پاکستانتازہ ترین

صدارتی الیکشن شیڈول جاری اور تبدیل کرنے کا آئینی حق الیکشن کمیشن کاہوتا ہے،لطیف کھوسہ

لاہور(نمائندہ خصوصیlatif khosa)پیپلزپارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل لطیف احمد خان کھوسہ نے کہا ہے کہ صدارتی الیکشن شیڈول جاری اور تبدیل کرنے کا آئینی حق صرف الیکشن کمیشن کا ہوتا ہے، بشمول سپریم کورٹ کسی دوسرے کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ صدارتی الیکشن شیڈول تبدیل کرے، صدارتی انتخابات کا شیڈول تبدیل کرنا ایک بہت بڑی دھاندلی ہے جس کے باعث پیپلزپارٹی نے انتخابات میں حصہ نہ لیا، اس لئے الیکشن کمشنر جسٹس (ر) فخرالدین ابراہیم اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے، کشکول توڑنے کا دعویٰ کرنے والوں نے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے قرضے کے لئے آئی ایم ایف سے استدعا کی ہے، ملک کے 17 بڑے اہم ادارے چیف ایگزیکٹو کے بغیر چل رہے ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ وز پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات راجہ عامر کی جانب سے ان کے اعزاز میں دی گئی افطار پارٹی کے موقعہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، اس موقعہ پر جہانگیر بدر ، نوید چوہدری، فائزہ ملک، شوکت بسرا، نوید انجم سمیت دیگر بھی موجود تھے، لطیف خان کھوسہ نے کہا کہ دہشت گردی ملک کا سب سے بڑا نا سور ہے، جس سے ملک کو پاک کرنے کی ضرورت ہے، موجودہ حکمران دہشت گردی سمیت دیگر ملک کو درپیش چیلنجوں کے حل کے لئے کوئی عملی اقدامات نہیں کررہے، انتخابات سے قبل انہوں نے قوم سے جو وعدے کیے تھے وہ سب دھرے کے دھرے رہ گئے لوڈشیڈنگ کا معاملہ ویسے کاویسا ہے، یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے 500 ارب سرکلر ڈیڈ کا ادا کیا ہے، یہ قوم کو بتائیں کہ وہ 500 ارب کہاں گیا، کس کے پاس ہے، یہ ادا کرنے کے باوجود عوام کو ریلیف کیوں نہیں مل رہا، دہشت گرد دن دیہاڑے جیلوں پر حملہ کر کے اپنے ساتھی چھوڑا کر لے جاتے ہیں، ملک کے 17 بڑے اہم ادارے چیف افسران کے بغیر چل رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ عدالت کی جانب سے عمران خان کو توہین عدالت کا نوٹس جاری ہونا غلط ہے، یہ بات سب سیاستدانوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے کیونکہ اس سے قبل یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کو نوٹس جاری کر کے گھر بھیج دیا گیا، تمام سیاسی قائدین کو سوچنا ہوگا، انہوں نے کہا کہ توہین عدالت کا قانون کالعدم ہونے کے باوجود نوٹس جاری ہونا سمجھ سے بالاتر ہے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم اداروں سے ٹکراؤ نہیں چاہتے، ہم جمہوریت کا تسلسل چاہتے ہیں، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 11مئی کے مقابلے میں صدارتی انتخابات میں بڑی دھاندلی کی گئی انہوں نے کہا کہ آئینی طور پر صدارتی الیکشن کا شیڈول جاری کرنے کا اختیار بشمول سپریم کورٹ صرف الیکشن کمیشن کے پاس ہے، سپریم کورٹ نے شیڈول جاری کر کے غلط کیا، جس پر چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) فخرالدین جی ابراہیم مستعفی ہو گئے تھے، اب دیگر ممبران کو بھی مستعفی ہو جانا چاہیے، اس لئے پیپلزپارٹی نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا، کیونکہ ایک بار الیکشن کمشن نے صدارتی الیکشن کا شیڈول جاری دیا تھا مگر اس کو دوبارہ جاری کیا گیا جو ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بڑی دھاندلی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  جیسی عوام ویسے حکمران(1)

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker