انور عباس انورتازہ ترینکالم

ایل ڈی اے پلازہ میں دوسری بار آتشزدگی

anwar abasنو مئی کو ایل ڈی پلازہ میں لگنے والی آگ کے اثرات پر قابو نہیں پایا جا سکا اور نہ ہی متاثر ہونے والے تین منزلوں کی از سرنو تعمیر اور مرمت مکمل ہو پائی ہے۔ابھی نومئی کی آگ کے شعلوں سے جھلسنے والے غریب خاندانوں کی آہیں اور سسکیاں نہ تھمی تھیں کہ 29 جون کو ایک بار پھر ایل ڈی اے پلازہ میں آگ بھڑک اٹھی۔جس پر کافی کوشش بیسار کے بعد ریسکیوعملے نے قابو پا لیا۔موقعہ پر موجود ایل ڈی اے کے اہلکاروں نے بتایا ہے کہساتویں منزل پر ابھی کچھ ریکارڈ جل جانے سے بچ گیا تھا۔جس میں دوبارہ ااگ لگ گئی ہے۔جبکہ ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ آگ بعض فائلوں میں لگی۔لیکن ایل ڈی اے کے ترجمان کا موقف ہے کہیہ آگ پہلی آگ سے بچ جانے والی فائیلوں میں لگی اور اس حوالے سے یہ تاثر درست نہیں ہے۔کہ بعض ریکارڈ متاثر ہو گیا ہے۔
ڈی سی او لاہور نسیم صادق نے بتایا کہ انکے علم میں یہ بات لائی گئی ہے کہ یہاں ساتویں منزل پر اب بھی کچھ فائلیں موجود تھیں۔ڈی سی او لاہور کا کہنا ہے کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ دوبارہ لگنے والی آگ اتفاقیہ حادثہ ہے ،یا اس کے پیچھے کچھ اور محرکات ہیں۔اس سلسلے میں تحقیقات کی جائیں گی۔جو بھی اس میں ملوث پایا گیا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائیگی۔دیکھتے ہیں کہ ڈی سی او صاحب اپنے اس دعوے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں اور تحقیقات کروانے اور اس سے عوام کو آگاہ کرنے کے اور ذمہ داروں کو سزائیں دینے کے اپنے وعدے پر کہاں تک عمل کرتے ہیں؟
نومئی کو لگنے والی آگ کے حقائق معلوم کرنے کے لیے بھی کوئی نہ کوئی انکوائری کروائی گئی ہوگی۔ لیکن ابھی تک اسکی رپورٹ عوام سے شئیر نہیں کی گئی۔البتہ نگران وزیر اعلی کو بتایا گیا تھا کہ ایل ڈی اے پلازہ میں نو مئی کو لگنے والی آگ کا سبب پلازے کی وائرنگ میں استعمال ہونے والی پرانی تاریں اور انکی دیکھ بھال کا فقدان تھا۔اس بات کا بھی تذکرہ ہوا کہ ایل ڈی اے پلازہ کی خستہ حالت کے باعث اسکے تین فلور جن میں ساتواں،آٹھواں اور نواں فلور شامل ہے کو منہدم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
نگران وزیر اعلی کو پیش کی گئی رپورٹکے میں کسی کے خلاف کسی قسم کی تادیبی کارروائی کرنے کی بات نہیں کی گئی اسکی وجہ یہ ہے کہ اس آتشزدگی کا کسی کو ذمہ دار ہی نہیں ٹھہرا گیا۔اب تازہ لگنے والی آگ کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ ساتویں منزل پر لاہور کی کمرشل عمارتوں کا ریکارڈ موجود تھا جن میں لاہور کی بہت ساری اہم عمارتوں کی فائلیں بھی موجود تھیں۔لگتا تو ایسا ہے کہ ۔پونے دو مہینوں میں دوسری بار آگ کے لگنے کے پس پردہ ضرور کوئی اہم منصوبہ سازی موجود ہے۔ورنہ اتنی بڑی آتشزدگی کا واقعہ خادم اعلی کی کڑی نگرانی اور عقاب صفت نگاہوں سے یہ کیسے اوجھل رہ سکتا ہے۔خادم اعلی کی جانب سے نو مئی کی آتشزدگی کے حوالے سے کوئی تیزی اور سرگرمی دیکھنے کو نہیں ملتی۔ جس کے باعث وزیر اعلی امعروف خادم اعلی پنجاب کی کارکردگی پر انگلیاں اٹھنے کا امکان بدرجہ اتم موجود ہے۔جو ان کی سیاست کے حوالے انکی سیاسی زندگی پر بڑے گہرے اثرات مرتب کرسکتی ہیں۔
جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے کہ نگران وزیر اعلی نجم سیٹھی نے بھی کوئی ایکشن لینا مناسب خیال نہیں کیا تھا۔ان سے تو اتنا بھی نہ ہوسکا تھا کہ وہ اس بدترین آتشزدگی میں جھلس کر زندگی کی بازی ہارنے والے غریب اور مسکین افراد کے گھروں میں جاکر ان کے ساتھ اظہار افسوس کر آتے اورانکی کے لواحقین کی دل جوئی کے لیے ہی دو چار میٹھے الفاظ بول آتے۔خیر اس حوالے سے کسی سیاستدان کا بھی ریکارڈ قابل ستائش نہیں رہا۔نواز شریف اور شہباز شریف سے لیکر بلاول بھٹو زرداری تک بشمول جماعت اسلامی،جمیعت علمائے اسلام فضل الررحمن،اور عمران خاں تک کسی نے بھی متاثرین کے آنسو پونچنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔بس اللہ بھلا کرے اپنے ملک کے بانتہائی پرلے درجہ کے بددیانت،کرپٹ ملک ریاض حسین آف بحریہ ٹاؤن والے کا کہ انہوں نے اس سانحہ میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کے لیے پانچ پانط لاکھ روپے کی ادائیگی کرکے غمزدہ خاندانوں کے غم کو ہلکا کرنے کی طرف قدم اٹھایا۔
مجھے اس بات کی بڑی حیرانی ہے کہ سیاست دان چاہئے مسلم لیگ نون سے تعلق رکھتے ہوں یا پیپلز پارٹی سے انکی وابستگی ہو۔سب یہی کہتے ہیں کہ کہ وہ سیاست کو کاروبار سمجھ کر نہیں کرتے بلکہ انکی سیاست عوام کی خدمت کے لیے ہے۔اور ساتھ یہ بھی دعوی کرتے ہیں کہ وہ سیاست کوعبادت سمجھتے ہیں۔ لیکن جب انکی عملی زندگی کا مشاہدہ کیا جائے تو عوامی خدمت کا جذبہ مفقود نظر آتا ہے ۔اور نہ ہی ہمیں سیاست کو عبادت کا درجہ دکھائی دیتا ہے۔اگر کچھ دکھائی دیتا ہے تو وہ لوٹ مار کا بازر گرم کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
سیاسی جماعتوں کے منشور پر ایک نظر بیشک طائرانہ ہی کیوں نہ ہو ڈالی جائے تو قومی خدمت کے بڑے بڑے دعوے تحریر کئے گے ملیں گے ۔لیکن جب یہ سیاسی جماعتیں برسراقتدار آ جاتی ہیں تو پھر انکی مرکزی قیادت سے ادنی ورکر تک سب کا’’ماٹو‘‘ یہی ہوتا ہے کہ راتوں رات کس طرح اعلی کلاس کے طبقے میں شامل ہوا جائیچاہئے اس کے لیے ’’دھرتی ماں‘‘ کا ہی سودا کیوں نہ کرنا پڑے۔
میں اپنے اصل موضوع سے ہٹ کر کہیں دور نکل گیا تھا۔لہذا واپس آتا ہوں اور خادم اعلی کی اولین ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس معاملے کی اعلی سطحی انکوائری کروائیں اور اس بات کا کھوج لگایا جائے کہ پونے دو ماہ میں دوسری بار آگ کیوں کر لگی؟اس بات کابھی کھوج لگایا جائے کہ اس گھناؤنی سازش کے پیچھے کس کاہاتھ ہے۔کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ نو مئی کو لگائی جانے والی آگ محض حادثہ نہیں تھی۔ایک باقاعدہ سازش کے تحت ایل ڈی اے پلازہ کو شعلے کے سپرد کیا گیا تھا۔اس میں وہ لوگ ہی ملوث ہوسکتے ہیں جن کے مفاد نذر آتش ہونے والے ریکارڈ سے وابستہ تھے۔انہیں بے نقاب کرنا خادم اعلی کے فرائض منصبی میں شامل ہے۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button