انور عباس انورتازہ ترینکالم

وزیر اعظم لیاقت علی خان کس قتل پاکستان کے مستقبل اور جمہوریت پر وار تھا

anwar-abas-logoنوابزادہ لیاقت علی خان تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کا تذکرہ جن کے ذکر کے بغیر ادھورا ہے،وہ نہ صرف پاکستان کے بانیوں میں سے تھے ،بلکہ ایک سوچ ،نظریے کا نام لیاقت علی خان تھا ، انہیں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم ہونے کا بھی اعزاحاصل تھا، قائد اعطم کا انہیں وزیر اعطم مقرر کرنا اس بات کی دلیل تھی کہ انہیں قائد اعطم کا مکمل اعتماد حاصل تھا، انکے وزیر اعظم مقرر کیے جانے کے بعد ان افواہوں کی نفی ہوگئی جن میں کہا گیا کہ قائد اعظم نے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ میری جیب میں کھوٹے سکے تھے، انہوں نے اپنی وزارت عظمی کے دور میں ملک کو سیاسی و معاشی استحکام دینے کی ہر ممکن جدوجہد کی اور ملک کو ایک نئی معیشت سے متعارف کرایا ، نوابزادہ لیاقت علی خان کی حکومت نے تین بجٹ پیش کیے لیاقت علی خان شہید کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انہوں نے متحدہ ہندوستان کے وزیر خزانہ کی حثیت سے آخری بجٹ بھی پیش کیا اور وہ ایسا بجٹ تھا جسے قبول عام کی سند حاصل ہوئی اسکے بعد کسی بجٹ کوئی ایسی قبولیت نہیں نصیب ہوئی معروف ماہر اقتصادیات ڈاکٹر رفیق احمد کہتے ہیں کہ’’ تاریخ میں اس بجٹ کو غریبوں کا بجٹPoor Man”s budget کانام دیاگیا ،کیونکہ اس کا رخ امیروں سے دولت لیکر غریبوں کی جانب منتقل کرناتھا اور اس انداز سے کہ غریب طبقوں اور غریب علاقوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے میں مدد دی جائے ‘‘ بقول ڈاکٹر رفیق احمد اس بجٹ کو پیش کرتے وقت انہوں نے واضع طور پر کہا کہ’’ وہ قرآن مجید اس فرمان پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ دولت کو دولت مندوں کے گرد گھومنے کی اجازت نہ دی جائے اور سرمائے کو چند ہاتھوں میں مرتکز ہونے سے بچایا جائے ‘‘قیام پاکستان کے بعد پیش کیے جانے والے بجٹوں میں بھی ایسی تجاویز رکھی گئیں کہ جن سے تحریک پاکستان کے صحیح جذبوں کی ترجمانی اور عکاسی ہوتی اور دین اسلام کی تعلیمات کی واضع جھلک دکھائی دیتی تھی،
نوابزادہ صاحب نے نوابزادہ رستم علی خان کے ہاں یکم اکتوبراٹھارہ سو پچانوے کو جنم لیا اور اسے عجیب اتفاق کہا جا سکتا ہے کہ آج سے چونسٹھ سال قبل نوابزادہ لیاقت علی خان اکتوبر کے ہی دوسرے ہفتہ میں سولہ اکتوبر انیس اکیاون میں ’’ چٹے دن‘‘ راولپنڈی کے کپمنی باغ میں گولی مار کر شہید کردئیے گئے، اسی کمپنی باغ کو قائد ملت لیاقت علی خان کے نام منسوب کردیاگیا، شہادت کے وقت وہ ملک کے وزیر اعطم ہونے کے ساتھ ساتھ وزیر دفاع،دولت مشترکہ اور امور کشمیر کے وزیر کی خدمات بھی سرانجام دے رہے تھے۔سولہ اکتوبر انیس سو اکیاون کو لیاقت خان کو شہید نہیں کیا گیا تھا بلکہ ان کو گولی مار کر ’’پاکستان سے جمہوریت‘‘ کو دیس نکالا دینے کی بنیاد رکھ دی گئی،
کہا جاتا ہے کہ ان پر گولی سید اکبر نامی شخص نے چلائی لیکن سکیورٹی کے معاملات کے ذمہ داروں نے ان کے قاتل سید اکبر کو زندہ گرفتار کرنے کی بجائے اسے موقعہ پر ہی موت کے گھاٹ اتار دیا جس سے پہلے وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان اور جمہوریت کے قتل کی سازش پر سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پردہ ڈالدیا گیا،آج نصف صدی سے زائد عرصہ بیت جانے کے بعد بھی پاکستان کے پہلے وزیر اعطم لیاقت علی خان کی موت کا تعین کیا جا سکا ہے اور نہ ہی مجرموں کی نشان دہی۔۔۔ اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی پراسرار انداز میں وفات بھی معمہ بنی ہوئی ہے،ان کی شہادت سے ملک سے تحمل، بردباری، برداشت اور رواداری کی سیاست کے باب کو دفن کیا گیا ،ان کے قتل کے محرکات کیا تھے اور کون عناصر انہیں اپنے لیے خطرہ سمجھتے تھے یہ راز راز ہی میں رکھنے کو ترجیح دی گئی، بعد میں آنے والی برسراقتدار حکومتوں کو عدم استحکام سے دوچار رکھ کر انہیں اس جانب سوچنے اور کوئی فیصلہ اور اقدام کرنے کی مہلت نہ دی گئی آئے ، پاکستان جیسی نوزائیدہ ریاست سے جمہوریت کو بیدخل کرنے کے لیے غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں نے ہمارے ملکی ایجنٹوں کی مدد سے سازشی ذہن کے ماسٹر بیوروکریٹ غلام محمد کو گورنر جنرل پاکستان بنوا یا اور پاکستان جسے قائد اعطم اور لیاقت علی خان اسلامی اصولوں کی راہنمائی میں جدید فلاحی مملکت بنانا چاہتے تھے جس میں دولت ایک طبقہ کے ہاتھوں میں نہ گھومتی رہے۔
لیاقت علی خان کی شہید کرنے کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی اور سکیورٹی کے معاملات پر جس قسم کی توجہ دینی چاہیے تھی وہ نہ دی گئی پاکستان کے وزیر دفاع ، وزیر کامرس اور سب سے اہم یہ کہ وزیر اعظم کی حثیت سے انہیں جس فول ہروف سکیورٹی کی ضرورت تھی وہ دور دور تک دکھائی نہ دی جس کے باعث وزیر اعظم کے آس پاس بہت سارے مسلح لوگ بھی پہنچنے میں کامیاب ہوگئے یا انہیں پہنچنے کا موقعہ فراہم کیا گیاجنہوں نے گولی چلتے ہی ہوائی فائرنگ شروع کردی جس سے جلسہ گاہ میں بھگدڑ مچ گئی جس بہت سے لوگ زخمی ہوئے اور قاتل کو فرار کا موقعہ ملا، اس سازش میں بعض حکومتی وزرا کو بھی شریک کیا جاتا ہے،ان اطلاعات کے مطابق خواجہ ناظم ایدین نتھیاگلی اور غلام محمد راول پنڈی میں موجود ہونے کے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے ساتھ جلسہ میں شریک نہ ہوئے ، مشتاق گورمانی، اس وقت ہسپتال تشریف لائے جب ان کی موت کی تصدیق ہوگئی تو مردہ وزیر اعظم کے جسد خاکی کو ہسپتال ہی میں چھوڑ گھر کو روانہ ہوگئے،کہتے ہیں کہ وزیر اعظم کے قتل کے وقت اس ملک کے سکریٹری دفاع سکندر مرزا جو بعد میں اس ملک کے صدر کے منصب جلیلہ پر فائز ہوئے کراچی میں کسی کھیل کے میدان میں اپنے جوہر دکھانے میں مصروف تھے اور انہوں نے بھی فوری طور پر راولپنڈی پہنچنے کی زخمت اور ضرورت محسوس نہ کی۔
پاکستان کے پہلے وزیر اعظم جس نے اس ملک کے قیام کے لیے اپنے تن ،من اور دھن کو قربان کرنے کے لیے ذرا بھی دریغ نہ کیا اس کے قتل کی نہ تو کوئی ایف اائی آر درج ہوئی اور نہ ہی کسی پر مقدمہ چلا محض ایک انکوائری کروائی گئی تاکہ وزیر اعظم کے قتل کا باعث بننے والی غفلت اور کاتاہیوں کا تعین کیا جائے،
کس قدر ستم ظریفی ہے کہ ملک کے وزیر دفاع و کامرس اور وزیر اعظم کو قتل کردیا گیا اور انکی وزارتوں کے سکریٹری،فوج کے سربراہ، حتی کہ انکی اپنی کابینہ کے وزرا نے قتل گاہ پہنچ کر حالات کا جائزہ لینا قطعا پسند نہ کیا اور نہ ہی وزیر اعظم کے قتل کی ایف ٓائی اار کا اندراج کروانا مناسب خیا ل کیا گیا۔۔۔ ان سارے واقعات اور حالات سے صاف عیاں ہوتا ہے کہ انہیں ایک باقاعدہ منصوبے اور سازش کے تحت قتل کیا گیا اور قتل کی ایف ٓائی آر کا درج نہ ہونے دینا بھی سازش اور منصوبے کا حصہ تھا۔۔۔ اگر پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علیخان اور قائد اعظم کی پراسرار موت کے ذمہ داروں کو کیفرکردار تک پہنچا دیا جاتا تو نہ پاکستان دو لخت ہوتا اور نہ ہی ذوالقار علی بھٹو کو عدالت کے ذریعہ منظر سے ہٹانے، ضیا ع الحق کو فضا میں راکھ کا ڈھیر بنانے، مرتضی بھٹو کو انکے گھر کے باہر قتل کرنے اور بے نظیر بھٹو کو راولپنڈی کے اسی باغ میں شہید کرنے کی ہمت اور جرآت پیدا ہوتی جس باغ میں پہلے وزیر اعظم کو قتل کیا گیا،آج بھی وطن عزیز میں جمہوریت دشمن عناصر سرگرم عمل ہیں ،انکی بھرپور کوشش ہے کہ ملک کو جمہوریت کی پٹڑی سے اتار دیا جائے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اب اگر ملک کو جمہوریت سے محروم کیا گیا تو پھر شائد اس ملک کو دوبارہ جمہوریت کی پٹڑی پر لانے کے لیے صدیاں لگ جائیں ۔۔۔ اگر اب بھی ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے کو سنجیدہ کوشش نہ کی گئی تو ایسے واقعات مستقبل میں بھی ہوتے رہیں گے اوراس ملک کو جمہوری ،جدید فلاحی ریاست بنانے کا جو خواب بانی پاکستان اور انکے رفقاء کار نے دیکھا تھا اسے کبھی شرمندہ تعبیر نہ کرپائیں گے

یہ بھی پڑھیں  گلوکارہ حمیرا ارشد اور ان کے خاوند احمد بٹ کے درمیان صلح ہوگئی

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker