پاکستان

لاہور:ہائیکورٹ نے حکومت پنجاب اورایل ڈی اے سے پارکنگ پلازہ سے ہونیوالی آمدن کی تفصیلات طلب کرلیں

لاہور﴿سٹاف رپورٹر﴾ لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس شیخ عظمت سعید نے حکومت پنجاب اور ایل ڈی اے سے پارکنگ پلازہ سے ہونیوالی آمدن کی ایک دن کی تفصیلات طلب کر لیں۔ عدالت نے یہ تفصیلات دوران بحث جب ایل ڈی اے کے وکیل خواجہ سعید الظفر نے بتایا کہ پارکنگ پلازہ کی تعمیر میں 67کروڑ روپے کا کثیر سرمایہ خرچ ہوا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے بتایا کہ عوام کا پیسہ آپ نے ایک ایسے پلازے پر خرچ کر دیا ہے جہاں چند سو گاڑیاں کھڑی ہونی تھیں وہ پلازہ تعمیر کئے بغیر بھی ہو سکتیں تھیں دیکھنا یہ ہے کہ اتنی کثیر رقم نے حکومت کو کتنی آمدن ہو رہی ہے۔ محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے آج عدالت میں محمد اینڈ احمد ﴿انسانی حقوق اور مفاد عامہ کی تنظیم﴾ اور 9تاجروں کی طرف سے دائر آئینی درخواست پر بحث کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ایک چھوٹا سا نقطہ ہے کہ کیا ایل ڈی اے ماسٹر پلان میں تبدیلی کر سکتی ہے اور کیا کسی پارک یا Round About پر کوئی تعمیرات کی جاتی ہے ۔ محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ایل ڈی اے نے پارک ،گرائونڈ Round About ، خالی جگہیں PHAکو ٹرانسفر کر دیئے ہیں اور اس جگہ جہاں پر پارکنگ پلازہ تعمیر کیا گیا ہے وہاں PHAگرائونڈ کی دیکھ بھال کر رہی تھی وہاں باقاعدہ ایک پارک بنا ہوا تھا یہاں تک کہ سری لنکن ٹیم حملے میں وہاں پر کھڑی بگھی نظر آ رہی ہے اور PHAتین سال کرایہ وصول کرتا رہا ۔ جناب جسٹس شیخ عظمت سعید نے خواجہ سعید الظفر سے استفسار کیا کہ کیا ایل ڈی اے نے سیکشن (14)ایل ڈی اے ایکٹ 1975ئ کے تحت سکیم کو تبدیل کیا اور اگر تبدیل نہیں کیا تو پارک یا Round Aboutکو تبدیل نہیں کیا جا سکتا تھا۔ خواجہ سعید الظفر ایڈووکیٹ نے جوابا ً کہاں کہ پلازہ تعمیر ہو چکا ہے ، دکانیں فروخت کر دی گئی ہیں انکو فریق نہیں بنایا گیااور Lacches یعنی دیر سے آنے کا اصول لاگو ہو گا۔ محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے کہا کہ پلازہ تعمیر ہونے سے قبل احتجاج کیا گیا ، تحریری درخواست دی گئیں مگر حکومت نے کوئی توجہ نہیں دی ۔ جناب شیخ عظمت سعید نے ایل ڈی اے کے وکیل سے استسفارکیا کہ مان لیا کہ یہ دیر سے آئے ہیں یہ درخواست کے ذریعے تمام خریداروں کو فریق بنا لیتے ہیں تو کیا جو غیر قانونی کام یعنی پارک کو پارکنگ پلازہ میں تبدیل کرنے کا عمل صحیح ہو گا غیر قانونی کام کبھی بھی قانونی نہیں ہو سکتا ۔ عدالت دیکھنا چاہتی ہے کہ کس افسر نے اس پارکنگ پلازہ کی تعمیر کی اجازت دی اور کس قانون کے تحت اجازت دی ؟ ایل ڈی اے کے قانون اور Land Disposal Act کے تحت زمین کے استعمال کی نوعیت تبدیل کرنے پر سزا مقرر کی ہے ۔ آپ افسران کے نام بتائیں انکے خلاف عدالت فوجداری کاروائی کرنا چاہیے گی۔ محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے مزید بتایا کہ اس پلازہ کی تعمیر میں کروڑ وں روپے کے گھپلے ہیں عدالت نے ایل ڈی اے اور حکومت پنجاب کے وکیل سے وضاحت طلب کی کہ اس پلازہ کی ایک دن کی آمدن کیا ہے ۔67کروڑ روپے خرچ کر کے کتنی آمدن حاصل ہو رہی ہے ۔ عدالت کو اگلی تاریخ پر 19مارچ 2012ئ پارک کی جانے والی گاڑیوں سے حاصل ہونے والی آمدن کی تفصیلات مہیا کی جائے۔ اس کے علاوہ عدالت کو بتایا جائے کہ پارک کے پیچھے کس قانون کے تحت سڑکیں بند کیں گئیں ہیں ۔ عدالت جاننا چاہیے گی سڑکیں بند کرنا بھی سکیم میں تبدیلی ہے ۔ محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ بیگم احدہ شورش کشمیری کیس میں لاہور ہائیکورٹ نے ہائیکورٹ کے سامنے سڑک تعمیر ہونیوالی فوڈ سٹریٹ کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ عدالت نے اگلی تاریخ پر اس بابت بھی جواب داخل کرنے کی ہدایات جاری کر دیں۔ محمد اینڈ احمد اور شیخ محمد انیس کیس کی سماعت 5اپریل 2012ئ تک ملتوی کر دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں  عمران خان کس حیثیت میں قوم سے خطاب کریں گے؟بلاول بھٹو

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker