شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / لیڈر ہو تو ایسا ہو۔۔۔۔۔۔۔!!

لیڈر ہو تو ایسا ہو۔۔۔۔۔۔۔!!

ہمارے قائد محمد علی جناح ایک عظیم شخصیت تھے انہوں نے ملک پاکستان کا بحثیت "گورنر جنرل "قلمدان سنبھالنے کے بعد کئی ایک مد برانہ فیصلے کیے ملک کے جمہوری نظام کو ٹھوس بنیادوں پر استوار کرنے کے لئے اعلیٰ سرکاری افسروں اور حکومتی عہدیداروں سے ملاقاتوں کا سلسلہ دراز رکھا وہ چاہتے تھے کہ حکومتی وسائل کا غلط استعمال نہ ہو اور پائی پائی کا حساب رکھا جائے اور جمہوری نظام میں کوئی خرابی یا کمزوری نہ آنے پائے ایک دن کابینہ کا اجلاس بلایا گیا تھا اے ٹی سی نے قائد اعظم سے پوچھا سر اجلاس میں چائے دی جائے یا کا فی چونک کر سر اُٹھایا اور سخت لہجے میں فرمایا! یہ لوگ گھروں سے چائے یا کافی پی کر نہیں آئیں گے؟ اے ٹی سی گھبرا گیا آپ نے بات جاری رکھی جس وزیر نے چائے کافی پینی ہو وہ گھر سے پی کر آئے یا پھر گھر واپس جاکر پئیے قوم کا پیسہ قوم کے لئے ہے وزیروں کے لئے نہیں اس حکم کے بعد جب تک وہ بر سر اقتدار رہے کابینہ کے اجلاسوں میں سادے پانی کے سوا کچھ پیش نہ کیا گیا گورنر جنرل ہاؤس کے لئے ساڑھے اڑتیس روپے کا ساما ن خریدا گیا آپ نے حساب منگوا لیا کچھ چیزیں محترمہ فاطمہ جناح نے منگوائیں تھیں حکم دیا یہ پیسے انکے اکاؤنٹ سے کاٹے جائیں دو تین چیزیں ان کے ذاتی استعمال کے لئے تھیں فرمایا یہ پیسے میرے اکاؤنٹ سے لے لئے جائیں باقی چیزیں گورنر ہاؤس کے لئے تھیں کہا ٹھیک ہے کہ یہ رقم سرکاری خزانے سے ادا کر دی جائے لیکن آئیندہ احتیاط کی جائے برطانوی بادشاہ کا بھائی ڈیوک سفیر آف ا لسٹر پاکستان کے دورے پر آرہا تھا برطانوی سفیر نے سفارش کی آپ خوش آمدید کہنے کے لئے ائیر پورٹ چلے جائیں ہنس کر کہا میں تیار ہوں لیکن جب میرا بھائی لندن جائے گا تو پھر برٹش کنگ کو بھی اس کے استقبال کیلئے ائیر پورٹ آنا پڑے گا ایک روز اے ٹی سی نے ایک وزٹنگ کارڈ سامنے رکھا آپ نے کارڈ پھاڑ کر پھینک دیا اور فرمایا اسے کہو آئیندہ مجھے شکل نہ دکھائے یہ شخص آپ کابھائی تھا اس کا قصور صرف یہ تھا کہ اس نے اپنے نام کے نیچے برادر آف قائد اعظم محمد علکی جناح لکھوا دیا تھا زیارت میں سردی پڑ رہی تھی کرنل الٰہی بخش نے نئے موزے پیش کر دئیے دیکھے تو بہت پسندآئے ریٹ پوچھا کرنل نے کہا 2روپے گھبرا کر بولے یہ تو بہت مہنگے ہیں ہنس کر بتایا سر یہ تو آپ کے اکاؤ نٹ سے خریدے گئے ہیں فرمایا میرا اکاؤنٹ بھی تو قوم کی امانت ہے ایک غریب ملک کے سربراہ کو اتنا عیاش نہیں ہونا چاہئیے موزے لپیٹے اور کرنل الٰہی بخش کو واپس کرنے کا حکم دے دیا زیارت میں ہی ایک نرس کی خدمت سے متاثر ہوئے اور اس سے پوچھا بیٹی میں تمہاری کیا خدمت کر سکتا ہوں نرس نے عرض کی سر میں پنجاب سے ہوں میرا سارا خاندان پنجاب میں ہے میں اکیلی کوئٹہ میں نوکری کر رہی ہوں آپ میری ٹرا نسفر پنجاب کروادیں اداس لہجے میں جواب دیا سوری بیٹی یہ محکمہ صحت کا کام ہے گورنر جنرل کا نہیں اپنے طیارے میں رائٹنگ ٹیبل لگوانے کا آرڈر دے دیا فائل وزارت خزانہ پہنچی تو وزیر خزانہ اجازت تو دے دی لیکن یہ نوٹ لکھ دیا گورنر جنرل اس قسم کے احکامات سے پہلے وزارت خارجہ سے اجازت کے پابند ہیں آپ کو معلوم ہوا تو وزارت خزانہ سے تحریری معذرت کی اور اپنا حکم منسوخ کر دیا اور رہا پھاٹک والا قصہ تو کون نہیں جانتا گل حسن نے آپ کی گاڑی گذارنے کے لئے ریلوے کا پھاٹک کھلوا دیا آپ کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا پھاٹک بند کروانے کا حکم دیا اور فرمایا اگر میں ہی قانون کی پابندی نہیں کروں گا تو کون کرے گا یہ آج سے 70برس سے پہلے کاپاکستان تھا وہ پاکستان جس کے سربراہ محمد علی جناح تھے لیکن پھر ہم ترقی کر تے کرتے اس پاکستان میں آگئے جس میں پھاٹک تو ایک طرف رہے سربراہ مملکت کے آنے سے ایک گھنٹہ پہلے سڑکوں کے تمام سگنلز بند کر دئیے جاتے ہیں دونوں اطراف ٹریفک نہیں کھلتا جس میں سر براہ مملکت وزارت خزانہ کی اجازت کے بغیر جلسوں میں کروڑوں روپے کا اعلان کردیتے ہیں وزارت خزانہ کے انکار کے باوجود پورے پورے جہاز خرید لئے جاتے ہیں جس میں صدر اور وزیر اعظم کے احکامات پر سینکڑوں لوگ بھرتی کئے گئے اور اس نے ہی لوگوں کو ضابطے اور قانون توڑ کر ترقی دی گئی جس میں موزے تو رہے ایک طرف بچوں کے پوتڑے تک سرکاری خزانے سے خریدے گئے جس میں آج ایوان صدر اور وزیراعظم کا بجٹ کروڑوں اور اربوں روپے ہے جس میں ایوان اقتدار میں عملاً بھائیوں، بھتیجوں، بھانجوں، بہنوں، بہنویوں اور خاوند کا راج رہا جس میں وزیر اعظم ہاؤس سے سیکر یٹر یوں کوفون کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ میں صاحب کا بہنوئی بول رہا ہو ں جس میں امریکہ کے نائب صدر کے استقبال کے لئے پوری حکومت ائیر پورٹ پر کھڑی دکھائی دیتی ہے اور جس میں چائے اور کافی تو رہی دور کابینہ کے اجلاس میں پورا لنچ اور ڈنر پیش کیا جاتا ہے اور جس میں ایوان صدر اور وزیر اعظم کے ہاؤ س کے کچن پر ہر سال کروڑوں روپے دھواں بنا کر اڑا دیتے ہیں یہ پاکستان کی وہ ترقی یافتہ شکل ہے جس میں اس وقت کروڑوں غریب غربت کی لکیر سے نیچے رہ رہے ہیں جب قائد اعظم گورنر جنرل ہاؤس سے نکلتے تھے تو ان کے ساتھ پولیس کی صرف ایک گاڑی ہوتی تھی اس گاڑی میں صرف ایک انسپکٹر ہوتا تھا اور وہ بھی غیر مسلم تھا اور یہ وہ وقت تھا جب گاندھی قتل ہو چکے تھے اور قائد اعظم کی جان کو سخت خطرہ تھا قائداعظم اس خطرے کے با وجود سیکورٹی کے بغیر روز کھلی ہوا میں سیر کرتے تھے لیکن آج کے پاکستان میں سربراہ مملکت ماڈرن بلٹ پروف گاڑیوں ماہر سیکورٹی گارڈ اور انتہائی تربیت یافتہ کمانڈوز کے بغیر 10کلو میٹر کا فاصلہ طے نہیں کر سکتے ہم اس ملک میں مساوات رائج نہیں کر سکے اور ہم اسے جدید ترقی یافتہ اور پُر امن ملک نہیں بنا سکے نہ بنائیں لیکن ہم اسے واپس 1948تک تو لے جاسکتے ہیں ہم اسے 70سال پرانا پاکستان تو بنا سکتے ہیں کوئی ہے جو ہم سے یہ ترقی یہ خوشحالی اور یہ عروج لے لے اور ہمیں ہمارا پسماندہ غریب اور غیر ترقی یافتہ پاکستان واپس کر دے جو ہمیں قائد اعظم کا پاکستان واپس کردے کہ اس ملک کے عوام کو 2018کے بجائے 1948کا پاکستان چاہئیے

یہ بھی پڑھیں  پوری طاقت کے ساتھ ریاست کا دفاع کیا جائے گا ، خواجہ آصف

What is your opinion on this news?