تازہ ترینصابرمغلکالم

لازوال دوستی کا سنہرادور۔طیب اردگان کی پاکستان آمد

مسلم دنیا کے اہم ترین رہنماء ترکی کے صدر طیب اردگاان آج دو روزہ سرکاری دورہ پر پاکستان پہنچ رہے ہیں نور خان ائیر بیس پر خود وزیر اعظم عمران خان ان کا پرتپاک استقبال کریں گے ترک صدر کے ہمراہ اعلیٰ سطعی وفد جن میں وزراء ترکی کی بڑی بڑی کمپنیوں کے سربراہان اور سرمایہ کار بھی شامل ہوں گے، دورہ پاکستان کی دعوت ترک صدر کو وززیر اعظم عمران خان نے گذشتہ سال دورہ ترکی کے موقع پر دیا تھا، ترک صدر طیب اردگان اس وقت عالمی سطع پر اہم ترین حیثیت اختیار کر چکے ہیں انہوں نے ہر اہم واقعہ پر مسلم امہ کی نہ صرف مکمل ترجمانی کی بلکہ عملی طور پر کام کئے،ترکی نے بھی ان کی قیادت میں بے پناہ ترقی کی منازل طے کی ہیں ترک شہریوں کی زندگی معاشی استقامت کی بدولت بہتر ہو گئی ترکی کو دہشت گردی بھی سامان ہے اس کے باوجود ان میں کچھ لرزش نہیں آئی اب تک دہشت گردی میں کم از کم 40ہزار سے زائد ترک شہری اور سیکویرٹی فورسز کے جوان شہید ہو چکے ہیں،ترک صدر کا یہ دورہ اکتوبر میں طے شدہ تھا مگر اس وقت دہشت گردی کی لہر اور شام کے شمال مشرقی علاقے میں کرد جنگجوؤں کے خلاف جاری فوجی آپریشن کی وجہ وہ دورہ منسوخ کرنا پڑا،اسی وجہ سے ترکی کے امریکہ کے ساتھ بھی تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی تھی چند اعلیٰ امریکی حکام نے ترکی کا دورہ بھی کیا تھا،11اکتوبر کو دفتر خارجہ نے ان کی آمد کا بتاتے ہوئے کہا تھا کہ ترکی کے صدر پاک ترک تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لئے 23اکتوبر کو پاکستان آئیں گے اور مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے پاکستانی مؤقف کی حمایت کریں گے تاہم 17ستمبر کو ترجمان دفتر خارجہ نے دورہ ملتوی ہونے کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ اب دورہ کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا، اب وہ گھڑی آن پہنچی ہے ترک صدر کا یہ دوسرا دورہ پاکستان ہے اس سے قبل وہ 16نومبر2016میں سابق صدر ممنون خان کی دعوت پر پاکستان آئے تھے،نور خان ائیر بیس پر اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف،وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہبا زشریف،بیگم کلثوم نواز،مریم نواز کے علاوہ متعدد اعلیٰ شخصیات نے ان کا پرتپاک استقبال کیا تھا،اس وقت ترک صدر کے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے پی ٹی آئی ارکان اسمبلی نے بائیکاٹ کیا تھا،اس دورہ میں صدر طیب اردگان ول و عسکری قیادت سے اہم ترین ملاقاتیں کریں گے،ان کے اعزاز میں وزیر اعظم ہاؤس اور ایوان صدر میں الگ الگ تقریبات کا اہتما م کیا گیا ہے،پاک ترک پاک دوستی دنیا کی انمول ترین دوستی کا شاہکار ہے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات،انتہائی گرمجوش اور مضبوط ہیں اور ترکی نے ہمیشہ پاکستان کی اخلاقی و سفارتی حمایت اور مدد کی مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھی ترکی نے ہمیشہ بھارتی بربریت کے خلاف آواز اٹھائی،مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم اور ترک میں دہشت گردی کی تازہ لہر پر وزیر اعظم عمران خان نے طیب اردگان سے تشویشناک صورتحال پر ٹیلی فونک بات کی تھی انہیں حالیہ پیش رفت سے آگاہ کیا کہ پاکستان دہشت گردی کے حوالے سے ترکی کے خدشات کو سمجھتا ہے ہم ترکی کو در پیش چیلنجز کا مکمل ادراک رکھتے ہیں پاکستان ہمیشہ ان کی طرح ہی ساتھ ہے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے بھارت کے غیر قانونی اقدام سے علاقائی امن اور سیکویرٹی کو سنگین خطرات لاحق ہو چکے ہیں جواب میں ترک صدر نے مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورتحال پرگہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی تھی کہ ترکی اس حساس معاملے پر اپنی حمایت ہر فورم پر جاری رکھے گا، پاکستانی حکومت اور عوام ان کے دورہ پر گرم جوش استقبال کے لئے منتظر ہیں اور اب وہ وقت آن پہنچا ہے،دونوں رہنامؤں کے درمیان یہ تیسری ملاقات ہو گی اس سے قبل جینیوا میں جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر پناہ گزینوں سے متعلق پہلے عالمی فورم کے موقع پرملاقات ہوئی ایک ملاقات عمران خان کے دورہ ترکی کے دوران ہوئی جو رواں سال کیاگیااس دورہ کے موقع پر عمران خان سب سے پہلے ترکی شہر قونیہ پہنچے جہاں ان کاگورنر قونیہ،نائب میئر،پاکستانی سفیر اور ترکی کے دیگر سینئر حکام نے ائیر پورٹ پر ان کا پرتپاک استقبال کیا تھاوزیر اعظم کے ساتھ سابق وزیر کزانہ اسد عمر،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی،وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار،مشیر تجارت عبدالرزاق داؤدسمیت اعلیٰ سطعی وفد شامل تھاعمران خان نے شہر قونیہ میں حضرت جلال الدین رومیؒ کے مزار پر بھی حاضری دی،مولانا رومی کا شمار دنیا کے عظیم صوفی بزرگوں میں ہوتا ہے،مولانا رومی شاعر مشرق حضرت ڈاکٹر علامہ اقبال کے روحانی پیشوا تھے ان کے مزار کے احاطہ میں علامہ اقبال ؒ میں علامتی قبر بھی بنائی گئی ہے،دوسرے روز انقرہ میں عمران کان نے ترک صدر کے ساتھ نماز جمعہ ادا کی تھی اس دورہ کے دوران مشترکہ اسٹریٹجک فریم ورک بنانے پر اتفاق،سرمایہ کاری،مختلف فورمز پر ایک دوسرے کی حمایت جاری رکھنے،متنازع کشمیر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابقحل کرنے پر زوردیا،دو طرفہ تعاون کے تمام شعبوں میں وسعت دینے پر اتفاق،تجارت اور سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹیں ختم کرنے،پاکستان اور ترکی کے قومی مفاد کے بنایدی ایشوز پر ایک دوسرے کی مضبوط حمایت،صحت،تعلیم،سیاحت،زراعت،وفود کے تبادلہ جات اور عوامی سطع پر رابطوں کو فروغ دینے پر اتفاق ہوا تھااور ان سب اتفاقات کئے جانے [پر تاحال کام بڑی سرعت سے جاری ہے،ترکی نے نیو کلئیر سپلائر ز گروپ میں پاکستان کی رکنیت میں حمایت جاری رکھی ہوئی ہے،صدر طیب اردگان نے مسئلہ کشمیر،قبرص اور مسئلہ فلسطین پر جو کچھ عملی اقدامت اور بیانات دئیے آج تک کسی اور مسلم لیڈر نے نہیں کئے،طیب اردگان اور مہاتیر محمد کا ہی پلان ہے کہ مغرب کے مقابلے میں اسلام فوبیا کے خلاف سرکاری ٹی وی چینل کا قیام عمل میں لایا جائے،طیب اردگان نے اس وقت کہا تھا کہ عمران خان پاکستان میں تبدیلی کے لئے طویل جدوجہد کے بعد اقتدار میں آئے ہیں،ترک صدر کے اس دورے کو عالمی سطع پر انتہائی باریک بینی سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے مسلم امہ کی بہتری و ترقی کے لئے مزید اقدامات کا تعین کیا جانا یقینی ہے،طیب اردگان کی قیادت میں ترکی نے بے پناہ ترقی کی منازل طے کی ہیں،ترکی کے سالانہ بجٹ میں سب سے زیادہ توجہ تعلیم پر دی جاتی ہے، ترکی محل وقع کے اعتبار سے یورپ اور ایشیاء کے درمیان اہم ترین مقام پر واقع ہونے کی وجہ سے مشرقی و مغربی ثقافتوں کے تاریخی چوراہے پر واقع ہے بحیرہ مرمریورپ اور ایشیاء کے درمیان ایک سمندر ہے،یلووز سلطان سلیم پل جو آبنائے باسودش پر گاڑیوں کی نقل و حمل کے لئے قائم ہے دنیا کا سب سے لمباپل ہے جس کی لمبائی 332میٹر(1056f) ہے،کروڑ سے زائد آبادی والے اس ملک کو انتظامی لحاظ سے 81صوبوں جن میں سے آبادی کے لحاظ سے دس بڑے صوبے ہیں رقبے کے لحاظ سے یہ دنیا کا 27واں بڑا ملک ہے،سیاحت کے حوالے سے یہ دنیا کے ٹاپ ٹین ممالک میں شامل ہے، ترکی اپنے دفاعی اخراجات کے لئے سالانہ 19بلین ڈالر بلکہ پاکستان 7.4بلین دالرز خرچ کرتا ہے،ترکی اقوام متحدہ اور موتمر اسلامی کا بانی رکن ہے جس کی سرحدیں 8ممالک بلغاریہ،یونان،گرجستان (جارجیاٌ)آرمینیا،ایران،آذربائیجان،عراق،شام سے ملتی ہیں،ترکی میں مسلم آبادی 99.8فیصد ہے،ترکی میں تیز ترین ریلوے نظام ہے ہائی سپیڈ ٹریک کئی ہزار کلومیٹر طویل ہے،ایکسپریس ویز 65623کلومیٹر طویل ہے،ترکی کے صدر ملک کے شمالی علاقے یورپین سائیڈ پر واقع صوبہ ریزہ کے ضلع قاسم پاشا اوغلو میں 26جنوری 1954میں پیدا ہوئے ان کے والد ترکش کوسٹ گارڈ میں کیپٹن تھے،1994سے1998تک استنبول کے میئر رہے،جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کے بانی صدر جس کا بیک گراؤنڈ اسلامی پولیٹیکل،قدامت پسند،سوشل اور لبرل تھاانہوں نے دو مرتبہ ترکی عوام سے ریفرنڈم کے ذریعے بڑی حمایت حاصل کی،طیب سردگان دوران تعلیم فٹ بالر کے طور پر ابھرے بعد میں سٹوڈنٹ پالیٹکس میں آ گئے،ان کے خلاف فتح اللہ گولن نے غیر ملکی طاقتوں کے بل بوتے پر بغاوت کی مکمل کوشش کی مگر ناکام رہا،بلا شبہ ترکی صدر کی پاکستان آمد انتہائی باعث فخر ہے ہر پاکستانی ان کی یہاں آمد پر خوش ہے یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستانی اور ترک قوم کے درمیان بہت پرانا اور لازوال دوستی کا انتہائی پیارا رشتہ ہے جسے ہر پاکستانی دل سے مانتا ہے،یقیناً ان کی آمد سے تعمیر و ترقی کے نئے راستے کھلیں گے،نئے معادے ہوں گے،سرمایہ کاری کو فروغ حاصل ہو گا اور عالمی سطع پر جو بیانیہ جائے گااس سے با الخصوص محصور کشمیریوں کے عزم کوضرور تقویت حاصل ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں  داؤد خیل:بنی افغان کے رہائشی اور جانور ایک ہی جگہ سے پانی پینے پر مجبور

یہ بھی پڑھیے :

What is your opinion on this news?

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker