تازہ ترینکالممرزا عارف رشید

لیٹر لکھنا بہت آسان ہو تا ہے اور خود سے عمل کرنا بہت مشکل

مثالیں دینا بہت آسان ہوتا اُس پر عمل کرنا بہت مشکل کام ہے مثال دینے والا اپنی اصلا ح تو نہیں کرتا دوسرے کو مشورہ ضرور دیتا ہے ہم انگریز کی مثال کیوں دیتے ہیں جب کہ ہم مسلمان ہیں ہماری اپنی تاریخ مثالوں سے بھری پڑی ہے ہم صحابہ کرام کی مثال دینا کیوں پسند نہیں کرتے ہمارا ذہن ابھی تک غلام ہے اور غلامی کی باتوں کو یاد کرنا اور یہ کہنا کہ ہم سے انگریز بہتر تھا تو غلط ہو گا ۔ لفظ بہت انمول ہوتے ہیں بزگ کہتے تھے پہلے تول پھر بول اقتدار کا آجانا کوئی بڑی بات نہیں ہوتی اس کے جانے کے بعد لوگوں کے دلوں زندہ رہنا اور اُس کے سُہنری دور کو زندہ رکھنا بڑی بات ہوتی ہے قومیں کبھی غلام نہیں ہوتی جب تک ضمیر زندہ ہو کوئی کسی کو غلام نہیں بنا سکتا مسلمانوں نے آزادی غلامی کے لیے بہت بڑی قربانیاں دی ہے ایک منصب پر بیٹھ کر غلامی کی بات کرنا اور ساتھ تین لفظوں کا استمال کرنا چوری جرم اور غداری ان تین باتوں کا جواب یہ ہے انسان چوری تب کرتا ہے جب اُس کے پاس کھانے کو نہ ہو اگر اچھا کھانے کو مل جائے کوئی بھی چوری نہیں کرے گا اقتدار میں بیٹھے چور کسی کو نظر نہیں آتے جیتنی بڑی چوریاں پکڑی گی اُ ن میں شامل غریب کم اور بڑے لوگ زیادہ ہوتے ہیں غریب پکڑا جائے تو جرم بن جاتا ہے امیر شہر پر کوئی قانون لاگوں نہیں ہوتا ؟غداری ہمشہ اقتدار کے منصب پر بڑے بیٹھے لوگ کرتے ہیں نہ کہ عام آدمی اپنے وطن کا غدار ہوتا ہے تاریخ اُٹھا دیکھ لیں اداروں میں آ فیسر کا غُصہ اپنے سے چھوٹے پر ہی کیوں نکلتا ہے حق کی بات بڑے آفیسرسے کیو ں نہیں کی جاتی سب سے پہلی غلطی بڑے آفیسر سے ہی ہوتی ہے لیکن سزا اپنے سے چھوٹے کو کیوں دی جاتی ہے ہمارے یہاں کوئی اپنی غلطی مانتا ہی نہیں دو دن پہلے کی بات ہے مجھے ایک لیٹر ملا میں پڑھ کر پہلے حیران ہوا پھر پریشان ہوا پھر تھوڑاہنس دیا اس لیٹر کو میں اپنے کالم میں لکھ رہا ہوں ایک ادار ے کے سربراہ نے اپنے ادارے کے تمام برانچوں کے کلر کوں کو ایک لیٹر لکھا یہ لیٹر صرف کلرکوں کو ہی کیوں لکھا گیا آفیسرن کو ان میں شامل کرنا ضروری نہیں تھا ملک میں یا پھر اداروں میں جرم صرف کلرک کرتا افسوس جس طرح انہوں اپنے ادارے کو لیٹر لکھا اگر ان کی ایک کاپی اپنے لیڈروں کو بھی ارسال کرتے اور جس طرح کی مثال اپنے اداروں میں کلرکوں کو دیناضروری سمجھا ویسے ہی لیڈر بھی ان کے عظیم کار نامے پر غور کرتے کہ ملک میں کیا ہو رہا ہے اور جھوٹ جرم اور غداری ملکی مسلہ ہے عوام کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے غداری میں کون کون ملوث ہے ملک میں غداری ادراے میں بیٹھا عام کلرک نہیں کرتا جس جھوٹ کی بات موصوف نے کی سب سے زیادہ جھوٹ ادارے کے سربراہ بولتے ہیں اسمبلی کے فورم پر کون جھوٹ بولتا رہا ایک طرف جھوٹ کو سیاسی بیان کا نام دیا جاتا ہے اد ا ر ے کا سربراہان دفتر میں موجود ہوٹھنڈی گاڑی سے نکل کر ٹھنڈے کمرے میں بیٹھ آڈر کرتے ہیں بات کرنا بہت آسان ہوتا ہے کمرے کے باہر کھڑا ہونے والا چپڑاسی گرمی ہو یا پھر سردی اپ کے لیے جھوٹ بولتا ہے صاحب میٹنگ میں ہیں کبھی خیال آیا کہ کس طرح ہم اس کو اپنے لیے استعمال کرتے ہیں جھوٹ جرم اور غلطی چپڑاسی نہیں کرتا بلکہ ادارے کے سربراہ پہلے کرتے ہے پھر چپڑاسی کرتا ہے سب سے پہلے اپنی اصلاح کرنا ضروری ہے بعد میں الزام تراشی اچھی لگتی ہیں شرمندہ ادارے میں کام کرنے والے نہیں بلکہ اُن کو ہونا چاہیے جو ان سے غلط کام کرواتے ہیں ندامت کا جذ بہ جب تک سربراہ میں نہیں ہوگا تب تک دوسروں میں نہیں آئے گا ۔ عنوان لیٹر کچھ اس طرح سے ہے ملکہ برطانیہ کے نام ایک خط ۔ برصغیر پاک و ہند یعنی موجودہ پاکستان پر برطانیہ کی حکمرانی کے دور ان ایک انگریز آفیسر کا تبادلہ یورپ سے برصغیر میں کردیا گیاکچھ عرصہ اس غلام علاقے میں رہنے کے بعد انگریزآفیسر شدید ڈیپریشن کا شکار ہو گیا برصغیر سے ٹرانسفر کیلئے کوشیش شروع کردی جب ہر طرف سے ناکام ہوا تو ملکہ برطانیہ کے نام ایک عجیب خط لکھا کہ ملکہ عالیجاہ مجھے سزاکے طور پر ایک ایسے علاقہ میں ٹرانسفر کیا گیا جس علاقہ کے لوگ غلط کام یا کوتاہی پو شرمندہ نہیں ہوتے انگریز نے مزید لکھا کہ جب میں کسی غلطی یا کوتاہی پر یہاں کے کسی ماتحت مقامی سرکاری ملازم کو ڈانٹتا ہوں تو وہ شرمندہ ہونے کی بجائے دانت دکھا کر ہنس کر دیکھتا ہے غلطی کی اصلاح کرنے کی بجائے غلطی دہراتے ہیں یہ انسانی فطرت کے خلاف انسان ہیں ان لوگوں میں شرمندگی اور ندامت کا جذبہ موجود نہیں خط کے آخر میں دوٹوک بات کی کہ مجھے بلا تاخیر یہاں سے ٹرانسفر کیا جائے یا میرا یہ خط استعفیٰ سمجھ کر منظور کیا جائے لکھنے والا انگریز اور جواب دینے والی ملکہ برطانیہ جواب میں ملکہ برطانیہ نے لکھا کہ اگر برصغیر کے لوگ غلطی پو شرمندہ ہوتے کوتاہی اور کوتاہی پر ہنسنے کی بجائیاپنی اصلاحکرتے توپھر ہم انگریز دس ہزار میل دور سے آکرانہیں غلام نہ بناتیان پر حکمرانی نہ کرتے ہم حاکم یہ محکوم نہ ہوتییہ لوگ ہمیں اپنے وطن پر قبضے کا موقع نہ دیتے یہاں کے مقامی لوگوں کی اس فطرتنے ہمیںآقااور انہیں غلام رعایا کا منصب دیا غلط کام پر شرمندگی اور ندامت کا جذبہ ہوتا تو انسان انسان رہتا ہے وارنہ انسان دوٹانگوں والا انسان نما جانوار سمجھا جاتا ہے جنگ عظیم دوئم کے بعد انگریز چلے گئے مگریہاں کے لوگوں فطرت نہیں بدلی چپڑاسی سے لیے کر آفیسر تک غلطی پر شرمندہ نہیں ہوتے غلطی تو معمولی بات ہے ہم تو جھوٹ جرم اور غداری پر بھی شرمندہ نہیں ہوتے ۔یہ تھا ملکہ برطانیہ کا جواب اس کے بعد موصوف اپنی طرف سے لکھتے ہیں آئیں ہم سب ملکر یہ عہد کریں کہ ملکہ برطانیہ کی بات کو کم ازکم کارپوریشن کی حد تک غلط ثابت کریں گے ہم پہلے تو یہ عہد کریں گے کہ ہم غلطی نہیں کریں گے اور اگر غلطی ہو جائے تو اپنی اصلاح کی کوشیش کریں گے اس ادارہ کو بہترین ادارہ بنائیں گے ۔ ادارے انسان بناتے نہ کہ انسان کو ادارے بناتے ہیں جس لیٹر میں ایک انگریز کو ہم اتنی اہمیت دے رہے ہیں بہتر ہوتا ہم اپنے صحابہ کرام کی باتوں کو اہمیت دیتے ہمارے صحابہ کرام نے پوری دنیا پر حکمرانی افسوس جس طرح کی مثالیں ہم دیتے ہیں اس طرح انگریز سچا اور مسلمان جھوٹا لگتا ہے تاریخ لکھنے والا یہ بات ضرور لکھے گا کہ مسلمان حکمران اداروں کو کس طرح چلایا ۔جب دفتر بند ہونے کا وقت ہوتا تھا تب سربراہ اپنے دفتر میں تشریف لیے کر آتے تھے اور اپنے ہی اداروں میں آفیسر کو غلام سمجھ کر کام لیتے تھے کون سا ایسا ادار ہ ہے جس میں ادارے کا سربراہ وقت پر آتا ہے سربراہ کو اپنے ہی ادارے میں برانچوں کا بھی علم نہیں ہوتا گاڑی سے اُتر کر اپنے دفتر میں دفتر سے نکل کر گاڑی میں اور کچھ نہیں جس دن اپ دفتر میں ٹائم سے آکر کام کرنا شروع کر دیں گے پھر نہ کوئی غلطی کرے گا اور نہ کوئی جھوٹ بولے گا نہ ہی پھر غدار اس ملک کو نقصان دے دے سکے گا اداروں کو مظبوط کرنا سربراہ کا کام ہوتا ہے نہ کہ لیٹر لکھنا نہیں ہوتا پورے ملک میں اگر نظر ڈالی جائے تو اداروں سب اپنے ملک کے لیں کام کرنا چاہتے ہیں لیکن اُن سے کام نہیں لیا جاتا اگر ایک عہد کریں کہ اب جب بھی کوئی مثال دینا ہوگی ہم اپنے صحابہ کی مثال دے گے نہ کہ کسی انگریز کی ہمارادین سچا ہے اور ہم نے اسلام کا بول بالا کرنا ہے ایک اور عہد کریں کہ ہم نے اپنے ادارے کے مفاد میں کام کرنا ہے کل اپ نے نہیں ہونا اور اپ کی مثال اس ادارے میں بیٹھا وہی آفیسر دے گا جس کی بات آج اپ کر رہے ہے پہلے خود کو بدلنا ہو گا بات کرنا اور لیٹر لکھنا بہت آسان ہو تا ہے ؟؟؟؟

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!