کا فائدہ ہمارے دشمن اٹھا بھی رہے ہیں پاکستان کے علاوہ او ر دوسرے بھی تو اسلامی ممالک ہیں جیسے کہ سعودی عرب، بحرین ، قطر ، کویت اور متحدہ عرب امارات وغیر،ان ممالک آج تک ایک عید کو دو الگ الگ دنوں میں نہیں پڑھا گیا پھر پاکستان میں ہی ہر بار ایسا کیوں ہو رہا ؟ ہمیشہ وقت سے پہلے یا پھر وقت کے بعد جن فریبی مُلاؤں کا چاند نطر آتا ہے اصل میں وہ آنکھوں والے اندھے ہیں اور ساتھ میں اندھا کیا ہوا معصوم عوام کو بھی۔ اب بات تھوڑی کرکٹ کی کوئی بھی معذور شخص پاکستان کرکٹ ٹیم کی نمائندگی نہیں کرسکتا اور صرف کرکٹ ہی نہیں بلکہ کسی بھی کھیل جیسے کہ ہاکی ،فٹ بال ، وغیرہ کیونکہ کے یہ کھیل کھیلنے کے لیئے کسی بھی شخص کا ہر طرح سے مکمل طور پر فٹ ہونا بہت ضروری ہوتا ہے لیکن جن کھلاڑیوں کی سلیکشن میرٹ پر نہیں ہوتی ہے (یعنی سفارشی کھلاڑی) یا پھر عامر ، آصف اور سلمان بٹ جیسے وہ کھلاڑی جنکی وجہ سے سپورٹس کے ساتھ ساتھ ملک کی بھی رُسوا ئی ہوتی ہو ان جیسے کھلاڑیوں کا کسی بھی ٹیم میں ہونا ایسے ہی ہے جیسے کسی لنگڑے ، لولہے کھلاڑی کا ٹیم کا حصہ ہونا ہے پاکستا ن میں کرکٹ کے زوال کو دیکھتے ہوئے میرا پاکستان کرکٹ بورڈ کے لئے ایک مشورہ ہے کہ وہ کوئی ایسی مشین کی تخلیق کریں جسکے ذریعے فٹنس کے ساتھ ساتھ کھلاڑیوں کا جذبہ حُب الوطنی اور ایمانداری بھی چیک کی جاسکے تاکہ صرف ایسے کھلاڑیوں کی سیلکشین ہو سکے جو پرفارمنس کے ساتھ جذبہ حب الوطنی بھی رکھتے ہوں ہمیںیقین ہے کہ پاکستان کی کوئی بھی ٹیم اگرایمان داری اور حُب الوطنی کے جذبے سے کھیلے تو وہ دنیا کے کسی بھی میدان میں ہار نہیں سکتی ۔اب آخر میں بات ہماری پاکستان پولیس کی میرا ایک نہائیت ہی قریبی جاننے والا اتقاقاً پولیس میں تھانیدار بھرتی ہو گیا اُسکی تقریباً 16 یا 18سال کی عمر کا ایک واقع ہے جو بالکل حقیت ہے کو ئی فرضی کہانی نہیں آپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں ہم ایک ہی محلے میں رہتے تھے اور اُسی محلے میں ہمارے ایک اور دوست کی کریانہ کی دُکان ہوا کرتی تھی ہم اکثر رات کے کھانے کے بعد سب دوست اُس دُکان پر گپ شپ مارنے کے لیئے اکٹھے ہوا کرتے تھے ایک رات ہمار ے اس بھائی صاحب نے اُسی دُکان سے ایک انڈہ چُرا کر اپنی قمیض کی سامنے والی جیب میں رکھ لیااور سخت سردیوں کا موسم تھا سویٹر اور کمبل اُس نے اوڑھا ہوتھا اس لیئے اُسکی اس حرکت کا کسی کو پتہ نہ چل سکاپھر ہوا یہ کے مذاق مستی کرتے ہوئے وہ دُکان کے کاؤنٹر سے جا ٹکرایا اور قمیض کی سامنے والی جیب میں رکھا ہو انڈہ ٹوٹ گیا اور اُس کی چوری کا بھا نڈا بھی پھوٹ گیا سبھی دوستوں کو اُسکی اس cheapحرکت کا پتہ چل گیا جسکی اُسے خود بھی بڑی شرمند گی اُٹھانا پڑی یہ ایک معمولی سی بات ضرور ہے لیکن ا یسی حر کتو ں سے ہی انسان کی فطرت کا پتہ چلتا ہے۔
آجکل وہ انڈہ چور پاکستان کے کسی تھانے میں تھانیدار ہے اور اس حقیقت کو بھی جھٹلا یا نہیں جاسکتا کہ Nature can’t be change اب ایسے تھانیدار سے کیسی توقع کی جاسکتی ہے وہ شاید بتانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ آئے دن ایسے تھانیداروں کی کارنامے ہمارے سامنے آتے رہتے ہیں اگر ہم اپنے اردگر کے ماحول پر نظر ڈالیں تو ہمیں ہر گلی اور ہر موڑ پر جرم ہوتے نظرآئیں گے کہیں کوئی دودھ میں پانی مِلا رہا ہے توکوئی ماپ تول میں بے ایمانی کر رہا ہے کوئی سکول جاتی لڑکیوں کو چھیڑ رہا ہے توکوئی شیطان صفت انسان حوا کی بیٹی کی عزت کو تار تار کر رہا ہے یہ سب کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہورہا ہوتا ہے، لیکن ہم اَن د یکھی کر کے گُزر جاتے ہیں ہم جانتے ہیں کہ رشوت لینے والا اور دینا والا دونوں جہنمی ہیں اسکے باوجود ہم خود رشوت دیتے ہیں لیکن جہنمی سمجھتے ہیں صر ف لینے والے کو ،ہم جانتے ہیں کہ ظُلم کرنا اگر گُناہ ہے تو ظُلم سہنا اُس سے بھی بڑا گُناہ ہے لیکن ہم ظالم کے آگئے تو جھک جاتے ہیں اورکمزور کے آگئے سینہ تان کے کھڑے ہوجاتے ہیںآخر کب تک ہم یہ جھوٹ اور فریب کی زندگی جیتے رہیں گئے اور اپنے آپ کو دھوکا دیتے رہیں گے ہمارے عظیم قائد محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ پاکستان ایک غیرت مند اور زندہ قوم ہیں لیکن اگرہم اپنے گریبانوں میں جھانک کر دیکھتے ہیں تو ہمیں سِوائے شرمندگی کے اور کچھ نظر نہیں آئیگا کیونکہ جو قومیں زندہ ہوتی ہیں اُن ممالک میں یہ سب کچھ نہیں ہوتا جو آج ہمارے پاکستان میں ہورہا ہے ایک عام آدمی سے لیکر ملک کا صدر تک ہر کوئی اپنے اپنے طریقے سے پاکستان کو نوچ نوچ کر کھا رہا ہے اگراسے روکا نہ گیا تو خدا نہ کرے کہ پاکستان کا وجود ہی ختم نہ ہو جائے ۔
میری تمام محب وطن پاکستانیوں سے یہ التجاء ہے کہ خُد ا کے لیئے بیدار ہو جاؤ غفلت کی نیند سے اور نکل آؤ سڑکوں پر ہاتھوں میں اُٹھائے سبز ہلالی پرچم آزاد کروانے پیارے پاکستان کو کرپشن ،بدامنی،لاقانونیت ،رشوت ،بھتہ خوری، چور بازاری،بدامنی، سیاسی لٹیروں،جاگیرداروں،کرپٹ افسروں،فریبی ملاؤں اور نااہل حکمرانوں سے اور اگر تماشائی بن کر صرف تماشہ ہی دیکھنا ہے تو پھر اپنے آپ کو ایک سچا محب وطن پاکستانی اور زندہ قوم کہلوانا چھوڑدو او ر کسی کونے میں لسی پی کے سو جاؤ۔

یہ بھی پڑھیں  حلوہ پکاؤ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker